بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / کارکردگی اور احتساب

کارکردگی اور احتساب


تیس مارچ کے روزصلاح الدین محسود کو خیبرپختونخوا کاپولیس سربراہ مقرر کیاگیاجس کے بعد سے پولیس کی کارکردگی اور احتساب سے متعلق بیانات داغنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ماضی کی طرح انسپکٹر جنرل کی آنکھوں میں سلیوٹ مار مار کر دھول جھونکنے والا چاق و چوبند ٹولہ بھی سرگرم دکھائی دیتا ہے اور پھر ایسا کون ہوگا جسے ’خوشامد‘ پسند نہ ہو!؟ صدافسوس کہ مؤثر پولیسنگ کے حصول کیلئے بنیادی ذمہ داری کی بجاآوری کی بجائے ثانوی‘ سطحی اور نمائشی اقدامات پر زیادہ توانائیاں اور مالی وسائل خرچ ہو رہے ہیں! خیبرپختونخوامیں پولیس اہلکاروں کو انگریزی زبان میں بول چال اور پڑھنے لکھنے کی تربیت کا مقصد اگر خدمت خلق‘ فرض شناسی اُور جاں نثاری کے ساتھ‘ خوش اخلاقی کا حصول ہے تو یہ اہداف کسی ’خارجی زبان‘ کی کم یا زیادہ سمجھ بوجھ سے مشروط نہیں۔ دنیا کے کئی ایسے ممالک ہیں جہاں پولیس اہلکاروں کو انگریزی زبان نہیں آتی لیکن وہ معاشرے کے لئے عمومی و خصوصی طور پر اگر مفید ہیں توانہوں نے ادارہ جاتی فرائض و مقاصد کو سوفیصد حکمرانوں یا ذاتی مفادات کے تابع نہیں کر رکھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اہم شخصیات کے اردگرد حفاظتی حصار بنائے رکھنے والی پولیس فورس کے اہلکاروں کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ حکمرانوں کے غلام نہیں اور نہ ہی ان کے ذاتی محافظ ہیں بلکہ وہ ریاست کی خدمت کا عہد کئے مسلح‘ باوردی اور ایک ایسی فورس کا حصہ ہیں جسے قانون کی حکمرانی کا عملاً قیام ممکن بنانا ہے۔

عجیب صورتحال حال یہ ہے کہ معاشرے میں شریف اسے سمجھا جاتا ہے جو پولیس سے کسی بھی قسم کا واسطہ نہ رکھتے ہوئے تھانے کچہری کے معاملات سے کوسوں دور رہے یا پھر وہ عمائدین اور شرفاء کہلاتے ہیں جو ’پولیس فورس‘ کو اپنی لونڈی بنائے رکھیں۔ آئی جی پی ایبٹ آباد تشریف لائے اور شہری مرکز سے دور پہاڑ کی چوٹی پر تعمیر خیبرپختونخوا ہاؤس میں عشایئے پر عمائدین شہر کو مدعو کیا گیا ! بہرحال اٹھارہ اگست بروز جمعہ کی شب اس اسراف کودیکھتے ہوئے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ خیبرپختونخوا کے کسی ایسے محکمے کی تقریب ہے‘ جو حالت جنگ میں ہونے کے باوجود بھی نہ تو خاطر خواہ افرادی وسائل رکھتی ہے اور نہ ہی جدید اسلحے سے لیس ہے۔ تھانہ جات کے پاس گشتی گاڑیوں کی مرمت اور ایندھن کے علاوہ ٹیلی فون بلوں کی بروقت ادائیگی کے لئے اکثر پیسے نہیں ہوتے۔ ڈیوٹی کے دوران شہید ہونے والوں کو پورے اعزاز سے دفن کرنے کے بعد ان کے لواحقین و پسماندگان کو گلہ رہتا ہے کہ حسب اعلانات حقوق کی کماحقہ ادائیگی نہیں کی جاتی اگر نئے انسپکٹر جنرل کی مختلف مکاتب فکر سے تعارفی نشست‘ ضلعی حالات و واقعات کے بارے میں تبادلہ خیال کیلئے بامقصد نشست مقصود ہوتی‘ تو اسکا انعقاد مغرب سے عشاء کے درمیان ’ڈسٹرکٹ اسمبلی کے ٹاؤن ہال‘ میں بھی ہوسکتا تھا جو شہر کے وسطی حصے میں واقع ہے۔

‘ جس تک پہنچنے کیلئے سرکاری و نجی وسائل سے لاکھوں روپے کا ایندھن الگ سے ضائع کرنے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی۔ سادگی میں بڑی حکمت ہے اور سادگی اختیار کرنے ہی میں عافیت ہے کیونکہ خیبرپختونخوا پولیس کے پاس مالی وسائل لامحدود نہیں۔ کیا یہ مطالبہ ناجائز ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے پیسے کی ہر ایک پائی سوچ سمجھ کر اور دردمندی کے ساتھ خرچ ہونی چاہئے؟ انسپکٹر جنرل صاحب اپنے ڈیپارٹمنٹ میں کالی بھیڑوں کی موجودگی سے انکار نہیں کرتے اور یہی وجہ تھی کہ اٹھارہ اگست کی شب انہوں نے ایک ایسے حیران کن ’تجرباتی اقدام‘ کا اعلان کیا‘ جو پہلے ہی ایک سے زیادہ قوانین و قواعد میں موجود ہے یعنی پولیس کی کارکردگی پر نظر عوام کے منتخب بلدیاتی نمائندے اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے رکھی جائے گی جس محکمے کا احتساب خود اس کے اپنے فیصلہ ساز نہ چاہتے ہوں‘ وہاں عام آدمی کی جرات ہی کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ ٹرانسپورٹرز‘ ہوٹل و گیسٹ ہاؤس مالکان‘ جائیدادوں کی خریدو فروخت کے بڑے حصہ داروں اور سب سے بڑھ کر سیاسی شخصیات کے منظورنظر‘ پولیس اہلکاروں سے ان کی مالی حیثیت کے بارے پوچھ سکیں!؟