بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / حاذ آرائی ہونی ہی نہیں چاہئے

حاذ آرائی ہونی ہی نہیں چاہئے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت اور کسی بھی ادارے کے درمیان محاذ آرائی ہے نہ ہی ہوگی‘ آئندہ انتخابات 4جون کو ہوں گے‘ آصف علی زرداری سمیت تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کی تیاری کے حوالے سے ہی بیانات دے رہی ہیں‘ اس سب کیساتھ سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف ریفرنسز کی مخالفت سے متعلق سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ریفرنس فائل کرنا جن لوگوں کاکام ہے وہ اپنا کام کررہے ہیں‘ ہم اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور ہر صورت میں یہ دفاع کریں گے‘ وزیراعظم کے لیول پر اداروں کے ساتھ کسی بھی محاذ آرائی کی نفی قابل اطمینان ہے‘ منتخب قیادت کاکام ہی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور انہیں درست طریقے سے ہر ممکن سپورٹ فراہم کرنا ہوتا ہے‘ وطن عزیز کو درپیش چیلنجز اور عوام کی مشکلات تو اداروں کے استحکام کیساتھ سیاسی محاذ آرائی میں بھی تدبر‘ برداشت اور ایک دوسرے کے موقف کو کھلے دل سے سننے کا تقاضا کرتی ہیں‘ وزیراعظم کایہ کہنا بالکل درست ہے کہ سیاسی جماعتوں میں ہمیشہ بات چیت ہونی چاہئے کیونکہ سیاست ہوتی ہی بات چیت کے ذریعے ہے‘ پانامہ پیپرز کی رپورٹ منظر عام پر آنے کیساتھ ملک میں سیاسی گرما گرمی کا بڑھتا گراف اس مقام پر پہنچا جہاں سیاسی جماعتوں سے بات ہوتے ہوئے اداروں کے درمیان محاذ آرائی کے تاثر تک پہنچنے لگی۔

‘ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نواز شریف اداروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں‘ اس گرما گرمی میں بہت سارے اہم امور سرد خانے کی نذر ہونے لگے اور عام شہری اپنے مسائل اور درپیش مشکلات کے حل کی راہ ہی دیکھتا رہ گیا‘ اس وقت بہت سارے اہم امور مشترکہ مفادات کونسل میں حل طلب ہیں‘ این ایف سی ایوارڈ کیلئے صوبوں کے مطالبات بڑھتے چلے جارہے ہیں‘ دستور میں ترمیم کے بعد وفاق سے اداروں کی صوبوں کو منتقلی کا معاملہ ہوا میں معلق ہے‘ ملکی معیشت استحکام کی متقاضی ہے‘ عام شہری گرانی کی چکی میں پس رہا ہے‘ ساری صورتحال وسیع پیمانے پرسیاسی ڈائیلاگ کی متقاضی ہے‘ وزیراعظم جب اس ڈائیلاگ کو ناگزیر بھی قرار دیتے ہیں تو انہیں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اہم معاملات پر سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینے کی سعی ضرور کرنی چاہئے تاکہ آگے بڑھا جاسکے اور عوام کو ریلیف ملے۔

ذیابیطس ‘اعداد وشمار اور انتظامات

وطن عزیز میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعدادمیں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیاجارہا ہے‘ تازہ ترین سروے کے مطابق کل آبادی کا 26فیصد حصہ شوگر کا مریض ہے‘ ماہرین اس شرح کو باعث تشویش قرار دیتے ہیں‘ دوسری جانب تیزی سے پھیلتی اس بیماری کے علاج کا سرکاری سطح پر انتظام نہ ہونے کے برابر ہے‘ شوگر کی تشخیص ایک باقاعدہ تکنیکی طریقہ کار کے مطابق ہی ہوتی ہے‘ جس کیلئے ہسپتالوں میں خصوصی لیبارٹریوں یا کاؤنٹرز کا انتظام ضروری ہے‘ تشخیص کے بعد علاج کیلئے علیحدہ یونٹس ناگزیر ہیں جہاں ضرورت کے مطابق عملہ موجود ہو‘ اسی طرح ڈسٹرکٹ اور تحصیل لیول پر بھی شفاخانوں میں انتظامات ناگزیر ہیں‘ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہزاروں لوگ معلومات نہ ہونے کی بناء پر اپنی بیماری کی تشخیص ہی نہیں کراپاتے‘ ذیابیطس کی بڑھتی شرح اس بات کی متقاضی ہے کہ یونین کونسلوں کی سطح پر موبائل یونٹ بھجواکر لوگوں کا معائنہ اور ٹیسٹ کئے جائیں اور ذیابیطس تشخیص ہونے پر انہیں علاج کیلئے انتظامات کی تفصیل بتائی جائے تاکہ اس بیماری کے مضر اثرات اور اس سے جڑے امراض کی روک تھام ممکن ہوسکے۔