بریکنگ نیوز
Home / کالم / آئینی اصلاحات:سیاسی جماعتوں کا کردار!

آئینی اصلاحات:سیاسی جماعتوں کا کردار!


سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس کے فیصلے نے پوری قوم کو عجیب مخمصے میں ڈال دیا ہے اگر ایک ایسے عام آدمی کی رائے لی جائے جو کسی بھی سیاسی جماعت سے کچھ خاص وابستگی نہیں رکھتا اور ملکی سیاسی منظر نامے سے بھی اچھی طرح واقف ہے تو وہ بھی نہ تو پوری طرح اس فیصلے سے متفق ہوگا اور نہ ہی اس کے خلاف بات کرے گا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ماضی میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہو چکا۔ پی سی او عدالتیں ماضی کا حصہ بن چکیں۔ ضیاء‘ مشرف کے مارشل لاء گزر چکے مگر ان حادثات نے ملک کی جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں اب عدلیہ اگر کسی بھی ’بڑے‘ کے خلاف کوئی بھی فیصلہ کرے تو وہ ’بڑا‘ اس فیصلے کو ان ماضی کے حادثات کی عینک سے دیکھے گا۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم میں بیٹھا کوئی بھی نمائندہ چاہے جیسی بھی تحقیقات کرے یا جو بھی ثبوت لائے ان کو بھی اسٹیبلشمنٹ کے ماضی کے کردار کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ ایک عام آدمی بھی کنفیوز ہے اور سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر کس ادارے پر کس حد تک اعتماد کیا جائے‘اگر میں بحیثیت پاکستانی اپنے اداروں کا دفاع کرنا بھی چاہوں‘ عدالت کے اس فیصلے کو 100فیصد درست مان بھی لوں تو بھی اس فیصلے کے خلاف دلائل دینے والے مجھے ماضی میں ہونے والے واقعات سے مثالیں دے کر میرے دل میں شک ڈال دیں گے۔ میاں نواز شریف صاحب اس عدالتی فیصلے کو عوام کی عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور پہنچ چکے اور بقول ان کے اور ان کے قریبی رفقاء کے عوامی عدالت نے اُنہیں باعزت بری بھی کر دیا ہے۔ آگے کا لائحہ عمل بھی تقریباً سامنے آ چکا ہے۔ ماضی میں ضیاء الحق کی بنائی گئی شق باسٹھ اور تریسٹھ کی آبیاری کی ذمہ داری میاں صاحب نے خود اپنے سر لی تھی‘۔

اسے خوب پال پوس کر بڑا کیا اور اپنے دو ادوار میں اس پر خاموش رہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ تینوں اَدوار میں خاموشی سادھے رہے کیونکہ جس دن یہ فیصلہ آیا تھا اس سے ٹھیک ایک دن پہلے تک بھی نواز شریف صاحب شق باسٹھ اور تریسٹھ کو کسی صورت اپنی توجہ دینا گوارا نہیں کر رہے ہوں گے پھر اچانک فیصلہ آیا اور وہ شقیں جن کی میاں صاحب اپنے تمام ادوار حکومت میں حفاظت کرتے آئے تھے وہی بُری لگنی شروع ہو گئیں کیونکہ اس بار میاں صاحب خود ان شقوں کے شکار بنے۔ اسلام آباد سے لاہور جاتی سڑک پر چار دن تک جاری رہنے والا احتجاج اس لئے نہیں تھا کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے وزیر اعظم کو فارغ کیا ہے۔ اگر دکھ وزیر اعظم کو فارغ کرنے کا ہوتا تو میاں صاحب آپ کو یہ شور شرابا آج سے ٹھیک پانچ سال پہلے بھی کرنا چاہئے تھا جب یوسف رضا گیلانی کو عدالت کی طرف سے اسی شق تریسٹھ کے تحت سزا سنا کر گھر بھیج دیا تھا اور پھر اس وقت عوامی خطابات میں اس عدالتی فیصلے کی کھل کر حمایت کی گئی تھی! چنانچہ یہاں یہ بات تو ثابت ہوئی کہ اس بات کا زیادہ دکھ نہیں کہ ایک وزیر اعظم کو اعلیٰ عدلیہ نے گھر بھیجا بلکہ اصل دکھ تو اس بات کا ہے کہ نواز شریف کو عہدہ چھوڑنے کا حکم کیوں دیا گیا۔ایسی کیا وجوہات تھیں کہ سابقہ دور حکومت میں حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے والی اور ملک کے سب سے بڑے صوبے میں حکومت کرنے والی جماعت نے اُس وقت کوئی آواز نہیں اٹھائی جب ایک وزیر اعظم کو اسی شق کے تحت فارغ کیا جا رہا تھا حالانکہ وہ بھی نواز شریف کی ہی طرح عوامی مینڈیٹ کے حامل وزیر اعظم تھے؟ میاں صاحب اگر ایک لمحے کے لئے مان بھی لیا جائے کہ سیاستدانوں کے خلاف ان شقوں کا غلط استعمال ہوا ہے تو عوام آپ سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ یہ خیال آپ کو آج ہی کیوں آیا؟ نااہل ہونے کے فوراً بعد آپ نے پنجاب ہاؤس میں اپنے پارٹی رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب میں نظریاتی ہو چکا ہوں یعنی ایسا بیس سے پچیس سال پہلے نہیں تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سال پہلے بھی آپ نظریاتی نہیں تھے کیونکہ آپ نے اقتدار سے باہر یا اقتدار میں رہتے ہوئے آئین کی اس شق کے خلاف آواز نہیں اٹھائی‘ الٹا بعض جگہوں پر حمایت کی۔

المیہ یہ رہا ہے کہ جب کوئی سیاسی جماعت حکومت میں ہوتی ہے تو آئین کی تشریح کچھ اور ہوتی ہے اور جب اسی جماعت کے اراکین اپوزیشن بنچوں پر براجمان ہوتے ہیں تو آئین کی تشریح ایک مخصوص طرز فکر کے ساتھ کی جاتی ہے۔ میثاقِ جمہوریت کی مثال دی جاتی ہے کہ سابق وزرائے اعظم نے یہ معاہدہ صرف جمہوریت بچانے کے لئے کیا مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ میثاق اسوقت ہوا جب دونوں ملک سے باہر تھے اور ایک آمر انہیں وطن واپسی کی اجازت نہیں دے رہا تھااگر محترمہ بے نظیر بھٹو یا میاں صاحب میں سے کسی ایک کی بھی اس ملک میں حکومت ہوتی تو کیا ایسے کسی میثاق جمہوریت کا تصور ممکن تھا؟ بعدازاں دونوں جماعتوں کی ایک دوسرے کے پیچھے حکومتیں قائم ہوئیں لیکن میثاق جمہوریت پر کتنا فیصد عمل ہوا وہ بھی پوری قوم کے سامنے ہے۔ آج ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ میاں نواز شریف صاحب نے پوری حکومت کو ساتھ لے کر اس آئین کی شق میں ترامیم کیلئے کمر کس لی ہے۔ اس کے لئے بڑی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر کسی عمرانی معاہدے کی بات کی جا رہی ہے۔ میاں صاحب فاٹا کا ایک عام شہری آپ سے پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ اسے ’انتظار فرمائیے‘ کیوں کہا گیا ہے؟ جبکہ چار سال گزرنے کے باوجود انتخابی اصلاحات کے حوالے سے کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی اور نہ ہی ابھی تک قومی اسمبلی سے کوئی خاطر خواہ قانون سازی نظر آئی ہے! (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر انیس ترمذی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)