بریکنگ نیوز
Home / کالم / آرلینڈو میں عید کی نماز

آرلینڈو میں عید کی نماز

آرلینڈو جہاں ڈزنی لینڈ اور اپنی جھیلوں اور مگرمچھوں کی وجہ سے مشہور ہے وہاں اس کے کنونشن سنٹر بھی دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں‘ ہمیں یہاں بھی پارکنگ مشکل سے ملی…سنٹر میں داخل ہوئے تو ہزاروں لوگ بلکہ دنیا بھر کے گورے‘ کالے‘ بھورے اور زرد لوگ عیدالفطر کی نماز ادا کرنے کی خاطر چلے آرہے تھے اور یہ نہیں کہ آپ منہ اٹھا کر یونہی چلے آئیں نماز میں شمولیت کی رجسٹریشن آن لائن کی جاتی ہے تاکہ انتظامیہ لوگوں کی تعداد کے مطابق مناسب انتظامات کرسکے… عینی نے ہم سب کی پورے چودہ نمازیوں کیلئے رجسٹریشن کرواکے کوڈ نمبر حاصل کر رکھے تھے… درجنوں رضاکار جن میں بچے بھی شامل تھے رجسٹریشن نمبر کی پلاسٹک کڑیاں آنے والے لوگوں کی کلائیوں پر شناخت کیلئے چسپاں کررہے تھے… یہاں پر عورتیں مردوں سے الگ ہو کر پچھلے حصے میں چلی گئیں… جب ہم نماز کیلئے مختص کردہ ہال میں داخل ہوئے تو جی خوش ہوگیا…چھت نہایت بلند اور وسعت میں کسی فٹ بال گراؤنڈ سے بھی زیادہ وسیع… نصف سے زیادہ حصہ مردوں کیلئے اور پچھلا حصہ خواتین کیلئے مخصوص تھا اور وہ بھی ہزاروں کی تعداد میں تھیں‘ مجھ بابا جی کیلئے کرسی کاانتظام کر دیا گیا اور مجھ ایسے اور بھی بہت تھے جن کے گھٹنے کڑکڑاتے تھے‘ وہاں باقاعدہ ایک سٹیج سجا ہوا تھا جہاں ایک پاکستانی صاحب لوگوں کو کچھ تلقین کررہے تھے‘ پھر مائیک امام سراج وھاج نے سنبھال لیا… میرا خیال تھا کہ وہ افریقی ہیں لیکن بتایاگیا کہ وہ خالص امریکی افریقی ہیں… کسی زمانے میں علیجاہ محمد کی ’’ نیشن آف اسلام‘‘ کے رکن تھے‘ پھر میلکوم ایکس کی مانند راہ راست پر آکر حقیقی اسلام سے رجوع کرلیا‘ ان دنوں نیو یارک کی کسی مسجد کے امام ہیں اور کمال کے مقرر ہیں‘ امریکہ اور یورپ میں کثرت سے لیکچر دیتے ہیں اور بہت مقبول ہیں… میمونہ نے فیس بک پر ان کے لیکچر سنے تو بے حد متاثر ہوئی…

ہال اتنا وسیع اور بلند چھت والا تھا کہ گونج کی وجہ سے امام صاحب کی تقریر پلے نہ پڑی… پاکستان میں پڑھی جانے والی عید کی نمازوں سے یہ امریکی نماز اگرچہ تنظیم کے حوالے سے بہت مختلف تھی لیکن جب جماعت کھڑی ہوگئی… تکبیریں بلند ہونے لگیں تو عین اس لمحے تاخیر سے پہنچنے والے لوگ بھاگے چلے آرہے تھے… یوں لطف آگیا کہ پاکستان میں بھی جب تک عین وقت پر جب تکبیریں بلند ہو رہی ہوں‘ بندہ بھاگتا ہوا… سلیپر گھسیٹتا صفوں میں شامل نہ ہو تو مزا نہیں آتا… نماز کے اختتام پر خطبہ ہوا لیکن دعا کا اہتمام نہ تھا… شاید اس لئے کہ ہمارے ہاں اکثر دعاؤں میں دنیا کے مختلف ملکوں اور خطوں کی آزادی کی آرزو کے علاوہ کچھ ممالک کو نیست و نابود کرنے کی بھی درخواست کی جاتی ہے… اب یہاں امریکی خارجہ پالیسی کے خلاف تو دعائیں مانگنا خطرے سے خالی نہیں‘ خاص طورپر اسرائیل خصوصی طورپر اور امریکہ عمومی طورپر نیست نابود ہو جائے وغیرہ اور اسلام کا غلبہ بھی ہو جائے… یہاں بھی متعدد پاکستانیوں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے مجھے کنونشن سنٹر میں دیکھ کر بے حد مسرت کا اظہار کیا… اس اسلامی اجتماع کی کوریج کیلئے امریکی میڈیا بھی موجود تھا یہاں پر امام سراج سے ذاتی طورپر ملاقات ہوگئی اور میں نے انہیں اپنے پاکستانی ہونے کا بتایا تو وہ کہنے لگے میں پاکستان اور تمہارے لئے دعا کرونگا… ایک صاحب نے ان سے سیلفی کی فرمائش کرتے ہوئے کہا’’ امام مجھے امید ہے کہ آپ اس کیلئے مجھ سے کچھ چارج نہیں کرینگے‘‘ تو امام نے قدرے جھومتے ہوئے افرو امریکن انداز میں کہا ’’ مین دس از امریکہ… ہیئر نتھنگ ازفری‘‘… عینی نے یہاں ایک اور دلچسپ شخصیت سے تعارف کروایا‘ یہ سفید فام امام عبدالرحمن سائکس تھے اور ان کے ہمراہ حجاب میں ملبوس انکی پیاری سی بیٹی تھی… امام نے ایک ادارہ’’اسلام پیس سنٹر‘‘ قائم کر رکھا ہے اور وہ امریکہ بھر میں کلیساؤں‘ سنے گاگز‘ سکولوں‘ کالجوں‘ ہسپتالوں وغیرہ میں جا کر اسلام کے بارے میں لیکچر دیتے ہیں‘ مسلمانوں کے مذہبی اور ذاتی مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں‘ انکا کہناہے کہ وہ مختلف مذاہب اور اسلام کے درمیان امن اور دوستی کے پل تعمیر کرتے ہیں…

عید کی نمازپڑھنے کیلئے آنے والی خواتین میں سے صرف چند ایک حجاب میں تھیں بقیہ سب پاکستانی سٹائل میں تھیں یعنی دوپٹے اوڑھے ہوئے یا دوپٹے سے بھی ماورا…امریکی میڈیاصرف ان کی تصویریں اتار رہا تھا… گھر واپس پہنچے تو مالی طور پر شدید نقصان ہوا… ماشاء اللہ سب بال بچے اللہ کے کرم سے موجود تھے تو انہیں عیدی تو بہرطور دینی تھی اور وہ بھی روپوں میں نہیں ڈالروں میں‘ چنانچہ اپن کا بولو رام ہوگیا‘ پاکستان کی عید سستی پڑتی ہے… بہرحال قرۃ العین عرف ڈاکٹر کیو کا منصوبہ کامیاب ہوگیا کہ پورے دس برس بعد پورے خاندان نے اکٹھے عید منائی اور آرلینڈو میں منائی…