بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / الیکشن بل2017ء پر تحفظات

الیکشن بل2017ء پر تحفظات


قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی اصلاحات سے متعلق بل مسترد کر دیا ہے حزب اختلاف کا موقف ہے کہ الیکشن بل2017ء کے تحت اگلے عام انتخابات شفا ف نہیں ہو سکتے ‘ اپوزیشن کی جانب سے سامنے آنے والے چیدہ چیدہ نکات میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کا تقرر پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کیا جائے ‘ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے ‘ بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر الیکشن شفاف نہیں ہو گا‘ دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں اخراجات کی حد 40 لاکھ روپے مقررکر کے غریب سے الیکشن لڑنے کا اختیار لے لیا گیا ہے ‘ اس کیساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اخراجات کی یہ حد کم ہے اور کل کو یہ بھی 62-63 کے آرٹیکل کی طرح کسی کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے‘ تحریک انصاف کی ڈاکٹر شیریں مزاری الیکشن کمیشن کے ممبرا ن کا تقرر ایسی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کرانے کا کہہ رہی ہیں جس میں پچاس فیصد ممبران حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ہونے چاہئیں ۔

جبکہ اتنی ہی تعداد اپوزیشن ارکان کی بھی ہو ‘ اسمبلی میں پیش ہونے والے بل اور اس پرحزب اختلاف کی جانب سے تحفظات و خدشات پر مشتمل نکات کی تکنیکی حیثیت سے متعلق بحث میں پڑے بغیر قابل اطمینان ہے کہ وقت کی ضروریات کے مطابق انتخابی اصلاحات کی ضرورت کا احساس ضرور کیا جا رہا ہے ‘ پارلیمانی جمہوری نظام کا تقاضا اور حسن یہی ہے کہ اس طرح کی اصلاحات پر مشتمل مسودے ہاؤس میں بحث کیلئے پیش ہوتے ہیں اور اراکین پارلیمنٹ ان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ایسے میں ہر جانب سے آنیوالی مثبت تجاویز پر کھلے دل سے غور کرنا ہو گا وطن عزیز میں سیاسی گرما گرمی اپنی جگہ تندوتیزبیانات کیساتھ اہم قومی امور کو باہمی گفت و شنید سے طے کرنے کی روایت برقرار رہنی چاہئے تاکہ اچھی سیاسی فضاء میں اقتصادی سرگرمیاں بھی جاری رہیں اور عام شہری کو بھی ریلیف ملے جو اس وقت مختلف مسائل کا شکار ہے ۔
ڈینگی ‘ علاج کیساتھ بچاؤ
ڈینگی بخار پشاور میں شہریوں کیلئے خوف جبکہ ذمہ دار اداروں کیلئے چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے پشاور ہائیکورٹ نے بیماری کی روک تھام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کرنے کیساتھ ڈی ایچ او او ر ڈپٹی کمشنر کوعدالت طلب کر لیاہے ‘ اس ضمن میں عدالت میں دائر ہونے والی درخواست میں ڈینگی مچھروں کی افزائش سے متعلق بعض پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے ‘ صوبے کی حکومت نے سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی کے ٹیسٹ مفت کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی ریفرنس لیبارٹری میں کیسز بھجوانے کا بھی کہا گیا ہے ‘ ڈینگی کا پھیلاؤ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے پیشگی انتظامات قطعاً ناکافی تھے اَب بعد ا ز خرابی بسیار جب سرکاری مشینری حرکت میں آ چکی ہے تو سارے کام کو تقسیم کیا جانا ضروری ہے سب سے پہلے متاثرہ افراد کا علاج دوسرا متاثرہ علاقوں میں صفائی کیساتھ سپرے اور تیسرا دوسرے علاقوں میں پیشگی اقدامات جن میں متعلقہ اداروں کو اپنے آپریشن کیلئے مزید نقصان کا انتظار نہیں کرنا چاہئے اب تک بہت ساری قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ درجنوں شہری زیر علاج ہیں۔