بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / معلومات تک رسائی کا بل سینٹ میں بھی منظور

معلومات تک رسائی کا بل سینٹ میں بھی منظور


اسلام آباد۔سینٹ نے معلومات تک رسائی کے حق کا بل 2017ء اتفاق رائے سے منظور کر لیا،چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے بل کی منظوری پر ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ وہ واحد جگہ ہے جہاں تمام سٹیک ہولڈرز اکٹھے ہو سکتے ہیں،بل کی متفقہ منظوری سے اس پر عمل در آمد کی راہ ہموار ہو گی ، وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ بل تمام جماعتوں کے اتفاق رائے سے تیار ہوا ہے ،جن معلومات تک رسائی نہیں ہو گی بل میں اس کی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔

منگل کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے تحریک پیش کی کہ معلومات تک رسائی کے حق کا بل 2017ء قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیر غور لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آرٹیکل 19 A کی عملی شکل ہے۔ 2016ء میں سابق وزیراعظم نے اس سلسلے میں ایک وزارتی کمیٹی بنائی تھی جس کے بعد ایک سیلیکٹ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔

سینیٹر کامل علی آغا نے اپنا ایک پرائیویٹ ممبر بل بھی جمع کرایا ہوا تھا جبکہ سینیٹر فرحت اللہ بابر کی اس بل کی تیاری کے حوالے سے بہت خدمات ہیں جس پر ہم انہیں اور پورے ایوان مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں تین شعبوں شفافیت، گورننس اور عوام کی شرکت کو یقینی بنایا گیا ہے اور عوامی مفاد کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔ نیشنل سیکورٹی اہمیت کا معاملہ ہے لیکن عوامی مفاد کو بھی بل کی تیاری میں پیش نظر رکھا گیا ہے اور اس کے علاوہ پارلیمانی نگرانی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

معلومات تک رسائی کے لئے 10 دن کی مدت کا بھی تعین کیا گیا ہے اور رسائی نہ دینے کی وجہ بھی بتانا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ معلومات تک رسائی مسلم لیگ (ن) کے منشور کا بھی حصہ ہے جس کا مسلم لیگ (ن) نے عوام سے وعدہ کیا تھا۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ یہ باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے تیار کیا گیا ہے، یہ بہت اچھی دستاویز ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سینٹ میں تمام سیاسی جماعتیں اور صوبے اس بل پر متفق ہیں، اب کوئی قومی سلامتی کے نام پر معلومات نہیں روک سکے گا۔

سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ یہ بہت اچھا بل ہے، اس پر تمام فریقین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس اہم معاملہ پر متفقہ بل لانے پر وہ وزیر مملکت برائے اطلاعات اور پورے ایوان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اس بل کی منظوری سے یہ بات ابھر کر سامنے آئے گی کہ پارلیمان ہی وہ واحد جگہ ہے جس میں تمام متعلقہ فریقین اکٹھے ہو سکتے ہیں اور اپنا نکتہ نظر پیش کر سکتے ہیں جس کے بعد پارلیمان اس پر اتفاق رائے پیدا کرتی ہے۔

سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ اس بل کے ذریعے بہت مفید قانون سازی کی جا رہی ہے۔ بعد ازاں ایوان نے تحریک کی منظوری دیدی جس کے بعد چیئرمین نے بل شق وار منظوری کے لئے پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