بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پیپلزپارٹی مکمل منشور کیساتھ آنے والا الیکشن لڑے گی ٗ بلاول

پیپلزپارٹی مکمل منشور کیساتھ آنے والا الیکشن لڑے گی ٗ بلاول

مانسہرہ۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 2018کا الیکشن میرا پہلا اور عمران خان کا آخری الیکشن ہوگا ، میاں صاحب آپ جتنا بھی چیخیں عوام آپ کے دھوکے میں نہیں آئیں گے ، میاں صاحب آپ معصوم نہیں مجرم ہیں ، میاں صاحب اور عمران خان کی نظر صرف اقتدار پر ہے ،میں اپنے لئے نہیں غریبوں کیلئے اقتدار چاہتا ہوں ، ہمارا منشور عوام دوست ہے ، میں غریبوں کی طاقت پر یقین رکھتا ہوں ۔

پیپلزپارٹی مکمل منشور کیساتھ آنے والا الیکشن لڑے گی، عمران خان خود شوکت خانم اسپتال کی بات کرتے ہیں مگر نصرت بھٹو کینسر اسپتال کو سیاسی دشمنی پر بند کردیا، عمران خان کہتے ہیں ایک لاکھ بچے پرائیویٹ اسکولوں سے سرکاری اسکولوں میں آئے جبکہ اس سال سرکاری اسکولوں کے بدترین نتائج آئے ،خان صاحب کی اتحادی جماعت پر خیبر بینک میں کرپشن کا الزام ہے اس کی تحقیقات کب ہوں گی ، میاں صاحب چھا نگا مانگا کی سیاست آپ نے شروع کی ، آپ نے بینظیر بھٹو کے خلاف اسامہ سے پیسے لیے،میاں نوازشریف خود کو بچانے کیلئے اداروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

وہ ہفتہ کو مانسہرہ میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری حکومت نے ہر شعبہ میں کام کیا تاکہ خوشحالی آئے ، پیپلزپارٹی ایک وفاقی جماعت اور ہر علاقے کی ترقی کا سوچتی ہے ، صحت ، تعلیم ، روزگار کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں ، یہ عوام کا بنیادی حق ہے ، کوئی احسان نہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے بزرگوں کو یاد ہوگا کہ یہاں پر صرف ایک ضلع ہزارہ ہوتا تھا ، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس کو ہزارہ ڈویژن کا نام دیا ، آج ہزارہ ڈویژن سات ضلعوں پر مشتمل ہے یہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں ہوا، مانسہرہ کے لوگوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں اہم کردارادا کیا تھا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پچھلی حکومت میں ہم نے ہزارہ کی دھرتی پر سینکڑوں اسکول وکالج بنائے ، ہم نے صرف مانسہرہ میں ڈھائی سو اسکول بنوائے جہاں آج ہزاروں بچے زیر تعلیم ہیں ، ہزارہ کے تمام اسپتالوں کو سہولیات دی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان خود شوکت خانم اسپتال کی بات کرتے ہیں مگر نصرت بھٹو کینسر اسپتال کو سیاسی دشمنی پر بند کردیا ، تبدیلی کے دعویدار جو تبدیلی لائے وہ ہمیں معلوم ہے ، یہ پورے صحت کے نظام کی نجکاری کر رہے ہیں اور یہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ تعلیم کے شعبہ میں انقلاب لے آئے ۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں ایک لاکھ بچے پرائیویٹ اسکولوں سے سرکاری اسکولوں میں آئے جبکہ اس سال سرکاری اسکولوں کے بدترین نتائج آئے ، سرکاری اسکولوں میں تعلیم پستی کی طرف جا رہی ہے مگر ان کے نجی اسکول ترقی پر ترقی کر رہے ہیں ، خان صاحب اگر آپ کو نصرت بھٹو کے نام پر اعتراض تھا تو شوکت خانم رکھ لیتے بند کیوں کیا ۔انہوں نے کہا کہ صحت کے پورے نظام کو خیبرپختونخوا میں تباہ کردیا گیا۔

