بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / یوم آزادی اور معمار قوم

یوم آزادی اور معمار قوم

یوم آزادی کسی بھی ملک کا ہو یہ ایک ایسا دن ہوتا ہے جب ماضی پر ایک نظر ڈالی جاتی ہے‘ حال کا جائزہ لیا جاتا ہے اور مستقبل کے بارے میں غوروفکر کیا جاتا ہے یہ دن اس بات کے تعین کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ملک صحیح سمت میں جا رہا ہے یا نہیں لوگوں کو انصاف مل رہا ہے ‘ غربت میں کمی ہو رہی ہے‘ تعلیم کے حصول میں مشکلات تو نہیں اور شہری ریاست کے نظام پر یقین رکھتے ہیں یا نہیںیہ اعشاریئے ہمیں کسی ملک کی مجموعی صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں مگر یہ ہمیں لوگوں کی امیدوں اور خوابوں کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے یہ ہمیں ان لوگوں کے تصورات‘ اصولوں اور نصب ا لعین کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتاتے جنہوں نے ایک نیا ملک بنانے کیلئے جہدوجہد کی تھی یہ اعدادو شمار اس سوال کا جواب بھی فراہم نہیں کرتے کہ یہ ملک صرف جبرو تشدد سے نجات حاصل کرنے کیلئے بنایا گیا تھا‘ اسکا مقصد محض خوشحالی کا حصول تھا یا پھر مذہبی آزادی اسکی اصل غرض و غایت تھی‘ ہر ملک کے دانشور اور مورخین ان سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر کس مورخ کے چنے ہوئے حقائق کو درست تسلیم کیا جا سکتا ہے اور کس دانشور کی حکمت کو حرف آخر سمجھا جا سکتا ہے تقسیم ہند کے بارے میں پاکستان اور انڈیا میں ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اس بٹوارے کے دوران کم از کم پندرہ لاکھ لوگ خون میں نہلادےئے گئے اس سے کہیں زیادہ زخمی ہوئے اور ہزاروں خواتین تشدد کا نشانہ بنیں آج ستر سال بعد کیا مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی تاریخ کے اس خوفناک خون خرابے کا ذمہ دار کون تھابرطانوی سلطنت جس نے لگ بھگ سو سال تک ہندوستان پر حکومت کی کیا وہ اس ہولناک تباہی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے کیا وہ اس سوال کا جواب دے سکتی ہے کہ اس نے اتنی عجلت میں اتنے وسیع اور پیچیدہ خطے کو کیوں تقسیم کیاصدیوں پرانے اس ملک کے حصے بخرے سوچ سمجھ کر اور افہام و تفہیم کیساتھ بھی تو کئے جا سکتے تھے برطانوی راج اگر اس قتل عام کا ذمہ دار نہ تھا تو کیا مذہبی اور نسلی نفرتیں اس بربریت کی اصل وجہ تھیں۔

ہم جانتے ہیں کہ تاریخ کی دھندمیں اس قسم کے سوالوں کا جواب تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر داستان گو کے اپنے نظریات اورتعصبات ہوتے ہیں مکمل غیر جانبداری سے تاریخ کے دھندلکوں میں جھانکنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی ایسے میں ہم سچائی تک کیسے پہنچ سکتے ہیں گذشتہ ستر برسوں میں ہم یہ بھی طے نہیں کر سکے کہ محمد علی جناح نے کس قسم کی ریاست بنانے کا خواب دیکھاتھاکیا آج کے پاکستان کو انکے خوابوں کی تعبیر کہا جا سکتا ہے یہ بحث اس ملک سے باہر تو بلا خوف و خطر کی جا سکتی ہے مگر اسکی چار دیواری کے اندر یہ گفتگو ایک مخصوص پیرایہ اظہار کے اندر رہ کر کرنا پڑتی ہے ہم نے پچھلے ستر برس میں محمد علی جناح کی کہی ہوئی ہر بات کو اپنی پسندکا لبادہ پہنا کر دیکھا ہم نے اسکے ہر لفظ کی من مانی تشریح کی مگر ہم کسی ایک معنی پر متفق نہ ہو سکے تعبیروں کے اس سراب سے نکلنے کا ایک راستہ ہمارے پاس اس سوال کی صورت میں موجود ہے کہ کیاصرف ہم ہی گم کردہ راہ ہیں یا پھر کچھ دوسرے لوگ بھی اپنے خوابوں کے جنگل میں نشان منزل تلاش کر رہے ہیں نظر یہ آرہا ہے کہ بہت کم ملک ایسے ہیں جہاں معماران قوم کے آدرشوں پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے امریکہ میں آج بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ الیگزینڈر ہملٹن اور جیمز میڈیسن کا طرز استدلال درست تھا یا تھامس جیفرسن کے انداز فکر کو مشعل راہ بنایا جا سکتا ہے دو سو چالیس برس قبل امریکہ کے معماران قوم اس بحث میں کسی خاطر خواہ نتیجے تک نہ پہنچ سکے تھے کہ وفاقی حکومت کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیکر مضبوط بنانا چاہئے یا ریاستوں کو بیشتر حقوق دے دینے چاہئیں تا کہ وہ لوگوں کی خواہشات کے مطابق انکے مسائل حل کر سکیں پہلی صورت میں عام آدمی کی آزادی سلب ہو جاتی ہے اور دوسری صورت میں اگر ہر ریاست کو مختار کل بنا دیا جائے تو سب اکائیوں کو ایک ملک اور سب لوگوں کو ایک قوم کی صورت میں کیسے متحد رکھا جا سکتا ہے امریکہ کے آئین ساز ادارے آج بھی اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کا مسئلہ وفاق کو طے کرنا چاہئے یا ہر ریاست کو یہ معاملہ اپنے مخصوص سماجی رجحانات اور اکثریت کی رائے کے مطابق حل کر نا چاہئے‘ ۔

