بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مشترکہ مفادات کونسل کاایجنڈا

مشترکہ مفادات کونسل کاایجنڈا

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کل طلب کیا ہے خبررساں ایجنسی کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں قومی واٹر پالیسی کی منظوری کیساتھ مردم شماری رپورٹ پر غور بھی شامل ہے اجلاس میں دیامر بھاشا ڈیم سے متعلق رپورٹ اور توانائی منصوبوں کا جائزہ بھی متوقع ہے ‘مشترکہ مفادات کونسل جیسے اہم پلیٹ فارم کا اجلاس بروقت بلانا اور اس کے ایجنڈے پر موجود معاملات کو یکسو کرنا اہم ذمہ داری ہے جس کا احساس قابل اطمینان ہے دوسری جانب اس اہم حقیقت کا احساس بھی ضروری ہے کہ عالمی منڈی کی بدلتی صورتحال ‘ کساد بازاری‘ قرضوں تلے دبی ملکی معیشت اور ہر قاعدے قانون سے آزاد مارکیٹ میں گرانی کے ہاتھوں شہری اذیت ناک صورتحال سے دو چار ہیں یہ شہری مارکیٹ میں ملنے والا مضر صحت دودھ استعمال کرنے پر بھی مجبور ہیں ان غریب اور متوسط شہریوں کی ریلیف مارکیٹ کنٹرول کے موثر اور آزمودہ مجسٹریسی سسٹم سے جڑی ہے مشرف دور میں سمیٹے گئے۔

اس نظام کی بحالی کا کیس سی سی آئی کے پلیٹ فارم پر سلجھانا وقت کا اہم تقاضا ہے کیا ہی بہتر ہو کہ صوبے اور وفاق مل کر عوام کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے کل کے اجلاس میں خصوصی ایجنڈا آئٹم کے طور پر اس سسٹم کو بحال کر دیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو جو ہمیشہ مارکیٹ کنٹرول اور ملاوٹ کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھاتے رہتے ہیں اس ضمن میں پہل کرنا ہو گی وہ یہ معاملہ کونسل کے کل کے اجلاس میں اٹھا کر سسٹم کی بحالی ممکن بنا دیتے ہیں تو پبلک ریلیف کے حوالے سے ان کی یہ کاوش یادگار رہے گی وزیراعلیٰ کو خود احساس کرنا ہو گا کہ مارکیٹ کی نگرانی اور ملاوٹ کی روک تھام کیلئے ان کے اب تک کے اقداما ت کیوں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے صوبے میں وزیراعلیٰ ہی کے حکم پر فوڈٹیسٹنگ لیبارٹریاں فعال بنائی گئیں اس کے باوجود ملاوٹ کا مکروہ دھندہ روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے ایسے میں اگر مجسٹریسی نظام بحال ہو جاتا ہے تو حکومت کے اب تک اور آئندہ کے اقدامات ثمر آور ہو کر شہریوں کی ریلیف کا سامان بن سکتے ہیں ‘ملک کا عام شہری اس وقت تبدیلی کا خوشگوار احساس پائے گا جب اسے مارکیٹ میں اس کے مثبت آثار نظر آئیں گے اور یہ آثار مجسٹریسی نظام کی بحالی سے جڑے ہوتے ہیں جسکے بغیر مارکیٹ کیلئے باقی تمام حکومتی اقدامات عارضی اور بے ثمر نوعیت کے ہی ثابت ہوتے ہیں۔

ڈینگی‘ سنجیدہ اقدامات کی ضرورت

پشاور میں ڈینگی بخار خطرناک صورتحال اختیار کر گیا ہے خبررساں ایجنسیاں متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار سے زائد بتا رہی ہیں تاہم یہ سب صرف رجسٹرڈ رپورٹ شدہ کیس ہیں وہ مریض علیحدہ ہیں جن کا علاج پرائیویٹ سطح پر ہو رہا ہے اور وہ الگ کہ جو تشخیص او ر علاج کی استطاعت ہی نہیں رکھتے دوسری جانب ڈینگی کا علاج پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سیاسی صورتحال اختیار کر گیا ہے اس سیاسی منظر نامے میں کون درست ہے اور کون غلط کی بحث میں پڑے بغیر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ وقت سنجیدہ کوششوں کا ہے تاکہ نہ صرف مریضوں کا علاج ہو سکے بلکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے بھی کنکریٹ اقدامات اٹھائے جائیں یہ سب اس صورت ممکن ہے جب تمام سٹیک ہولڈر اداروں کے درمیان باہمی رابطہ یقینی بنایا جائے اس میں کمیونٹی کو بھی شریک کیا جائے اس سب کیساتھ ضرورت صفائی ستھرائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کی ہے تاکہ ڈینگی کیساتھ دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کو بھی روکا جا سکے‘ اس مقصد کیلئے ذمہ دار دفاتر کے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کرنی چاہئے۔