کے پی کے میں پورے صحت کے نظام کو پرائیویٹائز کردیا گیا ، خان صاحب جب بھی اسٹیج پر آتے ہیں تو لوگوں سے ایک نیا جھوٹ بولتے ہیں اور ہر کسی پر کرپشن کے الزام لگاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مائنز کے ٹھیکے میں اربوں کی کرپشن کی تحقیقا ت کب ہوں گے ، اس بیچارے وزیر نے وزیراعلیٰ پر کرپشن کے جو الزام لگائے ان کا کیا ہوا،خیبرپختونخوا کے ٹھیکوں سے عمران خان کا کچن اور جہانگیر ترین کا جہاز چلتا ہے ، خان صاحب کی اتحادی جماعت پر خیبر بینک میں کرپشن کا الزام ہے اس کی تحقیقات کب ہوں گی ، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں نے کبھی آپ پر الزام نہیں لگایا آپ کے اپنے وزراء اور اراکین اسمبلی آپ پر الزام لگا رہے ہیں ۔

عمران خان کا سب سے بڑا نعرہ ہے کرپشن ، عمران خان پر کسی پر کرپشن کا الزام لگاتے ہیں اگر کوئی صاف ہے تو ان کی جماعت ، یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایک موجودہ وزیر کو گرفتار کیا گیا ، یہ بتایا جائے کہ اس وزیر نے آپ کے وزیراعلیٰ پر کیا الزامات لگائے ۔انہوں نے کہا کہ کہاں گیا آپ کا احتساب کمیشن ، جب دیکھو کہتے رہتے ہیں نیا نیا ، تبدیلی تبدیلی ، کیا نیا کیا ہے آپ نے ۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اقتدار میں اپنے لئے نہیں غریبوں کیلئے چاہتا ہوں ، ہمارا منشور عوام دوست ہے ، میں غریبوں کی طاقت پر یقین رکھتا ہوں ، پیپلزپارٹی مکمل منشور کیساتھ آنے والا الیکشن لڑے گی اور ہر شعبہ کیلئے ایک مکمل منصوبہ دے گی ، 2018کا الیکشن میرا پہلا اور عمران خان کا آخری الیکشن ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ جتنا بھی چیخیں عوام آپ کے دھوکے میں نہیں آئیں گے ، میاں صاحب آپ معصوم نہیں مجرم ہیں ، میاں صاحب اور عمران خان کی نظر صرف اقتدار پر ہے ، یہ ملکی مسائل پر بات نہیں کرتے کیونکہ ان میں اہلیت نہیں ہے۔انہوں نے نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جھوٹ بولا ، جھوٹی گواہیاں دیں اور پھر کہتے ہیں کہ کیوں نکالا۔

میاں صاحب آپ کے منہ سے انقلاب کی باتیں اچھی نہیں لگتیں ، کیا آپ کو معلوم ہے کہ انقلاب کیا ہوتا ہے ، چھانگا مانگا کی سیاست میاں صاحب آپ نے شروع کی ، آپ نے بینظیر بھٹو کے خلاف اسامہ سے پیسے لیے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میاں صاحب چار سال کی حوکمت میں کتنہ مرتبہ آپ ایوان میں آئے ، حکومت کو جب بھی خطرہ ہوا آپ نے پارلیمنٹ کا سہارا لیا ، ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبایا اور کہتے ہیں ترقی ہورہی ہے ۔

میاں نوازشریف خود کو بچانے کیلئے اداروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ عمران خان صاحب آئین میں ترمیم کیلئے دھمکیاں دے رہے ہیں دونوں کے پاس نہ کوئی منشور ہے اور نہ مسائل کا حل ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان دہشت گردی میں کمی کا سہارا اپنے سر لے ہیں ،کیا آپ نے کبھی دہشت گردوں کے خلاف بات کی ، آپ تو دہشت گردوں کے خلاف بات کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں، عمران خان صاحب آپ نے تو طالبان کو دفتر کھولنے کی پیشکش کی تھی۔

آپ نے تعلیمی بجٹ سے ان کے مدرسے کو کروڑوں روپے دیے ، خان صاحب آُ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے سب سے بڑے مخالف تھے ، آپ کی جھوٹ، الزامات اور گالی کی سیاست اب نہیں چلے گی ، آپ نے فاٹا اصلاحات اور حقوق کیلئے کبھی آواز نہیں اٹھائی ۔