بریکنگ نیوز
Home / کالم / تباہی کا نسخہ

تباہی کا نسخہ


خداکرے کہ یہ خبر غلط ہو کہ آئندہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کا احتساب سپریم جوڈیشل کونسل کے بجائے پارلیمنٹ کیا کرے گی؟ خدا کرے اس خبر میں بھی کوئی صداقت نہ ہو کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تقرری آئندہ کابینہ اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد ہو گی اور خدا کرے یہ خبر بھی جھوٹ ثابت ہو کہ کابینہ کی منظوری کے بعد ہی کسی بریگیڈئیر کو جنرل بنایا جا سکے گا ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اگر کوئی نیا قانون بنایا جا رہا ہے تو ہمار ی یہ درخواست ہو گی کہ اس سے اجتناب کیا جائے کہ اس سے حالات بہتر ہونے کے بجائے خراب ہو سکتے ہیں یہ ایک قابل افسوس حقیقت ہے کہ اس قسم کی سوچ رکھنے والے نہ صرف ایوان اقتدار میں بلکہ حزب اختلاف میں بھی موجود ہیں یہ تجاویز جس کسی کے بھی ذہن کی اختراع ہیں تباہی کا نسخہ ہے کہ جن کیلئے پولٹیکل سائنس کی زبان میں Recipe for disaster کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان ریاستی اداروں کی بیخ کنی سے اجتناب کیا جائے کہ جو بڑی آبیاری کے بعد پروان چڑھے ہیں کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج ملک میں دوسرے ریاستی اداروں کے مقابلے میں اگرفوج اور عدلیہ میں بھرتی کا نظام قدرے بہتر ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں میں میرٹ کو اس طرح پامال نہیں کیا گیا کہ جس طرح دیگر ریاستی اداروں میں کیا گیا ہے کہ جہاں سیاستدانوں کی سفارشی چٹ کے بغیر کسی قسم کی بھرتی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا اگر عدالیہ میں ججوں کی تقرری اور ان کی پروموشن کو بھی سیاستدانوں کی مرضی کے تابع بنا دیا گیا تو پھر اس ادارے میں بھی اسی قسم کی ورک فورس بھرتی ہونے لگے گی کہ جس طرح محکمہ مال یا ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں ہوتی ہے ۔

‘ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ادارے کی ہی مثال لے لیجئے اس میں اگر اصلاح کی ضرورت تھی تو آپ بے شک اصلاحات کرتے لیکن یہ کہاں کی دانشمندی تھی کہ آپ نے اس کو جڑ سے ہی اکھاڑ دیا اور بعد میں جب آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو آپ نے اسے بحال کرنے کی کوشش کی لیکن اس دوران آپ نے اس ادارے کو اتنا مسخ کر دیا تھا کہ اب نہ جانے اسکو اپنی اصلی شکل میں بحال کرنے کیلئے کتنے زمانے لگیں سوال یہ ہے کہ آپ کو فوج یا عدلیہ سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟اگرآپ دیانتداری سے امور مملکت چلائیں گے اوراپنے اقتدار کو اپنی دولت یا تجارت میں بڑھوتری لانے کیلئے بروئے کار نہیں لائیں گے تو پھر کسی کی کیا مجال کہ وہ آپ پر انگلی اٹھائے یا آپ کے کسی کام میں مداخلت کرے ؟ حکومت اور عدلیہ کے درمیان تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہے اور وہ ایسے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل جانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ نہایت غیر دانشمندانہ ہے(اطلاعات غیرمصدقہ ہیں) لگتا یوں ہے کہ ان پانچ ججوں میں سے ایک یا دو ججوں کو ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز دائر کرکے حکومت متنازعہ بنانا چاہتی ہے تاکہ سابقہ وزیراعظم کی نظر ثانی کی درخواست وہ پانچ ججز نہ سن سکیں کہ جنہوں نے انہیں نا اہل قرار دیا ہے اور یہ معاملہ طولانی ہو جائے جتنا یہ طولانی ہو گا نیب سابق وزیراعظم کیخلاف ریفرنسز دائر نہ کر سکے گا کیونکہ وہاں سابق وزیراعظم کے وکلاء نے یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ میں ان کی نظر ثانی کی درخواست کا فیصلہ نہیں ہوتا ریفرنسز نہ دائر کئے جائیں اور یہ کہ وہ نیب کے سامنے نظر ثانی کی درخواست پر فیصلے تک پیش نہیں ہوں گے جس طرح زرداری صاحب کسی زمانے میں اس قسم کی قانونی موشگافیوں کا راستہ اختیار کر کے صاف صاف بچ نکلے تھے۔

وہی حربے اب میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ اختیار کریں گے تاوقتیکہ 2018ء کے الیکشن کا وقت نہیں آ جاتا ‘ اگر آپ نے یہ کالم اس سطر تک پڑھ لیا ہے توآپ کو یقیناًاس بات کی سمجھ آ گئی ہو کہ اس ملک کی اشرافیہ کس کمال چالاکی اور وکلاء کی قانونی موشگافیوں سے اپنے خلاف درج کرپشن کے مقدمات کو عدالتوں میں لٹکاتی رہتی ہے اس امید کے ساتھ کہ شاید ملک کے سیاسی حالات بدل جائیں اور ایسے لوگ برسر اقتدار آ جائیں کہ جو کسی این آر او قسم کے حربے سے ان کے گناہ معاف کرا سکیں۔