بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / صوابی کے کئی دیہات کو گیس کی فراہمی کا مسئلہ حل

صوابی کے کئی دیہات کو گیس کی فراہمی کا مسئلہ حل

پشاور ۔ صوابی کے کئی دیہات کو گیس کی فراہمی کا دیرینہ مسئلہ گزشتہ روز حل کر دیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا31۔اگست کو اس کا افتتاح کریں گے۔یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی زیر صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں دوسروں کے علاوہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر،ممبران قومی اسمبلی ڈاکٹر عمران خٹک اور عاقب اللہ خان ،وفاقی سیکرٹری پٹرولیم ایم جی اور جی ایم سوئی گیس ،ایم ڈی خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی لمٹیڈ نے بھی شرکت کی۔

فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت اور سوئی نادرن گیس (SNGP2)مذکورہ علاقے کو گیس کی فراہمی پر پابندی ختم کر کے 6اور8انچ پائپ لائنز کی فراہمی کے لئے سامان جاری کریں گے۔انہوں نے اس امر پر بھی اتفاق کا اظہار کیا کہ زیدہ،کوٹھا،ٹوپی تورڈھیر کے چار مرکزی مقامات پر ٹھیک مذکورہ مقررہ تاریخ سے پہلے افتتاح کے تمام انتظامات کر لئے جائیں گے۔انہوں نے اس سلسلے میں تقسیم کے نیٹ ورک کے لئے کام کی تعداد بھی جاری کر دی۔

اس منصوبے میں ایک سو کلو میٹر پائپ لائن کی تنصیب شامل ہے ۔یہ مسئلہ1995سے زیر التواء تھا جبکہ جہانگیرہ سے صوابی تک کے راستے پر ضلع کے مختلف علاقوں میں پائپ لائن بھی بچھا دی گئی تھی لیکن فنڈز کی کمی کے باعث یہ منصوبہ زیر التواء رہ گیا۔بعد ازاں جہانگیرہ،زیدہ،ٹوپی اور گدون کے دیہات کو گیس فراہم کر دی گئی لیکن این اے13۔پی کے34،35اور36پر مشتمل زیادہ تر علاقے اس سہولت سے محروم رہے۔

اس منظور شدہ منصوبے کے تحت مرغز،ٹھنڈکوئی،گھرمنارہ،گڑھ اکاخیل،اکاخیل کے دیہات،زید یوسفزئے اور بام خیل کے بقیہ حصے انبار،منکئی،جلسئی،تورڈھیر،چھوٹا لاہور،بٹکرہ،کوٹھہ،زروبی،کنڈا،کلابٹ،کڈئی،ڈھوک،بونٹیا،مینئی،جلبئی،پنج پیر کے بقیہ حصے شاہ منصور،بستی جنڈا بوکو،باجا،ڈھوڈھیر،پبینئی اور پجمون وغیرہ کو گیس کی فراہمی کی منظوری دی گئی ہے۔یہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سپیکر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا جن کے حلقہ انتخاب کے زیادہ تر علاقے اس سہولت سے محروم تھے نے اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لئے وفاقی حکومت کے حکام جن میں سابق وفاقی وزیر پٹرولیم اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی شامل ہیں کے ساتھ کئی عدد اجلاس منعقد کئے جبکہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی اس دیرینہ مسئلے کے حل کے لئے سابق وزیر اعظم کو کئی عددڈی او لیٹر بھی لکھے۔

صوبائی حکومت نے اس منصوبے پر آنے والے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالنے کے عزم کا پہلے ہی اظہار کر رکھا ہے۔دریں اثناء ہنگو اور کرک کے اضلاع سے تیل اور گیس کی آمدنی سے ایس این جی پی ایل 2.88بلین روپے جاری کر دئیے ہیں جو وزیر اعلیٰ نے مذکورہ دونوں اضلاع کے انفرا سٹرکچر کی ترقی اور فروغ کے لئے پوری طر ح بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے جن سے ان دونوں اضلاع کو صوبے اور ملک کے دیگر ترقیافتہ علاقوں کے برابر لانے میں مدد ملے گی۔