بریکنگ نیوز
Home / کالم / جوہری صلاحیت اور دفاع

جوہری صلاحیت اور دفاع

چین پاکستان اور بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے خطے کی صورتحال زیادہ اچھی نہیں۔ برطانوی خبررساں ادارے ’بی بی سی‘ نے اطلاع دی ہے کہ ’’چین‘ بھارت اور پاکستان کی مجموعی آبادی پونے تین ارب کے لگ بھگ ہے جو عالمی آبادی کا چالیس فیصد ہے اس لئے چین اور بھارت کے مابین جنگ ہوئی تو دنیا کی چالیس فیصد آبادی کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا کیونکہ اس جنگ میں پاکستان غیرجانبدار نہیں رہ سکے گا۔ رپورٹ کے مطابق 1986ء میں دنیا بھر میں قریب ستر ہزار تین سو ایٹمی ہتھیار تھے جو سال دوہزار سترہ میں چودہ ہزار نو سو کے لگ بھگ رہ گئے ہیں۔ دنیا کے ترانوے فیصد جوہری ہتھیار امریکہ اور روس کے پاس ہیں جبکہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیاروں کی مجموعی تعداد ایک سو بیس سے ایک سو تیس ہے اور بھارت کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد ایک سو دس سے ایک سو بیس کے درمیان ہے۔ اسی طرح چین کے پاس دوسوستر جوہری ہتھیار ہیں۔ اگر چین اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی تو یہ بہت جدید جنگ ہوگی جو صرف زمین پر نہیں ہوگی بلکہ آسمان پر اور سمندروں میں بھی اس کی گرمی محسوس کی جاسکے گی۔ اس سلسلہ میں چین کے سفارتی حلقوں اور تھنک ٹینک کے ارکان نے ہمسایوں کے بارے میں پاکستان کے پرامن کردار اور خطے میں بھارتی غلبے کو روکنے کیلئے تسلسل سے کی جانیوالی کوششوں کی تعریف کی ہے اور اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں پاکستان کے سوا کوئی بھی ایسا ملک نہیں جو بھارت کے سامنے انکار کی جرات کر سکے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ بھارت کے ہمسائے بھارتی کنٹرول ختم نہیں کرنا چاہتے۔

دنیا کے ہر خطے اور ہر کونے میں جتنی تعداد میں اور جتنی طاقت و استعداد والے ایٹمی ہتھیار موجود ہیں وہ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے مسلسل خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں اور ایٹمی ماہرین کا اس امر پر اتفاق ہے کہ ان ایٹمی ہتھیاروں کی مناسب نگہداشت نہ کی گئی اور کہیں کوئی ایٹم بم چل گیا تو پھر عالمی تباہی سے نہیں بچا جا سکے گا کیونکہ دوسرے ایٹم بم بھی یکے بعد دیگرے چلنا شروع ہو جائیں گے۔ بیشک خالق کائنات ذات باری تعالیٰ نے روز قیامت کا ایک مخصوص وقت متعین فرما کر اس کرۂ ارض کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لے رکھی ہے اور قدرت کی منشاء کے بغیر اس صفحۂ ہستی پر کوئی تنکا بھی نہیں ہل سکتا تاہم رب کائنات نے قیامت کی نشانیاں بھی کھول کر بیان فرما دی ہوئی ہیں اور صحیفۂ آسمانی قرآن مجید میں قیامت کے جن مناظر کی عکاسی کی گئی ہے‘ انسان کے ایجاد کردہ کسی ایٹم بم کے چلنے سے پہاڑوں کے روئی کے گالوں کی طرح اڑنے اور جن و انس اور چرند پرند سمیت سب کچھ صفحۂ ہستی سے مٹ جانے والے قیامت کے مناظر ہی برپا ہوں گے۔ بیشک مشیت ایزدی کے آگے کروفر والی تمام انسانی تدبیریں ہیچ ہیں اور انسان کی انسان کے ہاتھوں تباہی مشیت ایزدی کا تقاضا ہے تو اسے ٹالا نہیں جا سکتا تاہم اس تباہی کے اسباب پیدا نہ ہونے دینے کی مشیت ایزدی کی جانب سے ضرور وارننگ جاری ہوتی رہتی ہے۔ اگر آج انسان کے ذہن رسا کی پیدا کردہ ایٹمی ٹیکنالوجی سے دنیا کی تباہی کے اسباب پیدا ہورہے ہیں تو اس ٹیکنالوجی کے استعمال نہ ہونے دینے کی فضا ہموار کرکے عالمی اور علاقائی امن و سلامتی یقینی بنانے کے اسباب بھی پیدا کئے جا سکتے ہیں جو مشیت ایزدی کے تقاضے کے عین مطابق ہوں گے۔ جوہری قوت حاصل کرنے کا مقصد کسی ملک کو دوسرے ملک یا ممالک کے جارحانہ عزائم سے تحفظ دلانے کا تھا۔

