بریکنگ نیوز
Home / کالم / حدود کا تعین

حدود کا تعین


سیاست کو ہمارے لیڈر اس نہج پر لے گئے ہیں کہ جہاں کوئی بھی انکے الفاظ سننے کے قابل نہیں رہا ۔ سیاست نام تھا شائستگی کا ‘اس لئے کہ سیاسی لیڈر کو انسانوں کے ایک بڑے سمندر کو کنارہ دینا ہوتاہے‘ اور اگروہ اپنی توانائیاں ایک دوسرے پرالزام تراشیوں پر صرف کر یگا توقوم کی کشتی پار کون لگائے گا۔ہم پہلے کی بات تو نہیں کرتے مگر پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہمارے ہوش سنبھالنے تک کے سیاستدان حکومت بھی کرتے تھے اور حزب اختلاف میں بھی تھے مگر نہ کبھی ایسی زبان حکومتی نمائندوں کے منہ سے سنی اور نہ حزب مخالف سے ،کہ جس کا کام ہی مخالفت کرنا ہوتا ہے شاید ہی انکے منہ سے ایسے الفاظ اپنے مخالف کو نکلے ہوں جو آج کل سیاسی جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں سنائی دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک ریڈیو اور ٹی وی پر نشر ہونے والے افکار کی براہ راست رسائی ممکن نہ تھی اسلئے ریڈیو اورٹیلی وژن کے حضرات تقریروں کو چھانٹ پھٹک کر نشر کیا کرتے تھے اور اس سے ایسے فقرے جو سامعین کیلئے موزوں نہ ہوتے کاٹ دیا کرتے تھے مگر جب سے یہ براہ راست کا کام شروع ہوا ہے ہمیں اپنے لیڈرا ن کرام کی ترشی کا پتہ چل گیا ہے۔ اس لئے کہ سیانے کہتے ہیں کہ آدمی کے جوہر اس وقت تک پوشیدہ رہتے ہیں جب تک اس کے منہ سے الفاظ بن کر باہر نہ آ ئیں۔

معلوم ہو جاتا ہے کہ کون ایک شریف گھرانے میں پلا بڑھاہے او ر کس نے بنیادی تربیت صحیح حاصل نہیں کی۔ جیسے بھی سیاست دان ہمارے سامنے آ رہے ہیں کیا ان میں سے کوئی بھی اس قابل ہے کہ اسے ایک اسلامی مملکت کی باگ ڈور سونپ دی جائے۔ سیاست میں اختلاف سیاست کا حسن ہے مگر اختلاف کو اس طرح بیان کرنا کہ اختلاف کی بجائے دشمنی نظر آئے اور وہ بھی ایسی کہ اللہ معاف فرمائے تو عوام کی کون سی تربیت ہو رہی ہو گی۔ صبح سویرے جب انسان ٹی وی کا بٹن آن کرتا ہے اس وقت سے لے کر رات سوتے وقت تک عجیب وغریب باتیں سننے کو ملتی ہیں اس سے ہماری نوجوان نسل کیا حاصل کر رہی ہے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے تو ہو جا تا ہے کہ کیسے نوجوان اسمبلی سے باہر نکل کر اور اسمبلی میں بھی اپنے اور اسمبلی کے تقدس کا خیال رکھتے ہیں، کوئی ایک اخبار نویس اگر ان کو ٹوکتا ہے تو فوری طور پر انکا استحقاق مجروح ہو جاتاہے مگر جب وہ سخت زبان اسمبلی میں اور اسمبلی کے باہر استعمال کرتا ہے تو کسی کا استحقاق مجروح نہیں ہوتا ۔ ہم لکھاریوں کی کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ اپنے قلم کو اُس سطح پر نہ لے جائیں کہ جو ہمارے قارئین کو اخلاقی پستی کی طرف لے جائے مگر ہمیں بھی خود پر قابو پانے میں دقت محسوس ہوتی ہے جب ہم کسی بھی سیاستدان کے افکار کو کوٹ کرنے لگتے ہیں اسلئے کہ جو وہ زبان سے کہتا ہے اس کو ہمارا قلم کاغذ پر بکھیرنے سے قاصر ہوتا ہے ۔
۔
اس لئے کہ قلمکاروں کی تربیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ اپنی نسل کو غلط الفاظ کے تحفے نہیں دے سکتے لکھاری کو اور تجزیہ نگار کو اپنے قلم کو قابو میں رکھنا پڑتا ہے مگر جہاں وہ لوگ جن کی بات ایک تجزیہ نگارکرتاہے اگر ایسی زبان بول رہے ہوں کہ جن کے متبادل الفاظ کسی بھی ڈکشنری میں نہ مل پائیں تو تجزیہ نگار بھی مخمصے میں پڑ جاتا ہے۔ پھر بھی ہم قلمکاروں نے تہذیب کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ایک وقت ہماری برادری میں بھی ایسا آیا تھا کہ جب ہمارے درمیان ایسے لوگ گھس بیٹھے تھے کہ جیسے آج سیاست میں داخل گئے ہیں تو ہمارے اخبارات اور تجزیئے بھی اس زبان سے آشنا ہوئے تھے کہ جو آج کل سیاست میں بولی جا رہی ہے مگر جلد ہی اس پر قابو پا لیا گیا اس لئے کہ ایسے اخبارات کی زندگی بہت تھوڑی تھی کہ جن کے قاری وہ زبان سنتے تھے۔آج کل البتہ کچھ ٹی وی چینل اپنی حدود کو پھلانگ رہے ہیں مگر ان کو پسند کرنے والوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ ان کوخود ہی جلد اپنی غلطی کا احساس ہو جائیگااس لئے کہ جس چینل کے سامعین تھوڑے ہوتے ہیں اس کو اشتہارات بھی کم ملتے ہیں اور کسی بھی چینل کا انحصار ان ہی اشتہارات پر ہوتا ہے۔اسلئے کہنے کی بات یہی ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کو اپنی حدود کا تعین خود کرنا چاہئے کہ ہر وقت دشنام طرازی سننے کوکوئی بھی تیار نہیں ہوتا اور ٹی وی چینلوں کو بھی اپنی حدود کو متعین کرنا ہو گا کہ وہ نئی نسل کی اخلاقیات کو نہ بگاڑیں۔