بریکنگ نیوز
Home / کالم / سوئس بینکوں سے رقوم کی واپسی

سوئس بینکوں سے رقوم کی واپسی


بزرگوں سے سنا اور کتابوں میں پڑھا کہ بھادوں کے مہینے میں گدھا بھی دھوپ سے پنا ہ مانگتا ہے جس چلچلاتی دھوپ کے مہینے سے عوام گزر رہے ہیں اس کے پیش نظر امید تو یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما کم از کم اس مہینے میں لوگوں کو سڑکوں پر لانے سے گریز کریں گے اگر گدھے بھی اس مہینے دھوپ سے کتراتے ہیں تو انسان تو پھر انسان ہے اسکا شمار اشرف المخلوقات میں ہوتاہے اسکی تکلیف کا احساس تو بہر طور سیاستدانوں کو کرنا چاہئے ہاں بقر عید کے چند دنوں بعد جب گرمی کی حدت میں کمی واقع ہو تو اہل سیاست سیاسی سرگرمیوں میں بے شک اضافہ کر سکتے ہیں ہم تو نہیں مانتے لیکن لوگ کہتے ہیں اور ان کا منہ کون بند کر سکتا ہے کہ زرداری صاحب اپنے خلاف کرپشن کے ممکنہ ریفرنسز سے بچنے کیلئے ملک کا صدر بننا چاہتے ہیں کیونکہ جب وہ صدر بن جائیں گے تو ان کو فوجداری مقدمات سے استثنیٰ حاصل ہو جائے گا ہے نا بڑی دور کی کوڑی لانے والی بات؟ اگر (ن)لیگ والے ان کے ساتھ یہ مہربانی‘ عنایت اور بخشش کر دیتے ہیں تو اس کے عوض زرداری صاحب2018ء کے الیکشن کے بعد مطلوبہ سیٹیں اگر(ن)لیگ جیت جاتی ہے تو اس کے وزیراعظم کو مزید5 سال تک برداشت کرنے کو تیار ہیں ۔

زرداری صاحب نے گزشتہ جمعرات کے روزبلاول کیساتھ مل کر ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بظاہر جو باتیں کی ہیں واقفان حال ان کو اتنی زیادہ اہمیت اس لئے نہیں دیتے کہ زرداری صاحب دل کی بات شاذ ہی کسی سے شیئر کرتے ہیں اپنے پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ بھی نہیں ‘ وہ اپنے سیاسی کارڈ ہمیشہ اپنے سینے کیساتھ لگا کر رکھتے ہیں کسی کو آخری لمحات تک دکھلاتے نہیں‘ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور والی بات ہے اندرون خانہ کیا کھچڑی پک رہی ہے یہ خدا ہی بہتر جانتا ہے زرداری صاحب کا اس سیاسی کلیہ پر کامل یقین ہے کہ سیاست میں کوئی بھی حرف آخر نہیں ہوتا اس لئے وہ سیاسی حریفوں کیلئے مذاکرات کے دروازے بالکل بند نہیں کرتے کواڑ بالکل نہیں لگاتے ‘ میاں نواز شریف اور زرداری دونوں کو ایک دوسرے کی سخت ضرورت ہے دونوں ایک ہی کشتی کے سوار تھے اور آج بھی ہیں‘ ممنون حسین سے استعفیٰ لینا میاں صاحب کیلئے کوئی مشکل کام تو نہیں ہاں اگر صدر صاحب نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا تو پھر زرداری اور میاں نواز شریف دونوں کا کھیل خراب بھی ہو سکتا ہے ۔ماڈل ٹاؤن لاہور میں دو ڈھائی سال قبل پاکستا ن عوامی تحریک کے کارکنان کے قتل کا کیس لیکر ڈاکٹر طاہر القادر ی ایک مرتبہ پھر سرگرم دکھائی رہے ہیں آئندہ چند دنوں میں انکا بھی پروگرام ہے کہ مختلف شہروں میں بطور احتجاج دھرنے دیئے جائیں اور حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کو شائع کرے۔

ڈاکٹر صاحب کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی کسی سیاسی تحریک کو اسکے منطقی انجا م تک پہنچاتے نہیں پہلے تو وہ سیاسی تندور خوب گرم کر دیتے ہیں اور پھر اچانک اس پر پانی کے چھینٹے مار کر اسے ٹھنڈا کر نے کے بعد عازم کینیڈا ہو جاتے ہیں اس طریقہ کار سے کبھی بھی کوئی سیاسی تحریک کامیابی نہیں ہوتی اس کیلئے یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لئے پارٹی کے قائد کا ملک کے اندر سال کے بارہ مہینے رہنا ضروری ہوتا ہے ریموٹ کنٹرول سے سیاسی معاملات بخوبی سر انجام نہیں دیئے جا سکتے نیب نے موٹی مچھلیوں کیخلاف ریفرنسز تو عدالتوں میں دائر کرنے شروع کر دیئے ہیں لیکن چونکہ اس ادارے کا چیئرمین سابق وزیراعظم کا احسان مند ہے لہٰذا عام آدمی کو خدشہ ہے کہ شاید ریفرنسز میں کہیں کوئی سقم جان بوجھ کر نہ چھوڑ دیا جائے۔

جس سے ملزمان کو فائدہ دلانا مقصود ہو لہٰذا سپریم کورٹ کو ان ریفرنسز پر کڑی نگرانی رکھنی ہو گی عام آدمی اب اس بات کا منتظر بھی ہے کہ کب اس لوٹی ہوئی رقم کو واپس پاکستان لایا جائے گا کہ جو کھربوں میں ہے اور اگر وہ واپس ملک کے خزانے میں آ گئی تو اس ملک پر اب تک جتنے غیر ملکی قرضے چڑھے ہوئے ہیں وہ سب کے سب اتر جائیں گے ‘ واقفان حال کا کہنا ہے کہ بات صرف شریف خاندان تک ہی محدود نہیں دیگر سیاسی جماعتوں کے بعض رہنماؤں نے بھی غیر ممالک میں بڑی بڑی جائیدادیں خریدی ہوئی ہیں حالانکہ وہ اپنے آپ کو انقلابی کہتے ہیں ان سب کو بھی بے نقاب کرنا ضروری ہے اب وقت آگیا ہے کہ سوئس بینکوں میں پڑے اربوں ڈالر کو واپس پاکستان لایا جائے تاکہ ہم بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