بریکنگ نیوز
Home / کالم / قانون اور رکھوالے

قانون اور رکھوالے

بنچ اور بار کا جو آپس کا رشتہ ہے وہ سب ہی جانتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ جب بینچ پر زد پڑی تو بار میدان میں نکل آیا اور آخر کار بنچ کی حیثیت بحال کر کے ہی دم لیا۔ ا س راہ میں جو دشواریاں تھیں وہ بھی بار نے برداشت کیں‘ اسلئے کہ بنچ دراصل بار کی زندگی ہے‘ہم بچپن سے ہی یہ دیکھتے آئے ہیں کہ وکیل جس بھی عدالت میں پیش ہوتے ہیں اسکے جج کو وہ سر یا می لارڈ کہہ کر پکارتے ہیں‘کہنے کا مطلب یہ کہ جج کی تعظیم بار کا ہر رکن خودپر لازم گردانتا ہے اور ہر مقدمہ جس میں کوئی بار کا رکن پیش ہوتا ہے وہ کلائنٹ کا مسئلہ ہوتا ہے جسے وہ بنچ کے سامنے اپنا کہہ کربات کر تا ہے او ر مقدمے میں ایک ہی فریق جیتتا ہے اور دوسرے فریق کو ہارنا ہوتا ہے‘ یہ مقدمے کی نوعیت ، کلائنٹ کے بیانات اور قانونی دفاع پرمنحصر ہوتا ہے۔وکیل صرف اپنے کلائنٹ کے مقدمے میں اپنے قانونی دلائل دیتا ہے اور عدالت کو مطمئن کرتاہے کہ قانون کے تحت اُس کا کلائنٹ مقدمہ جیتنے کا حق رکھتا ہے‘ دلائل دونوں طرف کے وکیل دیتے ہیں اور جج اپنا فیصلہ اپنی صوابدید اور قانون کو مد نظر کر کے دیتا ہے‘ اس میں کسی بھی وکیل کی ہار کی بات نہیں ہوتی جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ وکیل مقدمہ نہیں ہارتایا جیتتا بلکہ کلائنٹ جیتتا یا ہارتا ہے‘ اسی لئے جو وکیل عدالت کے اندر ایک دوسرے کو جھوٹا اور خود کو سچا ثابت کرنے پر اپنا پورا زور صرف کرتے ہیں باہر آ کر وہ بار کے رکن ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے دوست ہو تے ہیں۔ہمارے جتنے بھی بہت سینئر وکیل ہیں وہ اپنی پریکٹس کے دوران سینکڑوں مقدمے ہار چکے ہوتے ہیں اور سینکڑوں جیت چکے ہوتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جج اُن کی حمایت یا مخالفت میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ کلائنٹ کے مقدمے میں کتنی جان تھی اور اُس کو وکیل کتنا جج کے سامنے قانونی طور پر اپنے حق میں کر سکا ہے‘ جس نے جتنا اپنے حق میں کر لیا وہ جیت جاتا ہے اور دوسرا فریق ہار جا تا ہے۔

سارے وکیل جانتے ہیں کہ جج کبھی بھی متعصب نہیں ہوتا۔ نہ ہی وہ کسی ایک فریق کی حمایت اور دوسرے کی مخالفت کرتا ہے ۔ اسی وجہ سے جب وکیل اپنے دلائل دے چکتے ہیں تو وہ جج کے سامنے اپنا سر جھکا کر رخصت ہوتے ہیں ۔ یہ بنچ کی عزت ہے جس کا ہر وکیل خیال رکھتا ہے۔اب کچھ عرصے سے کچھ وکلاء یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ججوں کی بحالی میں حصہ لے کر انہوں نے بنچ پر بہت بڑا احسان کیا ہے اور اب ہر جج کا فرض ہے کہ اُن کے حق میں فیصلہ دے۔ جب کہ وہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جج ایک وقت میں دو وکلاء کے حق میں فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اور جو وکلاء یہ اپنا حق سمجھ بیٹھے ہیں کہ فیصلہ خواہ مخواہ اُن کے حق میں ہی آنا چاہئے تو وہ بنچ کی عزت کا خیال رکھنے کی با ت بھول جاتے ہیں۔

حالانکہ جج کی عزت در اصل وکلا ء کی اپنی عزت ہے۔اب عدالتوں میں روز روز کے جھگڑوں نے بنچ اور بار دونوں کی عزت کو پامال کیا ہے۔ اب عام آدمی کے ذہن میں جو عدالت کا اور وکلاء کا احترام ہے وہ کم ہوتا جارہا ہے۔عوام تو اُسی طرح عمل کرتی ہے جیسا وہ اپنے بڑوں کو کرتے دیکھتی ہے۔ آج جس بات پر وکلاء سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں وہ نہ تو ان کی عزت میں اضافہ کر رہا ہے اور نہ ہی ججوں کی عزت افزائی ہو رہی ہے‘ججوں کی عزت اصل میں وکلاء کی مرہون منت ہے۔ اگر وہ عدالت کا احترام کریں گے تو لوگ بھی عزت کرینگے‘آپ نے جو بھی کرنا ہے اپنے فورم پر کریں سڑکوں پر تماشہ لگانا نہ تو وکلاء کے حق میں ہے اور نہ ہی عدلیہ کے حق میں ہے۔بار اور بنچ کے تنازعات کے لئے فورم موجود ہیں اُن کی طرف رجوع کریں تو زیادہ بہتر ہو گا۔