بریکنگ نیوز
Home / کالم / ریاست کے قوانین

ریاست کے قوانین


انجام کار وزیراعظم صاحب نے اگلے روزآڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آسامی جو کئی ماہ سے خالی پڑی تھی اسے پرُ کر ہی دیا اگر میڈیا میں اس معاملے میں شورو غوغا نہ اٹھتا تو شاید یہ اہم آسامی اب بھی خالی ہی رہتی دراصل ہمارے حکمران آڈٹ کے نام سے ہی لرز اٹھتے ہیں انکے معاملات کا اگردرست آڈٹ شروع ہو جائے تو ان میں شاذ ہی کوئی فرد صادق اور امین ٹھہرے ‘ آڈیٹر جنرل آف پاکستان ایک آئینی منصب ہے اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے تما م اخراجات پر اپنے عملے کے ذریعے عقابی نظر رکھے نہ صرف یہ کہ وہ ان حکمرانوں سے بازپرس کرے کہ جو غیر قانونی اخراجات کریں بلکہ غیر قانونی اخراجات کرنیوالوں کیخلاف قانونی کاروائی بھی کرے لیکن ہم نے آج تک کوئی ایسا آڈیٹر جنرل نہیں دیکھا کہ جس نے اپنے فرائض منصبی سے پورا انصاف کیا ہو اور اپنی ذمہ داریوں کے تقاضے پورے کئے ہوں آڈیٹر جنرل آ ف پاکستان کی آسامی عرصہ دراز سے ایک نمائشی قسم کی پوسٹنگ بن کر رہ گئی ہے کہ جس کا نام تو بہت ہے لیکن کام نام کی مناسبت سے بہت کم‘ یقین کیجئے کہ اس ملک میں اگر آڈیٹر جنرل آ ف پاکستان کے دفتر سے منسلک افراد اوپر سے نیچے تک اس بات کو یقینی بنا دیں کہ اہم سرکاری محکموں کو جو سالانہ بجٹ دیا جاتا ہے اس کا استعمال قانون کے عین مطابق ہو رہا ہے تو ٹیکس دہندگان کے کروڑوں روپے جو اس وقت غلط استعمال ہو رہے ہیں اور کمیشن اور رشوت کی صورت میں پرائیویٹ جیبوں میں جا رہے ہیں ان کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے قومی اسمبلی میں بھی ایک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی موجود ہے کہ جس کے اجلاس بڑے تواتر سے ہوتے ہیں صوبوں میں بھی اس قسم کے کئی مانیٹرنگ ادارے موجود ہیں ہم نے تو آج تک ان اداروں کو کسی بڑی مچھلی کو پکڑتے نہیں دیکھا اگر کوئی بے چارہ پکڑا بھی گیا تو نچلے کیڈر میں کام کرنے والا سرکاری اہلکار پکڑا گیا کہ جس نے چند ہزار روپوں کا ہیر پھیر کیا ہوتا ہے اور اس کو بھی کسی بڑے افسر کو بچانے کیلئے قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔

سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے کا ہیرپھیر کرنے والوں کو نہ تو ہم نے نوکری سے برخاست ہوتے دیکھا اور نہ ہی غبن شدہ سرکاری پیسے ان سے ریکور کئے گئے اورنہ ہی ان کی جائیداد کی کبھی پڑتال ہوئی اگر آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے ادارے کو ہی مکمل آزادی دے دی جاتی کہ وہ سرکاری خزانے کے استعمال پر کڑی نظر رکھے اور اسکے غلط استعمال کرنیوالوں پر سخت ہاتھ ڈالے تو یقین کیجئے نیب جیسے ادارے کی تشکیل کی نوبت ہی نہ آتی آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تقرری کے وقت اس بات کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہوتا ہے کہ جس سرکاری اہلکار کو اس منصب پربٹھایا جا رہا ہے اسکی عمومی شہرت کیسی ہے اس کا سروس ریکارڈ کیسا ہے ؟ یقیناًدیانتدار اور بے داغ قسم کے سرکاری اہلکار حکومت کو ہر محکمے میں مل سکتے ہیں بشرطیکہ اس کی اپنی نیت ٹھیک ہو اور وہ اعلیٰ آسامیوں پر اپنے منظور نظر اہلکاروں کو تعینات کرنے کا ارادہ نہ رکھتی ہواپنے ہاں تو سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر حکمران اہم سرکاری مناصب پر چن چن کر ایسے اہلکار تعینات کرتا ہے کہ جو اس کے ہر جائز و ناجائز حکم پر لبیک کہے ایس ای سی پی کے چیئرمین ظفر حجازی جیسے بندوں کی حکومت کوتلاش ہوتی ہے کہ جو قانون کی کتاب کے غلام نہ ہوں بلکہ اس کے تابع ہوں‘ حکمرانوں کو تو خصوصی طور پر شرم آنی چاہئے کہ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے اس حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے پر سرکاری اہلکاروں کو مجبور کرتے ہیں کہ جن میں بانی پاکستان نے سرکاری اہلکاروں کو تلقین کی تھی کہ یاد رکھو تم صرف اور صرف ریاست اور اس کے قوانین کے تابع ہو تم بالکل حکومت وقت کا کوئی وہ حکم نہ مانو کہ جو غیرقانونی ہو ۔