بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / وقف برائے تعلیم!

وقف برائے تعلیم!


مئی دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے تعلیمی اِیمرجنسی کے نفاذ کا مقصد سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان سکولوں کے تنظیمی معاملات کی اصلاح کرنا تھا تاکہ معیار تعلیم بلند کیا جا سکے لیکن راتوں رات تبدیلی لانے کا جنون جلد ہی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ محکمہ تعلیم کے معاملات اس قدر سادہ و آسان بھی نہیں تھے کہ چٹکیاں بجاتے ازخود درست ہوتے چلے جاتے بلکہ سیاسی فیصلہ سازوں پر برسرزمین حقائق جب ایک ایک کر کے کھلے تو انہیں احساس ہوا کہ تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کا تعلق پبلک ٹرانسپورٹ جیسا ہی ہے کہ پہلے نااہل اساتذہ کی بھرتی اور سیاسی وابستگیاں رکھنے والوں کو انتظامی عہدوں پر تعینات کرنے کے ذریعے سرکاری سکولوں کو تباہ کیا گیا اور اس کے پیدا ہونیوالے خلاء میں نجی ادارے پروان چڑھنے لگے۔ سیاسی فیصلہ سازوں کے سامنے جب یہ مسئلہ پیش ہوا کہ سرکاری سکولوں کی غیرتسلی بخش کارکردگی کی وجہ سے تعلیمی عمل نجی شعبے کے حوالے ہو چکا ہے جو ایک طرف تو والدین کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بیک وقت کئی ماہ کی فیسوں کا تقاضا کرتے ہیں بلکہ ٹیوشن فیس میں آئے روز من مانا اضافہ بھی کیا جاتا ہے اور فیس کے علاوہ دیگر ضمنی اخراجات بھی والدین کی شہ رگ پر چھری رکھ کر وصول کئے جاتے ہیں جن میں سکیورٹی کے انتظامات اور بجلی کے یوٹیلٹی بلز حتیٰ کہ کلاس رومز میں فراہم کئے جانے کاغذوں کی قیمت بھی سوگنا بڑھا کر شامل ہوتی ہے۔ کسی سکول کے کم سے کم معیار پر پورا نہ اترنے والے اداروں کیخلاف کاروائی کیوں نہیں کی جاتی‘یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر تاریخ اور قانون دونوں خاموش ہیں! دن دیہاڑے ڈکیتی کی وارداتیں صرف جرائم پیشہ عناصر ہی نہیں کرتے بلکہ ایسا کرتے ہوئے نجی تعلیمی ادارے بھی پائے گئے جو بیروزگار مرد و خواتین کو بطور اساتذہ بھرتی کرنے کے بعد انکا اِستحصال کرتے ہیں انکی خدمات کا خاطرخواہ معاوضہ نہیں دیا جاتا اور نجی سکول حسب آمدنی ٹیکس بھی اَدا نہیں کرتے۔

یہ بات کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ معاشرہ اس حد تک زوال پذیر پایا جائے گا کہ یہاں تعلیم بھی کاروبار بن جائے گا۔ آج کی تاریخ میں نجی تعلیمی اِدارے ’اَصل حاکم‘ ہیں جہاں کسی صنعت کی طرح تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے والے درس و تدریس کی قیمت اور منافع کی شرح کا تعین اپنی مرضی سے کرتے آ رہے ہیں۔ اِس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ’خیبرپختونخوا حکومت‘ نے پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی بل 2017 بنایا لیکن ابھی اس قانون کے اطلاق سے ثمرات حاصل بھی نہیں ہوئے کہ اس میں متعدد ترامیم کردی گئی ہیں‘ جن کے ذریعے نجی تعلیمی اداروں کی نگرانی صوبائی وزیرتعلیم سے واپس لیتے ہوئے محکمۂ ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن کے سیکرٹری کو سونپنا بھی شامل ہے عوام کے کسی منتخب نمائندے سے نگرانی کا عہدہ کسی ایسے سرکاری اہلکار کو سونپ دینا کہاں کا انصاف ہے جبکہ افسرشاہی عوام تو کیا کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں اور اسکا عام انتخابات میں بذریعہ ووٹ احتساب بھی نہیں کیا جا سکے گا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ تحریک انصاف کے فیصلہ ساز نگرانی افسرشاہی کو سونپ کر اس بنیادی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونا چاہتے ہوں جو خیبرپختونخوا کے عوام نے اُنہیں سونپی ہے؟ نجی تعلیمی اداروں سے متعلق اصل مسودہ قانون میں تحریر ہے کہ خیبرپختونخوا کا وزیرتعلیم ریگولیٹری اتھارٹی کا سربراہ ہوگا جس میں سیکرٹری فنانس‘ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ‘ سیکرٹری ایڈمنسٹریشن‘ اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ماتحت اراکین ہوں گے۔ ان کے علاوہ نگران کمیٹی میں ان والدین کو بھی نمائندگی دی گئی ہے‘ جن کے بچے نجی سکولوں میں زیرتعلیم ہوں اور انہیں پرائیویٹ ممبر کہا گیا ہے۔

ترامیم کے ذریعے اِن پرائیویٹ ممبرز کے انتخاب کا طریقہ کار بھی تبدیل کر دیا گیا ہے جو اب حکومت کی مرضی سے چنیدہ افراد ہوں گے اور ان کے عہدوں کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال مقرر کر دی گئی ہے یہ ترامیم قانون سازی سے زیادہ اہم ہیں اور اگر قانون سازی کرتے ہوئے جلدبازی سے کام نہ لیا گیا ہوتا تو بعدازاں پے درپے ترامیم کی قطعی کوئی ضرورت پیش ہی نہ آتی۔جہاں قانون سازی کرتے ہوئے رازداری سے کام لیا جائے اور قوانین و قواعد پر بحث نہ ہو‘ وہاں محض قوانین مسائل کا حل ثابت نہیں ہو سکتے۔ تحریک انصاف بارہا آزما چکی ہے اور تعلیم کی طرح دیگر کئی شعبوں میں بھی ’قوانین سازی کے ذریعے تبدیلی لانے کے تجربات‘ کرچکی ہے‘ جن کے نتائج سے ہم سب آگاہ ہیں۔ یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے کہ تحریک انصاف کا خیبرپختونخوا پر حکومت کرنے کا شوق پورا ہو گیا ہو!؟