بریکنگ نیوز
Home / کالم / قومی وسائل اور قابضین!

قومی وسائل اور قابضین!


سرکاری وسائل بمقابلہ نجی لالچ۔ پاکستان کے ریاستی وسائل قبضہ ہو چکے ہیں3 کروڑ خاندانوں کا مسکن ملک‘ جس پر ایک ہزار خاندانوں کی حکمرانی کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا! سوال یہ ہے کہ آخر ریاستی وسائل اور ریاستی وسائل پر اختیار کس طرح مسلط ہوتا ہے؟ طریقۂ واردات یہ ہے کہ جب حکمران اشرافیہ اور کاروباری طبقات ملکرقانون سازی کو اپنے مفادات کے تابع بنا دیتے ہیں جب قوانین و قواعد کے اطلاق پر اثرانداز ہوا جاتا ہے اور خاص طبقات کے لئے استثنیٰ رکھا جاتاہے بالخصوص قوانین اور اقتصادی و کاروباری قواعد میں تو اس سے کسی ملک و معاشرے میں حکمرانی بصورت سیاہ و سفید کی بادشاہت سرمایہ داروں اور بااثر اشرافیہ تک محدود و مطلق العنان حاکم ہوتی چلی جاتی ہے۔پاکستان کی اقتصادیات پر بھی چند ہزار خاندانوں کا قبضہ دکھائی دیتا ہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال ایک ایسے مخمصے میں الجھ گئی ہے جہاں حکمت عملیاں وضع کرنے اور قومی ادارہ جاتی اصلاحات سرمایہ داروں اور بااثر اشرافیہ کے مفادات کی محافظ بن چکی ہے۔ اقتصادی حکمت عملی میں عوام کی بجائے خواص کا ٹولہ مستفید ہو رہا ہے۔ قومی مفادات کی بجائے ذاتی مفادات ترجیح بنے ہوئے ہیں! سٹیٹ بینک کی کہانی بھی زیادہ مختلف نہیں جہاں کے تابع فرمان ملک سے زیادہ اپنا اور چند شخصیات کے مفاد کے بارے زیادہ فکرمند رہتے ہیں۔ یہی حال سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان‘‘ کا بھی ہے۔

مسابقتی کمیشن کے چیئرمین خالد مرزا ہیں‘ جن کے ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ عوامی مفاد کے محافظ رہیں لیکن یہاں بھی بالعموم ریاست کی بجائے حکمرانوں اور نجی اداروں کے مفادات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔جن قومی اداروں کو دیکھ کر اس دکھ کا احساس شدت سے ہوتا ہے کہ وہ چند ہزار افراد کے خدمت گزار بنے ہوئے ہیں اُن میں نیب بھی شامل ہے۔ اسی طرح ایف آئی اے کا جھکاؤ بھی افراد کے حق میں زیادہ نظر آتاہے۔اقتصادی امور کے ماہرڈاکٹر عشرت حسین نے اپنی کتاب (Pakistan: An Elitist Economy) میں احاطہ کیا ہے کہ پاکستان کے اقتصادی نظام میں اشرافیہ کے مفادات کا مجموعہ ہے جس کا مرکز عوام نہیں بلکہ نگاہ اعلیٰ و بالا ہیں! ڈاکٹر عشرت حسین نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ جب سے اشرافیہ پاکستان کی ریاست پر مسلط ہوئی ہے اس سے قومی اداروں کی فعالیت و کارکردگی محدود ہوئی ہے جبکہ دولت اور وسائل کی غیرمساویانہ غیرمنصفانہ تقسیم ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان میں سب سے منافع بخش کاروبار یہ دکھائی دیتا ہے کہ ریاستی امور پر حکمران بن کر مسلط ہوا جائے۔‘ پاکستان کی ریاست کے پاس بے پناہ وسائل ہیں۔ یہاں زمین ہے‘ تیل ہے۔ معدنی ذخائر سے مالا مال پہاڑی سلسلے ہیں جہاں کان کنی ہوتی ہے اور مزید کھوج ممکن ہے۔

