بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ڈینگی: اُداسیاں مقدر کیوں؟

ڈینگی: اُداسیاں مقدر کیوں؟

پشاور کو خدا جانے کس کی نظر لگ گئی ہے کہ ایک کے بعد ایک مصیبت ’پھولوں کے شہر‘ میں ڈیرے ڈال رہی ہے۔ وہ سبھی قدرتی آفات جو ماضی میں صرف دستک دے کر گزر جاتی تھیں‘ اب کے ’در‘ آئیں ہیں اُور ’ڈینگی بخار‘ نے تو محکمۂ صحت کی کارکردگی کا گویا بھانڈا ہی پھوڑ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قدرتی آفت جیسے اِمتحان کی صورت جس کسی بھی سرکاری محکمے سے واسطہ پڑتا ہے تو اس کی کارکردگی سے سوائے مایوسی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بائیس اگست کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ڈینگی سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا جبکہ پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ضلع پشاور میں ڈینگی کی وباء‘ علاج معالجے کی صورتحال اُور متعلقہ سرکاری اِداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے مقدمے کی سماعت کے دوران ’عدم اطمینان‘ کا اِظہار کیا۔ اگرچہ کیس کی سماعت ’24 اگست‘ تک ملتوی کر دی گئی ہے تاہم اِس بات کا امکان کم ہے کہ آئندہ چند روز میں ’ڈینگی کی وباء‘ پر قابو پا لیا جائے گا‘ جو ایک علاقے سے پھیلتے ہوئے پشاور کی کم سے کم پانچ یونین کونسلوں اور دیگر متعدد علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ دس روز میں عیدالاضحیٰ کا مذہبی تہوار آنے والا ہے‘ جس کی سرکاری تعطیلات شروع ہونے سے رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی۔ صوبائی کابینہ کے اراکین جو فی الوقت ڈینگی کے حوالے سے صورتحال کا نوٹس لئے ہوئے ہیں اور سرکاری اطلاعات پر اگر اعتبار کیا جائے تو وزیراعلیٰ کو یومیہ بنیادوں پر ’ڈینگی صورتحال سے متعلق بریفنگ‘ دی جا رہی ہے!

پشاور کی تین بڑی سرکاری ہسپتالوں (حیات آباد میڈیکل کمپلیکس‘ خیبر ٹیچنگ اور لیڈی ریڈنگ) میں ڈینگی کے مریض زیرعلاج ہیں لیکن اِن ہسپتالوں کے وسائل پر پہلے ہی ضرورت سے زیادہ مریضوں کا بوجھ ہے۔ ہسپتالوں کی وارڈوں‘ راہداریوں‘ کارپارکنگ‘ گردونواح میں صفائی کی صورتحال اور بدبو (تعفن) اِن اربوں روپے بجٹ رکھنے والی ہسپتالوں کے قطعی شایان شان نہیں! ڈینگی وائرس کے کسی اِنسان سے اِنسان میں منتقلی کا عمل ایک خاص مچھر کے ذریعے مکمل ہوتا ہے لیکن جب ہم ہسپتالوں کے اندر مکھیوں اُور مچھروں کی بھرمار دیکھتے ہیں جہاں ڈینگی کے مریض بھی زیرعلاج ہیں تو ہر مچھر اور ہر مکھی سے خوف آنا ایک فطری عمل ہے۔ پشاور میں ڈینگی کی وباء پر ’عالمی اِدارہ صحت نے بھی اپنی تشویش کا اِظہار کیا ہے۔ سری لنکا کے دورے میں ’اقوام متحدہ کے اِس ذیلی ادارے‘ کے چند اراکین سے ملنے کا اتفاق ہوا‘ جو بالخصوص ’ڈینگی‘ کو شکست دینے کیلئے دارالحکومت ’کولمبو‘ میں اپنا مرکزی آفس بنائے ہوئے تھے۔ یکم جنوری سے سات جولائی دوہزار سترہ تک سری لنکا میں ’ڈینگی سے متاثرہ 80ہزار 732‘ اَفراد اُور 215 اَموات ایک ایسا چیلنج ہے‘ جو حکومت اور عالمی اِداروں کے لئے یکساں پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ ’سال دوہزار دس‘ سے ڈینگی کا منظم مقابلہ کرتے ہوئے سری لنکا میں صفائی کی صورتحال بہتر بنائی گئی جس سے اِس مرض پر قابو پانا ممکن دکھائی دے رہا ہے۔ بیرونی قرضہ جات کی وجہ سے جزیرہ ’سری لنکا‘ کی معیشت پاکستان سے بھی کمزور ہے اور وہاں کی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے پاس مالی وسائل پاکستان کے مقابلے نصف سے بھی کم ہیں لیکن اُنہوں نے صفائی کی صورتحال بہتر بنانے اور ڈینگی کے بارے میں عوامی شعور میں اِضافے سے وہ اہداف حاصل کئے ہیں‘ جو دنیا کے دیگر ممالک کے لئے مثال ہیں اور جن کے مطالعے سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

’عالمی ادارۂ صحت‘ نے پشاور میں ڈینگی کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ڈینگی وائرس پھیلنے کی وجہ گھروں کی چھتوں پر پانی ذخیرہ کرنے والی وہ ٹینکیاں بھی ہیں‘ جن میں سے اکثر کو ڈھانپا نہیں جاتا اور نہ ہی سالہا سال اُن کی صفائی کی جاتی ہے۔ تہکال کے علاقے میں 23 پانی کی ٹینکیوں سے حاصل کئے گئے پانی کے نمونوں میں سے 87فیصد میں ’ڈینگی وائرس‘ کی ترسیل والے مچھروں کی اَفزائش پائی گئی۔ ڈینگی مچھر آلودہ پانی کی بجائے شفاف پانی میں انڈے دیتا ہے اور صاف پانی چاہے تھوڑی مقدار میں بھی کھڑا ہو‘ اُس کا استعمال کرتاہے۔