بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / انتخابی مہم کے الیکشن بھی مہنگے ترین بننے کا خدشہ

انتخابی مہم کے الیکشن بھی مہنگے ترین بننے کا خدشہ


پشاور۔اگلے انتخابات کیلئے چلائی جانے والی انتخابی مہم کے الیکشن بھی مہنگے ترین بن جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں نئے انتخابی قوانین میں قومی اسمبلی کے ہرامیدوارکے لیے انتخابی اخراجات کی حدمیں اضافہ کے بعدصرف تین بڑی جماعتوں کی طرف سے انتخابی اخراجات چارارب روپے سے بڑھ کر15ارب روپے تک پہنچنے کااندازہ ہے قومی اسمبلی کی 272،صوبائی اسمبلیوں کی 559جنرل اورسینٹ کی نشستوں پر انتخابا ت کے لیے انتخابی اخراجات کی حدبڑھادی گئی ہے ۔

قومی اسمبلی کے امید وار اب پندرہ لاکھ کے بجائے چالیس لاکھ تک اخراجات کرسکیں گے تاہم یہ قانونی اخراجات ہیں عموماً اس سے کئی گنا زیادہ اخراجات کیے جاتے ہیں تاہم اگر قانونی اخراجات کی بات کی جائے تو قومی اسمبلی کی نشستوں پر اگر صرف بڑی جماعتوں کے امیدواروں کی بات کی جائے تو انتخابی اخراجات چھ سے سات ارب روپے تک ہونگے اسی طرح صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر پانچ سے چھ ارب روپے کے اخراجات ہونگے ۔

سینٹ اورقومی و صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں کے اخراجات انکے علاوہ ہونگے یوں خدشہ ہے کہ قانونی اخراجات چار ارب سے بڑھ کر پندرہ ارب تک پہنچ جائیں گے جس کی وجہ سے ہی ملک کی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات ثابت ہونگے تاہم آزاد ذرائع کاکہناہے کہ طویل انتخابی مہم کے تناظر میں گذشتہ انتخابی مہم کے دوران ہونے والے چالیس ارب کے اضافی اخراجات کے مقابلہ میں اگلے الیکشن میں ایک کھرب اضافی معاشی سرگرمیوں کاامکان ہے