بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خیبر پختونخوا کابینہ کے فیصلے

خیبر پختونخوا کابینہ کے فیصلے

خیبر پختونخوا کابینہ کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا اہم نکات پر مشتمل تھا ‘ کابینہ کے فیصلے وقت کی ضرورت کے تحت اہمیت کے حامل ضرور ہیں تاہم ان کا ثمر آور ہونا عمل درآمد کیلئے مؤثر مکینزم سے مشروط ہے ‘ صوبے میں این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والے ملازمین کی مستقلی کا فیصلہ قابل اطمینان ہے کیونکہ کنٹریکٹ ختم ہونے پر ملازمین دوسری ملازمت کے حوالے سے بعض کیسوں میں عمر سے متعلق شرائط پر پورا نہ اترنے کے باعث روزگار نہیں پا سکتے تاہم ایسے ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے دیگر شرائط کیساتھ کارکردگی کو بھی دیکھا جانا ضروری ہے ‘ اس سب کیساتھ کنٹریکٹ ملازمین کو بھی بلا امتیاز دوسری ملازمتوں کیلئے عمر کی حد میں ریگولر ملازمین کی طرز پر مناسب رعایت دینا ضروری ہے ‘ صوبائی کابینہ میں منظور ہونے والاپبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا قاعدہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تناظر میں ایک اچھا فیصلہ ضرور ہے تاہم اس حقیقت کو مد نظر رکھنا ہو گا کہ موجودہ سیٹ اَپ میں بھی سرمایہ کاری کیلئے سرکاری دفاتر کے چکر اور رنگ برنگے ٹیکس انویسٹرز کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جب تک خدمات کا معیار بہتر نہ ہو حکومتی قاعدے قانون بے ثمر ہی رہتے ہیں۔

‘ انویسٹرز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں دی جانے والی مراعات اور سہولیات صرف ان کے اپنے اکاؤنٹس کا حجم بڑھانے کیلئے نہیں ہونی چاہئیں انہیں اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ پبلک فنڈز سے ملنے والی مراعات کا فائدہ پبلک تک پہنچائیں ‘ انسانی اعضاء کی پیوند کاری کیلئے سہولیات کی فراہمی سے متعلق قواعد کی منظوری حکومتی ترجیحات اور صحت کے شعبے میں اصلاحات کی عکاس ہیں تاہم اس تلخ حقیقت کو مد نظر رکھنا ہو گا کہ اس سیکٹر میں اب تک کی اصلاحات مریضوں کیلئے ریلیف کا ذریعہ ثابت نہیں ہوسکیں اربوں روپے کے فنڈز ریلیز ہونے کے باوجود لوگ پبلک سیکٹر سے مایوس ہوکر نجی ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جس کا جائزہ لیکر اصلاح احوال کیلئے اقدامات اٹھانا ضروری ہے حکومت کو کابینہ اجلاس کے فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کیلئے خصوصی نگرانی کا انتظام کرنا ہوگا بصورت دیگر فیصلے صرف فیصلے ہی رہیں گے۔

بجلی ‘گیس منصوبے اور صارفین

وطن عزیز کے دوسرے صوبوں کی طرح بلکہ ان سے کچھ زیادہ خیبر پختونخوا میں بجلی اور گیس کے اربوں روپے کے منصوبوں کا اعلان معمول بن چکا ہے ان منصوبوں کے آئے روز افتتاح اور سنگ بنیاد کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں دوسری جانب صارفین بجلی اور گیس کے کنکشن کیلئے ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں اور ان ٹھوکروں میں تواتر کے ساتھ اضافہ بھی ہورہا ہے وفاقی کابینہ طویل عرصہ پہلے گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے تاہم لوگ اب بھی کنکشن کیلئے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں بجلی اور گیس جیسی بنیادوں سہولت تو اس بات کی متقاضی ہے کہ درخواست دہندگان کو متعلقہ دفاتر میں ون ونڈو سروس کی سہولت فراہم کی جائے درخواست کی وصولی کے ساتھ میٹر کی تنصیب کیلئے تاریخ دی جائے اور اس تاریخ تک سروس فراہم نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے ذمہ دار حکام کیلئے تو ضروری یہ بھی ہے کہ نئے منصوبوں کے اعلانات کیساتھ زیادہ توجہ خدمات کی فراہمی پر مرکوز کریں اور جگہ جگہ خدمات مراکز کا قیام یقینی بنائیں۔