بریکنگ نیوز
Home / کالم / زبان کا مسئلہ

زبان کا مسئلہ

صوبہ خیبر پختونخوامیں بیسیوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔جن میں پشتو ‘ہندکو‘سرائیکی ‘گوجری‘ شینا وغیرہ شامل ہیں۔یہاں دو بڑی زبانیں ہیں جو اس کے ایک بڑے حصے میں بولی جاتی ہیں۔آج تک اگر کسی زبان کو اس صوبے میں پذیرائی دی گئی ہے تو وہ پشتو ہے اسلئے کہ دوسری زبان والوں نے خود بھی اپنی زبان کی طرف توجہ نہیں دی۔ خصوصاً ہندکو کیساتھ تو ہمیشہ سوتیلی ماں کاساسلوک ہوا ہے ہندکو بولنے والوں کیساتھ ایک مسئلہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ یہ کبھی تعصب کا شکار نہیں ہوئے اور جیسے بھی تھا انہوں نے صوبے میں ہر ایک کو برداشت کیا۔ یہ بھی ہواہے کہ مردم شماری میں جہاں دوسری زبانوں کے لئے کالم رکھا گیا وہاں ہندکو کے لئے کالم ہی نہیں رکھا گیاجس کیلئے پشاور میں توتگ دو ہوتی رہی مگر صوبے میں سب سے زیادہ بولنے والے ڈویژن والوں نے کبھی اس بات پر توجہ ہی نہیں دی کہ ان کی بھی کوئی زبان ہے۔ گو ہم اپنی زبان کی وجہ سے تعصب کا شکار رہے ہیں مگرہم نے کبھی کسی بھی دوسری زبان بولنے والوں کے ساتھ کبھی تعصب نہیں برتا۔ہمیں اس صوبے کو پاکستان میں شامل کرنے کی سزا ہمیشہ دی گئی ہے مگر ہماری طرف سے کبھی اس پر اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔ ہاں پشاور سے اس بات کو محسوس کیا گیا اس لئے کہ وہ مرکز میں ہیں اور ان کیساتھ جو بھی ہوتا ہے وہ اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں اور احتجاج بھی کرتے ہیں۔ ماضی میں انفرادی طور پر اس ضمن میں احتجاج ہوتے رہے مگر انفرادی احتجاج کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ہندکو کو شماریات کے خانے میں جگہ دلوانے کیلئے پشاور کے ہندکو لکھاری انفرادی طور پر کوششیں کرتے رہے مگر بے سود۔ گو ان سے حکومتیں وعدے تو کرتی رہیں مگر ان پر عمل نہ ہو سکا۔

مگر گندھارا ہندکو بورڈ کے قیام نے ان انفرادی کوششوں کو اجتماعیت کا رنگ دیا تو بہت سے عقدے خود بخود کھلنے لگے۔ایک تو یہ ہوا کہ سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا کہ ہندکو بھی اس صوبے کی بڑی زبانوں میں سے ایک ہے بلکہ یہ صوبے کی دوسری بڑی زبان ہے اسی بورڈکی کوششوں کی وجہ سے اس زبان کو شماریات کے فارم میں بھی ایک خانہ نصیب ہوا مگر خدا جانے اس کا کتنا بڑا اثر ہو گا اس لئے کہ ہم کو تو نہ یہ خانہ دکھایا گیااور نہ ہم نے اپنی مادری زبان کا خانہ پر کیا ۔ اب خدا جانے کہ کس کس نے شماریات میں مادری زبان کا خانہ پر کیاا ور کہاں تک اس سے ہندکو بولنے والوں کی تعداد کا پتہ چل سکتا ہے۔ہندکو کو اس صوبے میں اگر کچھ ملا ہے تو وہ بولی کا درجہ ہی دیا گیا ہے مگر دیکھا جائے تو اس کے ادب میں بیش بہا کام کیا جا رہا ہے۔ایک وقت تھا کہ لوگ انفردی طور اپنی کاوشوں کو کتابی صورت دیا کرتے تھے۔ جس میں پشا ور اور ہزارہ سے بہت سی کتابیں نثر اور نظم میں سامنے آئیں مگر گندھارا ہندکو بورڈ اور ہندکو اکیڈمی کے قیام نے اس میدان میں نہایت تیزی سے کام کیا ہے اور آج ہماری ذاتی لائبریری میں ہندکو ادب کی ڈیرھ سو سے زیادہ کتابیں موجود ہیں ۔ ان میں زیادہ تعداد ان کتابوں کی ہے جو گندھارا ہندکو بورڈ نے شائع کی ہیں اور اب ہندکو اکیڈمی کی جانب سے بھی بہت سے کتابیں چھپ کر سامنے آ گئی ہیں اور آ رہی ہیں۔اس کے علاوہ پشاور اور ہزارہ کے ادیبوں شاعروں اور ماہرین تعلیم کی کوششوں سے ہندکو کو سکولوں میں بھی پڑھانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے جو اس کے ادب میں اضافے کا سبب ہو گا۔

اب تک کچی‘ پہلی ‘دوسری اور تیسری کی نصابی کتابیں آ چکی ہیں اور بچوں کوپڑھائی جا رہی ہیں اب چوتھی اور اس سے اوپر کے لیول کی کتابیں شائع کی جا رہی ہیں اس کیساتھ ساتھ نئے نئے لکھاری بھی سامنے آ رہے ہیں اور وہ شاعر اور ادیب جو اپنی تخلیقات چھپوانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے انکی کتابیں بھی ہندکو اکیڈمی شائع کر رہی ہے جس سے ہندکو ادب میں بیش بہا اضافہ ہو گا۔ ہندکو ٹیکسٹ بکس کیلئے حروف تہجی کا مسئلہ حل کیا گیا تھا اور رسم الخط کا بھی فیصلہ ہوا تھا مگر جن لوگوں سے کتابیں لکھوائی جا رہی ہیں وہ اس رسم الخط کی پابندی نہیں کر رہے جولوگ کتابوں کے مسودوں پر نظر ثانی پر مامور ہیں وہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں جنہوں نے اس کمیٹی میں حصہ لیا تھا جس نے حروف تہجی پر کام کیا تھا اور اس پر ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا گیاتھا ۔