ہر ریاست کی پولیس کو لوگوں سے شہریت کے کاغذات مانگنے کا اختیار حاصل ہے یا یہ کام صرف وفاقی حکومت کے ادارے کو کرنا چاہئے ‘ہیلتھ انشورنس کیلئے دی جانے والی مالی امداد(subsidy)ریاست کو تقسیم کرنی چاہئے یا وفاق کو ‘ ریاستیں صدر امریکہ کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ دے سکتی ہیں یا نہیںیہ مباحثے آئین ساز اداروں اور میڈیا سے لیکر چوپالوں اور جلسے جلوسوں تک ہر جگہ ہوتے رہتے ہیں اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ لوگ اگر اختلافی مسائل پر متفق نہیں ہو سکتے تو اس صورت میں بھی مکالمہ جاری رہنا چاہئے کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی قابل قبول حل سامنے آ ہی جاتا ہے برطانیہ نے یورپی یونین میں رہنے یا نہ رہنے کے پیچیدہ سوال کا جواب آخر ڈھونڈ نکالا ہے امریکہ میں صدر ٹرمپ کے حامی سفیدفام قوم پرستوں کو روس کیساتھ پینگیں بڑھانے کے معاملے پر ایک طویل کشمکش کے بعد پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے جرمنی میں چانسلر انجیلامارکل لاکھوں شامی مہاجرین کو پناہ دینے کی بحث میں اپنی بات منوانے میں کامیاب ہوئی ہیں ان ممالک میں ترکی کی طرح ریاستی اداروں کو استعمال کر کے صدر مملکت کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ نہیں کیاگیاپاکستان میں بھی ریاستی اداروں کی آئینی حدود کے بارے میں ایک بھرپور مکالمہ جاری ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسوقت مسلم ممالک میں صرف دو توانا جمہوریتیں قائم ہیں ان میں سے ایک پاکستان ہے اور دوسری تیونس ‘ دونوں ممالک میں بنیادی نوعیت کے مسائل زیر بحث ہیں ‘ ان میں ریاستی اداروں کی حدود و قیودکا معاملہ ابھی تک طے نہیں ہواطاقت کے روایتی مراکز ریاست کی کشتی کو اپنی مرضی کی سمت میں لے جانے پر مصر ہیں وہ پتوار بہر صورت اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں لوگوں کی اکثریت اس مداخلت کوبرداشت کرتی ہے یا نہیں یہ فیصلہ ہمیشہ کیلئے موخر نہیں کیا جا سکتا بلا شبہ پاکستان ستر برسوں میں بنیادی نوعیت کے مسائل طے نہیں کر سکامگر حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ اس مرتبہ چودہ اگست کے دن یوم آزادی پہلے سے کہیں زیادہ جوش و خروش سے منایا گیا لوگوں کی اپنے وطن سے بے پناہ محبت ثابت کرتی ہے کہ معمار قوم محمد علی جناح نے جو خواب دیکھا تھا وہ سچا تھا اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پاکستان اگر نہ بنتا تو آج متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت غزہ اور ویسٹ بینک کے فلسطینیوں سے بھی بد تر ہوتی اسلئے چودہ اگست کا دن با آواز بلند پاکستان زندہ باد کہنے کا دن ہے یہ صرف یوم آزادی ہی نہیں یوم نجات بھی ہے۔(یہ تحریر چودہ اگست کو نیو یارک کی ایک تقریب میں پڑے گئے مضمون کا ترجمہ ہے)