بریکنگ نیوز
Home / کالم / ارشاد احمد صدیقی / جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا

جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا

مخالفین سمجھتے ہیں کہ نواز شریف اور مسلم لیگ ن کا خیال یہ تھا کہ وہ لاہور پہنچنے سے قبل ہی ملک کے مقبول لیڈر بن جائیں گے‘ ان کے پروگرام کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں میں بھرپور استقبال ہوگا، جگہ جگہ رک کر خطابات کریں گے، لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آیا،بیان بازیوں سے تویہی لگتا تھا کہ نوازشریف لاہور میں ایک قد آور شخصیت کے طور اتریں گے، ان کی ہردلعزیزی آسمان کو چھو چکی ہوگی‘ نوازشریف اور فیملی اور نوازلیگ کے مطابق انہیں لاہور میں وہ رتبہ ملے گا کہ وہ قائداعظم ثانی بن کر لاہور آئیں گے یا انہیں نیلسن منڈیلا کے طورپر خوش آمدید کہاجائیگا یا وہ پاکستان کے اتاترک کہلائیں گے، لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آیا۔
مشک آں است کہ خود بیوید نہ کہ عطار بگویدنوازشریف کی حالیہ تقریروں میں نارسائی اور شکست کے اسباب موجود ہیں لیکن ن لیگ اسے ہوا دے رہی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک منتخب وزیراعظم کومعزول کرنا اور اسے تاحیات نااہل قرار دے کر گھر بھجوانا یہ وزیراعظم کی توہین نہیں ہے بلکہ بیس کروڑ عوام کی توہین ہے جنہوں نے اسے اپنا قیمتی ووٹ دے کر منتخب کیاہے اور عدالت عالیہ نے بیک جنبش قلم اسے گھر بھجوادیا ہے۔

آپ کیا کریں گے؟نوازشریف کے ایسے بیانات میں عدالت عالیہ کی کھلی توہین ہے جس میں عدالت عالیہ ہی نہیں وہ اس میں اداروں کو نیچا دکھا رہے ہیں اور اپنے آپ کو معصوم اور بے گناہ گردان رہے ہیں،یہ وہ وزیراعظم کہہ رہا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے پاکستان کے خزانوں پر شب خون مارا، ملک کی دولت کو بیرون ملک غیر قانونی ذرائع سے منتقل کیا اور جب جے آئی ٹی نے اسے سرعام کیا اور عدالت عالیہ کے پانچوں ججزنے فیصلہ صادر کردیا کہ نوازشریف نہ ہی صادق ہیں اور نہ ہی امین ہیں۔ججزکے فیصلے کے خلاف انہوں نے صلاح و مشورے کئے اور اسلام آباد سے لاہور تک کا سفر بذریعہ جی ٹی روڈ کرنے کا حکم صادر کردیا۔

تمہارے ساتھ ہے کون آس پاس تو دیکھومخالفین کا الزام ہے کہ جشن جی ٹی روڈ کے شرکاء سارے سرکاری ملازمین تھے، جن میں بے وردی پولیس، پٹواری، تحصیلدار اور ڈی سی شامل ہیں جن کے ذمے یہ کام لگایا گیا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ سڑک پر اکٹھے کریں، پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ اس جشن جی ٹی روڈ کا سارا خرچہ سرکاری ذرائع سے اداہوا‘کیا اس جشن جی ٹی روڈ کا مقصد جمہوریت کو بچاناتھا؟ پارٹی کو بچانا تھا؟ یا خاندان کو بچانا تھا؟عمران خان کہتے ہیں نوازشریف کی جبلت کو دیکھاجائے تو وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا مقصد خاندان کو بچاناتھا،نو منتخب وزیراعظم اگرچہ نوازشریف کی کرسی پر براجمان ہیں لیکن ان کے پاؤں زمین پر نہیں ہیں، وہ عاجزی سے کہتے ہیں کہ ملک کا وزیراعظم تو نواز شریف ہے، شاید اسی لئے جشن جی ٹی روڈ پر نو منتخب وزراء اورحکومت کی ساری مشینری رواں دواں تھی، کسی کو علم نہیں کہ نومنتخب وزیراعظم کو یہ کام کس نے سونپا ،جس کی اہمیت اچانک ان کے فرض منصبی سے کہیں زیادہ ارفع ہوچکی ہے، نومنتخب وزیراعظم کو قوم نے ایک اہم ذمہ داری دی ہے، انہوں نے ابھی ابھی حلف اٹھایا ہے جس کی روشنائی ابھی خشک بھی نہیں ہوئی اور وہ جشن جی ٹی روڈ میں سرگرداں نظر آئے۔ہمارا ذہن نارسا سوچتا ہے کہ کب تک ہم عدالت کی بے حرمتی دیکھتے رہیں گے‘ کب تک ہم اپنے ملک کی پسماندگی کی تصویر دیکھتے رہیں گے، کب تک ہم پاکستان کے عوام کے خون پسینے کے ٹیکسوں کے ناجائز استعمال کو دیکھتے رہیں گے؟ ملک کے عوام کب تک ناانصافیوں کے جشن کی قندیلیں شمار کرتے رہیں گے اور کب تک ہم اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے؟