بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایسی بلندی‘ ایسی پستی

ایسی بلندی‘ ایسی پستی


دنیائے ہاکی اور سکواش میں ہماری زبوں حالی کے دن ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ایسا لگتا ہے ان دوگیمز میں شکست نے ہمارے گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان جو کبھی ان دو گیمز میں اوج ثریا پر تھا عرش سے فرش پر ایسے اوندھے منہ گرا ہے کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا ؟ کئی سوال اٹھ رہے ہیں؟ کیا ان دوگیمز سے متعلق ذمہ دار سرکاری ادارے کما حقہ اپنے فرائض سر انجام نہیں دے رہے ؟ کیا ان کھیلوں میں دنیا میں ماضی میں نام کمانے والوں کی خدمات اور تجربات سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ؟کیا سیاست نے پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستان سکواش ایسوسی ایشن میں بھی ڈیرے ڈال لئے ہیں؟کرکٹ میں کبھی تو ہم آسمان کی بلندیوں کو چھو لیتے ہیں تو کبھی اتھاہ گہرائی ہمارا مقدر بن جاتی ہے لیکن چلو آخر میں ہمارا بیلنس تو ٹھیک ہو جاتا ہے دو گیمز البتہ ایسی ہیں کہ ایک عرصے سے جن میں ہم پے درپے شکست کا سامنا کر رہے ہیں یہ جاننا بڑا ضروری ہے کہ آخر اس بات میں تو دو آراء ہو ہی نہیں سکتیں کہ ہم نے ہاشم خان ‘ اعظم خان ‘ روشن خان ‘ محب اللہ ‘ قمر زمان ‘ علاؤالدین گوگی‘ جہانگیر خان اور جان شیر خان جیسے سورما سکواش کے کھیل میں پیدا کئے کہ جن کا ثانی دنیانے آج تک نہ دیکھا ہاشم خان کی برتری کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ سکواش چونکہ نہایت ہی سخت کھیل ہے اسے کھیلنے والا کوئی بھی کھلاڑی 25 یا28 برس کی عمر کے بعد بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کے قابل نہیں رہتا اس کا جسم پھر اس کھیل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہتا لیکن ہاشم خان کودیکھئے کہ وہ 47 برس کی عمر میں برٹش اوپن سکواش ٹورنامنٹ جیتتے ہیں اور پھر پانچ سال مسلسل اس کے چیمپئن بھی رہتے ہیں ۔

سکواش کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہاشم خان کے بعد یہ اعزاز برسوں برس تک اعظم خان ‘ روشن خان ‘ محب اللہ ‘ قمر زمان ‘ جہانگیر خان اور جان شیر خان کے پاس رہتا ہے ایک یا دو سال نہیں لیکن دو تین عشیروں تک پاکستان سکواش کی دنیا پر حکومت کرتا رہا اس کے بعد اس کھیل پر کچھ ایسا زوال آیا کچھ ایسا جمود دیکھنے میں آیا کہ پاکستان مندرجہ بالا معیار کے کھلاڑی پیدا ہی نہیں کر رہا آخر ماجرا کیا ہے ؟ اس کا کھوج لگانا ضروری ہے کیونکہ جہاں تک ٹیلنٹ کا تعلق ہے اس کاتو اس ملک میں کبھی فقدان رہا ہی نہیں اور اس گیم میں نئے کھلاڑیوں کے سامنے پرانے رول ماڈلوں کی بھی تو کمی نہیں ‘ کم وبیش یہی حال ہاکی کا بھی ہے یہ 1952ء سے لیکر 40 سال پر محیط1990ء تک کے عرصے کی بات ہے کہ دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا بین الاقوامی سطح کا ہاکی ٹورنامنٹ ہو گا کہ جس میں ہماری ٹیم وکٹری سٹینڈ تک نہ پہنچی ہو ہم یا تو گولڈ میڈل‘ یا پھر چاندی کا تمغہ اور یا پھر کانسی کا میڈل ضرور جیتے یعنی پاکستان کی ہاکی ٹیم کا شمار دنیا کی پہلی دو تین ٹیموں میں ضرور تھا پھر ہماری ہاکی ٹیم پر بھی کچھ ایسی تباہی آئی کہ آج ہمارا شمار نہ تین میں ہے اور نہ تیرہ میں سکواش کی طرح ہاکی میں بھی ہم جیسے قحط الرجال کا شکار ہوں ایک دور تھا کہ دنیا میں ہماری شناخت سکواش اور ہاکی کی وجہ سے بھی ہوتی تھی اب چراغ لے کر بھی ڈھونڈو تو دور دور تک کرنل دارا‘ کیپٹن حمیدی عاطف‘ عبدالوحید‘ ذکاء الدین ‘ نصیر بندہ ‘ مطیع اللہ ‘ انوار احمد خان ‘ حبیب علی کڈی‘ شہباز شیخ‘ سلیم اللہ‘ سمیع اللہ ‘ کلیم اللہ‘ حسن سردار‘ میرڈار‘ تنویر ڈار‘ منظور جونیئر‘ رشید‘قاضی محب‘ منظور الحسن‘ اصلاح الدین ‘ اسد ملک ‘خالد محمود ‘ غلام رسول اور فضل الرحمان جیسے ہاکی کے کھلاڑی نظر نہیں آ رہے۔