بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / ضرورت غیر روایتی سیاست کی

ضرورت غیر روایتی سیاست کی

مانسہرہ جلسے کے دوران بلاول بھٹو زرادری کی تقریر کا 80فیصد حصہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی قیادت پرنکتہ چینی پر مشتمل تھاانکا کہنا تھا کہ ’’ میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں اقتدار کے بھوکے ہیں ایک اپنی کرپشن چھپانے اور دوسرا دھرنے دینے کیلئے عوام کو سڑکوں پر لا رہا ہے انھیں ملک کی کوئی فکرنہیں،خیبر پختونخوا کے ٹھیکوں سے عمران خان کا کچن اور جہانگیر ترین کا جہاز چل رہا ہے‘ خان صاحب کی جماعت پر بینک آف خیبرمیں کرپشن کا الزام ہے جس کی تحقیقات نہیں ہو رہیں،تبدیلی کے دعویداروں نے صحت کا نظام تباہ کر دیا ہے انکے تعلیمی نظام میں بہتری کے دعوے بھی جھوٹے ہیں‘ میاں صاحب نے چھانگا مانگا کی سیاست شروع کی اور بے نظیر بھٹو کے خلاف اسامہ بن لادن سے پیسے لئے ‘وہ معصوم نہیں مجرم ہیں‘ وہ فسادی اور سازشی تو ہو سکتے ہیں انقلابی نہیں ہو سکتے‘ انھوں نے ملک کی دولت کو لوٹا‘‘، وغیرہ وغیرہ،اس موقع پر انھوں نے ہزارہ ڈویژ ن کیلئے پی پی پی حکومتوں کے بعض اقدامات کا بھی تذکرہ کیا تاہم ان کے خطاب کا لب لباب یہ تھا کہ چونکہ میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں پاکستان کے عوام کی قیادت کے لائق نہیں لہٰذااس بنیاد پر عوام پی پی پی کا ساتھ دیں‘ پاکستان پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جو ملک میں چار مرتبہ بر سر اقتداررہ چکی ہے‘ ایک ایسی جماعت جسے عوام نے چار مرتبہ مسند اقتدار سے سرفراز کیا ہو اس جماعت کی قیادت کے پاس تو اپنی سابقہ کارکردگی کے حوالے سے اتنا بھر پور موادہونا چاہئے کہ عوامی اجتماعات میں اس کے پاس سیاسی مخالفین کا ذکرتک کرنے کا وقت نہ ہو چہ جائیکہ عوامی حمایت اور ہمدردی کے حصول کی غرض سے اسے سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے کے نسخے پر تکیہ کرنا پڑے۔

بلاول بھٹو زرادری جو خود کو نئی نسل کے نمائندے کے طور پر متعارف کراتے ہیں اور اس حوالے سے انکا یہ جملہ بھی ریکارڈ پر ہے کہ آنے والا الیکشن انکا پہلا او رعمران خان کا آخری الیکشن ہو گاانھیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ انکے لئے تقاریر لکھنے والے انھیں ایک نئے اور غیر روایتی سٹائل سے سیاسی میدان میں پیش قدمی کے قابل بنانے کے بجائے گھسے پٹے دقیانوسی طرز سیاست سے استفادے کا اسیر کیوں بنا رہے ہیں؟ وہ طرز سیاست جس میں اپنی کارکردگی اور صلاحیتوں کی بنا پر عوامی عدالت سے رجوع کرنے کے بجائے سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے کی بنیاد پر عوام کا ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،جہاں تک ان الزامات کا تعلق ہے جو بلاول بھٹو زرداری نے نواز شریف اور عمران خان پر عائد کئے ہیں،اسی طرح بلکہ اس سے بھی سنگین نوعیت کے الزامات تو پیپلز پارٹی کے خلاف بھی موجود ہیں،پی پی پی کے پچھلے دور حکومت کے عرصے ہی پر ایک نظر ڈال لیں‘حج سکینڈل‘ رینٹل پاور سکینڈل ‘ایفی ڈرین کوٹہ سکینڈل ‘ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سکینڈل سمیت بدعنوانی کے کتنے ہی واقعات ہیں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے ملوث ہونے کا الزام ہے اس کے مقابلے میں موجودہ دور حکومت میں نواز شریف کی وفاقی اور عمران خان کی صوبائی حکومت کے حوالے سے اتنے بڑے بڑے کرپشن سکینڈلز رپورٹ نہیں ہوئے ‘پی پی پی کے مذکورہ دور حکومت ہی میں اس کے سربراہ آصف علی زرداری سوئس حکام کو ایک خط لکھنے سے بچنے کیلئے آئینی استثنیٰ کی آڑ میں رہے جسکے دوران انھیں اپنے ایک وزیر اعظم کی قربانی بھی دینا پڑی پھر سرے محل اور سوئس بینک اکاؤنٹس جیسے معاملات بھی تاحال پی پی پی کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔

کیااس قسم کی صورتحال میں پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے سیاسی مخالفین کی مبینہ بدعنوانیوں کے چرچے کرکے اور اس روایتی طرز سیاست کو سیاسی مہم کا مرکز و محور بنا کر پاکستان کے عوام کی توجہ و حمایت حاصل کرنے کی کوشش سود مند ثابت ہو سکتی ہے ؟حالات کافی بدل چکے ہیں سیاسی شعور ‘تعلیم کی شرح میں اضافہ‘ میڈیاخصوصاً الیکٹرانک میڈیا کا کردار‘روایتی سیاسی حربوں سے عوام کی نفرت اورسیاسی جماعتوں کے دعوؤں اور وعدوں سے زیادہ سیاسی قائدین کے اعمال‘ کردار اور صلاحیتوں پر نظر‘ ان سب اور ان جیسے دیگر عوامل نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کیلئے چیلنجز بڑھا دےئے ہیں‘ ان علاقوں میں جہاں تاحال شخصیات اور ذات برادری کو ہر شے پر مقدم رکھنے کا رجحان ہے شاید اب بھی عوام کے جذبات سے کھیلنا آسان ہو لیکن بہت سے علاقوں میں اب محض نعرے، مخالفین پر الزام تراشی اور اس قسم کے دیگر روایتی حربے کارگر ثابت ہونے والے نہیں لہٰذا بہتر نتائج کے حصول کیلئے بلاول بھٹو زرداری کوایک نئے غیر روایتی انداز و آہنگ سے پی پی پی کو سیاسی میدان میں آگے بڑھانے کی کوشش کرناہو گی۔