یہاں زیرزمین قدرتی گیس کے ذخائر کھوج نکالنے کے منتظر ہیں ان سبھی وسائل کے اصل مالک بیس کروڑ پاکستانی ہیں لیکن قومی وسائل سے استفادے کو چند ہزار خاندانوں تک محدود کردیا گیاہے۔ہمارے ہاں تیل کی کمپنیوں کا گٹھ جوڑ دکھائی دیتا ہے اور جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے کہ مفادات کیلئے بنائے گئے ان گروہوں کا آپسی تعلق ہوتا ہے وہ قوم کو تو اختلافات میں الجھائے رکھتے ہیں لیکن آپس میں ایک دوسرے کے مفادات کے محافظ بنے رہتے ہیں اور ایسا کوئی بھی کام نہیں کرتے جس سے کسی ہم عصر کاروباری کے مفادات پر ضرب لگے۔ تصور کیجئے کہ پاکستان کے سرمایہ دار‘ صرف قومی اداروں کی پالیسی سازی ہی پر اثرانداز نہیں ہوتے بلکہ افسرشاہی کو شامل حال کر کے غیرمعیاری پیٹرولیم مصنوعات کے ذریعے سالانہ 400 ارب روپے کما رہے ہیں اور 3 کروڑ خاندانوں کو لوٹا جا رہا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی طرح گاڑیاں کے شعبہ میں بھی سیاستدانوں اور افسرشاہی کے گٹھ جوڑ سے عوام کو لوٹاجا رہا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ بھارت میں جس سوزوکی ماروتی کی قیمت 2 لاکھ 37 ہزار روپے ہے پاکستانی کرنسی میں اسکی قیمت 3 لاکھ 89 ہزار روپے کیوں ہے؟ اِسی قسم کی کارکردگی سیمنٹ اور چینی بنانے کے صنعتی مالکان اور اداروں کی بھی ہے جنہیں اپنے کاروباری مفادات عزیز ہیں اور وہ بہرصورت حکومت میں اپنی نمائندگی رکھتے ہیں تاکہ کوئی ایسی قانون سازی یا قواعد سازی ممکن نہ ہوسکے جن سے اُنہیں خسارہ ہو۔ حکومتی پالیسیاں بنانے والے سیاسی‘ ذاتی اور کاروباری ترجیحات رکھتے ہیں اور ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں جن سے سرمایہ دار اور بااثرطبقات سے تعلق رکھنے والوں کو فائدہ ہو۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست اور نجی مفادات کا آپس میں تصادم ہوتا ہے اور وقت آگیا ہے کہ اِس بات پر زور دیا جائے کہ ریاست اور حکمرانی کرنیوالوں کے مفادات الگ الگ ہونے چاہئیں۔یہ بات کسی بھی صورت انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کہ تین کروڑ پاکستانی خاندانوں کی ملکیتی وسائل پر چند ہزار خاندانوں کی گرفت ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی جائے کیونکہ اگر اِس قسم کا استحصالی نظام جاری رہتا ہے تو اس سے ریاست کو لاحق سنجیدہ خطرے کی شدت بڑھے گی۔

جنوبی افریقہ نے حال ہی میں ایک ’جوڈیشل کمیشن‘ بنایا تاکہ اس بات کی تحقیقات کی جا سکیں کہ ریاستی وسائل پر قابضین کون ہیں اور کہیں ایسا تو نہیں کہ وسیع پیمانے پر ریاستی وسائل کا استعمال چند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا جا رہا ہو اس تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ ’تھولی میڈونسیلا تھے جن کے ہمراہ انکی ٹیم نے اپنی تحقیقات سے متعلق ایک حقائق نامہ شائع کیا جس میں جنوبی افریقہ کے صدر زوما اور اُن کے ریاستی وزرا کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور بیان کیا گیا کہ کس طرح جنوبی افریقہ کی پانچ کروڑ پچاس لاکھ آبادی کی ملکیت ’قومی وسائل‘ پر سیاسی فیصلہ ساز مسلط ہیں اور وہ کس طرح ’بدنیتی‘ سے قومی اداروں کو اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ بحث جاری ہے کہ کس طرح ریاست یعنی عوام کی ملکیتی وسائل اور اثاثوں سے اجتماعی مفاد میں استفادہ کیا جائے اور اُس گٹھ جوڑ کو توڑا جائے جس سے سیاسی و کاروباری اور افسرشاہی پر مشتمل طبقات فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان میں روایتی طرز حکمرانی کو جاری و ساری رکھنے والوں کا تعلق بھی اِنہی مسلط و غاصب طبقات سے ہے جن کی کوشش ہے کہ روایتی سیاست کا سلسلہ یونہی جاری و ساری رہے۔ جنوبی افریقہ کی طرز پر پاکستان کی ریاست کو بھی ایک جوڈیشل تحقیقاتی کمیشن بنانا چاہئے جو برسرزمین معلوم حقائق اور اسکے ذمہ داروں کا دستاویزی تعین کرے تاکہ قومی وسائل کو چند ہزار گھرانوں کی قید سے آزاد کیا جاسکے اور ریاستی وسائل عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بروئے کار لائے جا سکیں۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)