بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / آپریشن خیبر 4 کامیابی سے مکمل ہوگیا،آئی ایس پی آر

آپریشن خیبر 4 کامیابی سے مکمل ہوگیا،آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجرجنرل آصف غفور کے مطابق 15 جولائی سے شروع ہونے والا آپریشن خیبر 4 مکمل ہوگیا۔

پریس کانفرنس کے دوران آصف غفور نے بتایا کہ جن علاقوں میں آپریشن خیبر 4 کیا گیا وہ ایک دشوار گزار علاقہ تھا۔

آپریشن خیبر فور کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران 52 دہشت گرد ہلاک جبکہ 31 دہشت گرد زخمی اور چار نے ہتھیار ڈال دیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن خیبر فور میں پاک فوج کے 2 سپاہی شہید اور 6 زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کیے جانے والے سامان میں بارودی سرنگ بنانے والا سامان ملا ہے جس پر ’میڈ ان انڈیا‘ لکھا ہوا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر آپریشن کے حوالے سے ایک ڈاکیومنٹری دکھائی۔

آپریشن ردالفساد کی تفصیلات


  • 22 فروری سے تاحال پورے پاکستان میں ایک لاکھ 24 ہزار سے آپریشن
  • 15 جولائی سے تاحال 3 ہزار 300 سے خفیہ آپریشن (IBOs)

بلوچستان

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ‘بلوچستان میں ایف سی نے 12 اگست کو آپریشن کیا اور بھاری مقدار میں اسلحہ وبارود برآمد کرلیا جو 14 اگست کو یوم آزادی کی تقریبات کے دوران پر استعمال ہونا تھا’۔

سندھ

سندھ میں آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘پاکستان رینجرز نے سندھ اور بالخصوص کراچی میں آپریشن کیے اور 2013 سے 2017 کے جرائم کے واقعات میں واضح حد تک کمی ہوئی اور 2017 میں دہشت گردی کا ایک واقعہ ہوا تاہم سماجی جرائم خالصتاً پولیس کی حد میں آتے ہیں جس میں اتنی کمی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے کیونکہ اس کا تعلق پولیس کی صلاحیت پر ہے پولیس مضبوط ہوگی تو اسٹریٹ کرائم بھی وقت کے ساتھ کم ہوں گے’۔

پنجاب

ان کا کہنا تھا کہ ‘پنجاب میں رینجرز نے 1728 خفیہ آپریشن کئے اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے، خیبر پختونخوا میں بارڈر منیجمنٹ مضبوط کرلی ہے اور دہشت گرد افغانستان سے آکر حملہ کرتے تھے لیکن اب وہاں ہماری موجودگی مضبوط ہوئی ہے اس لیے ان کے حملوں کو ناکام بنا دیے جاتے ہیں’۔

خیبرپختونخوا

انھوں نے کہا کہ ‘افغانستان سے سرحد پار کرنے کی کوشش ضرور ہوتی ہے اور اب بھی ہوتی ہے لیکن کامیاب نہیں ہوتے اور 2017 میں اب تک 250 سرحد پار حملے ہوئے ان میں سے کسی میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوئے اور 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب 8 سرحد پار حملے کئے گئے’۔

قبائلی علاقے (فاٹا)

قبائلی علاقوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘آپریشن ہم مکمل کرچکے ہیں اور اب ترقیاتی کام ہورہے’۔