بریکنگ نیوز
Home / کالم / اداروں کے درمیان تصادم!

اداروں کے درمیان تصادم!


پاکستان کی سیاسی صورتحال میں تناؤ کا سبب مسلم لیگ نواز کی قیادت کا قومی اداروں کے بارے غیرمحتاط تبصرے ہیں‘ جن کی وجہ سے اس قسم کے شکوک و شبہات کو ہوا مل رہی ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ جانبدارانہ اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کا حصہ تھا۔اس سلسلے میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا یہ بیان بطور خاص توجہ طلب ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’قومی اداروں کے درمیان تصادم روکنے کی ذمہ داری صرف انکی نہیں‘ انکے بارے میں ہر فوجی سربراہ سے مخاصمت کا تاثر درست نہیں۔‘‘ اگرچہ میاں نوازشریف کی سیاسی زندگی کا آغاز بھی اقتدار کے حصول والی محلاتی سازشوں کے ماحول میں ہوا تھا اور پھر آئی جے آئی کے پلیٹ فارم پر بھی ان کی سیاست اپنی مخالف منتخب جمہوری حکومت کو گرانے کیلئے ماورائے آئین اقدام والوں کو کندھا فراہم کرنے والی ہی رہی جس کا ریکارڈ اصغرخان کیس میں سپریم کورٹ میں محفوظ ہو چکا ہے تاہم انہوں نے اپنے اقتدار میں ایسی ہی محلاتی سازشوں کا خود بھی نشانہ بننے کے بعد اپنی سیاسی سوچ میں مثبت تبدیلی پیدا کی اور جمہوریت کی حکمرانی کو محفوظ و مضبوط بنانے کے لئے وہ جمہوری قوتوں کے باہم متحد ہونے کے نہ صرف قائل ہوگئے بلکہ اس فلسفہ پر خود کو کاربند بھی کرلیا۔ اس بنیاد پر وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کے ترجمان بن کر ابھرے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا ایک حقیقی قومی لیڈر والا تشخص استوار ہوگیا۔ سیاست کا یہی تصور ان کے لئے ’’اے آر ڈی‘‘ کے پلیٹ فارم پر محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ میثاق جمہوریت پر منتج ہوا جس کے تحت متذکرہ اپوزیشن اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں نے عہد کیا تھا کہ وہ آئندہ اپنی مخالف جمہوری حکومتوں کو گرانے کے لئے جرنیلی آمروں کے ہاتھ مضبوط نہیں کریں گے اگر قومی سیاسی قائدین میں ایسا اتفاق سکندر مرزا کے آمرانہ اقدام کے وقت ہی ہوگیا ہوتا تو شاید ملک میں پہلے مارشل لاء کی نوبت بھی نہ آتی ۔

مگر سیاست دانوں کی مفاد پرستیاں جمہوریت کے آڑے آتی رہیں۔ جنہوں نے ماضی کی غلطیوں سے کوئی سبق نہ سیکھا اور یقیناًیہ المناک صورتحال ہے کہ مشرف کی چوتھی جرنیلی آمریت کے دوران جمہوریت کی عملداری کے لئے کئے گئے میثاق جمہوریت کے باوجود اس معاہدے کی ایک فریق پیپلزپارٹی کی قیادت نے آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے کی سہولت کی خاطر اسی جرنیلی آمر کے ساتھ ’’این آر اُو‘‘ کرکے چارٹر آف ڈیموکریسی کو غیرمؤثر بنادیا۔ اس کے باوجود میثاق جمہوریت کی روح برقرار رہی۔ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پیپلزپارٹی نے اپنے اقتدار کی پانچ سالہ آئینی میعاد پوری کی اور اب مسلم لیگ نواز کے اقتدار کی پانچ سالہ مدت بھی پوری ہونے کے قریب ہے جو بلاشبہ متعلقہ سیاسی قوتوں کے میثاق جمہوریت کے مثبت پہلوؤں کو تسلیم کرنے سے ہی ممکن ہوا ہے۔ میاں نوازشریف اگرچہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر نااہل ہو کر اقتدار سے سبکدوش ہوچکے ہیں‘ اس کے باوجود جمہوریت کی عملداری قائم ہے اور انہی کی پارٹی مرکز اور دو صوبوں میں بدستور اقتدار میں ہے۔ وہ پانامہ کیس کے فیصلہ کے حوالے سے یقیناًآزردہ خاطر بھی ہیں‘ جس کا وہ اسلام آباد تا لاہور ریلی کے دوران اپنی تقاریر میں اظہار بھی کرچکے ہیں۔ وہ اپنی اس سبکدوشی کو بھی محلاتی سازشوں سے تعبیر کررہے ہیں۔

جس سے بادی النظر میں ان کے ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کا تاثر پیدا ہوا ہے۔ بیشک وہ آج بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کے مضبوط ترجمان ہیں تاہم یہ سیاست آمرانہ اَدوار کی مزاحمت کی متقاضی ہوتی ہے جبکہ آج فی الحقیقت ملک میں جمہوریت ہی کی عملداری ہے جس میں میاں نوازشریف کی اپنی جماعت برسر اقتدار ہے اور اس اقتدار کی آئینی میعاد کی تکمیل ہی جمہوریت کے استحکام کی ضمانت اور قومی امنگوں کی تکمیل ہے چنانچہ میاں نوازشریف کو اسی تناظر میں موجودہ اسمبلیوں اور حکومت کی آئینی میعاد کی تکمیل کے لئے معاون بننا چاہئے تاہم وہ اقتدار سے اپنی ذات کی محرومی کو پورے جمہوری نظام کیخلاف سازش سے تعبیر کررہے ہیں اور اسی تناظر میں وہ عدلیہ اور فوج کے اداروں کو رگیدتے نظر آتے ہیں تو ان کی سیاست میں اداروں کیساتھ ٹکراؤ کی سیاست کا تصور نمایاں نظر آنے لگتا ہے۔ اگرچہ وہ اس امر کے داعی ہیں کہ وہ اداروں کیساتھ ٹکراؤ کی پالیسی پر کاربند نہیں ہیں تاہم عوامی ریلی سے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے انٹرویو تک ان کا جو بھی سیاسی نکتۂ نظر سامنے آیا ہے‘ وہ جمہوریت کو بچانے اور ووٹ کا تقدس تسلیم کرانے کے نام پر اداروں سے ٹکراؤ پر آمادگی والا ہی ہے جس میں بلاشبہ جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہوگا اور اس کا نقصان بھی خود انکی اپنی ہی سیاسی جماعت (نوازلیگ) کا ہوگا جو اس وقت برسر اقتدار ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر رفعت جاوید۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)