اسی تناظر میں ’’ایٹمی ڈیٹرنٹ‘‘ کا فلسفہ کسی طاقتور ملک سے خود کو محفوظ کرنے کا بتایا جاتا ہے تاہم امریکہ نے دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر اپنے تیار کردہ ایٹم بم گرا کر وہاں خوفناک انسانی تباہی کی صورت میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے ذریعے بے دریغ انسانی تباہی کا راستہ ہموار کردیا جس کے بعد ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول ہر اس ملک کی ضرورت بن گیا جسے خطے میں دوسرے ملک سے جارحیت کا خطرہ لاحق تھا۔ امریکہ نے تو ایٹمی ہتھیاروں کی فروخت اپنا کاروبار بنا لیا چنانچہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے خالق اسی امریکہ نے دنیا میں ایٹمی پھیلاؤ کیلئے سب سے نمایاں کردار ادا کیا ‘ہمارے خطے میں جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے بھارت سے علاقے کے ہر ملک کو خطرہ لاحق ہے جبکہ اس نے اپنی ایٹمی ٹیکنالوجی کو امریکی معاونت سے اور اس کی سرپرستی میں ہی فروغ دیا ہے۔ خدانخواستہ ایٹمی ہتھیار چلنے سے علاقائی اور عالمی تباہی کی نوبت آئی تو اس کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے فطری اتحادی بھارت پر ہی عائد ہوگی۔ بھارت کی چین کے ساتھ مخاصمت کا سلسلہ اُنیس سو ساٹھ کی دہائی میں شروع ہوا جب بھارت نے چین سے ملحقہ اروناچل پردیش پر جارحیت کے ذریعے تسلط جمانے کی کوشش کی۔ چونکہ پاکستان اور چین دونوں کو بھارت کے جارحانہ عزائم سے خطرہ لاحق ہے اس لئے دونوں ممالک میں اپنے تحفظ و دفاع کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق فطری امر ہے‘ اس تناظر میں پاکستان اور چین نے جہاں ’’سی پیک‘‘ کے مشترکہ منصوبے کے ذریعے اپنے تجارتی اور اقتصادی استحکام کیلئے پیش رفت کی ہے وہیں انہوں نے اپنے مشترکہ دشمن بھارت سے نمٹنے کے لئے بھی مشترکہ دفاعی حکمت عملی طے کرلی ہے جس کیلئے دونوں ممالک نے ایٹمی دفاعی تعاون کا ایسا ہی معاہدہ کیا ہے جیسا امریکہ اور بھارت نے پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے بھارت اب ایٹمی جنگی ہتھیاروں کی خود تیاری میں بھی پیش رفت کررہا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ میں چین‘ بھارت اور پاکستان کے پاس موجود ایٹمی ہتھیاروں کا تجزیہ کرکے دنیا کے غالب حصے کی ممکنہ تباہی کی نشاندہی کی گئی ہے جس پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر وسیم انور۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)