بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مہاجرکیمپ کے ہر گھر کو بجلی میٹر فراہم کرنیکا حکم

مہاجرکیمپ کے ہر گھر کو بجلی میٹر فراہم کرنیکا حکم

اسلام آباد۔سپریم کورٹ نے کے پی کے میں افغان مہاجرین کیمپس کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے عدالتی حکم پر عمل کامقدمہ کے دوران مہاجرین کے کیمپ میں موجود ہر گھر کو الگ بجلی کا میٹر فراہم کرنے کا حکم دے دیا ، جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ و سپریم کورٹ کے فیصلوں پرمکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا کہ مہاجرین کواسی طرح گھریلو نرخوں پر بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے جس طرح دیگر شہریوں کو فراہم کی جاتی ہے۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں کہاکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے کنونشزپر دستخط کررکھے ہیں اور ان کنونشنز میں مہاجرین کو خصوصی حیثیت دی گئی ہے اسلئے افغان مہاجر بھی پاکستان کے رہائشی صارفین کے برابر اسٹیٹس رکھتے ہیں۔دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس دوست محمدخان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجر ین کے کیمپس کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ پشاورکے 4 کیمپس سے مہاجرین نکل دیگر علاقوں میں پھیل چکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پشاور ہائی کورٹ نے 2012 میں مہاجرین کی دیگر علاقوں میں منتقلی کو کنٹرول کرنے کا حکم دیا تھا جس پر عمل نہیں کیا گیا ۔جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ میں نام نہیں لوں گا لیکن جب مہاجرین کچھ لوگوں کے اندر گھسے تو انہیں تکلیف ہوئی اور جب ان لوگوں کو تکلیف پہنچی تو کہنے لگے کہ افغان مہاجرین دوماہ میں ملک چھوڑ دیں۔جسٹس دوست محمدخان کا کہنا تھا کہ ملک کی بد قسمتی ہے کہ یہاں قانون اور عدالتی فیصلوں پر عمل نہیں کیا جاتا،غیر قانونی سموں کی فروخت بھی ایک سانحہ کے رونما ہونے کے بعد روکی گئی۔انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں تو اداروں کے نام بھی عجیب ہیں ایک ادارے کا نام ایک خاتون اداکارہ کے نام جیسابھی ہے۔

سرکاری وکیل کی طرف سے نیپراکی طرف سے مہاجرین کے لئے 19روپے فی یونٹ کے ٹیرف کی حمایت پرجسٹس دوست محمد خان نے کہاکہ بجلی کی چوری یونٹ کی قیمت 14 روپے ہونے بعد بڑھی۔جب بجلی غریب کی پہنچ سے دور ہو گی تو وہ کنڈے نہ لگائے تو کیا کرے گا؟انہوں نے کہاکہ ایک اور خوبصورت بات گردشی قرضہ ہے ،یہ چار سو ارب کا گردشی قرضہ ہر صارف کے پیچھے پڑا رہے گا کیونکہ گردشی قرضہ بڑا پیارا لفظ ہے۔

انہوں نے کہاکہ پشاورہائیکورٹ کی طرف سے پیپکو کو ختم کرنے ،فیول سرچارج لگانے کے خلاف احکامات پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کے حوالے سے بیرونی امداد بھی ملتی ہے اورآئین کے آرٹیکل 4کے تحت اس شہری کے ساتھ بھی یکساں سلوک کیا جائے گا جو عارضی طورپر پاکستان میں موجود ہونگے۔اس دوران فریقین کے وکلانے اتفاق کیا کہ افغان مہاجرین کی طرف سے نئی درخواست دائرکرنے پر انہیں نیا میٹرلگا کر 30روز میں بجلی فراہم کی جائے گی۔

درخواست گزار محمد مسکین کے وکیل نے سیدحاذق علی نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کے50سے زائد کیمپ ہیں جن کا ایک بڑامیٹرلگاکر19روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے جوکہ پشاور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے