بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی منشور کہاں ہیں؟

سیاسی منشور کہاں ہیں؟


وزیراعظم کے منہ سے دانستہ یا غیر دانستہ طورپر یہ بات نکل گئی کہ الیکشن اگلے سال جون کے بعد ہوں گے ایک اخباری اطلاع کے مطابق ایک اہم مذہبی رہنما (ن) لیگ اور پی پی پی کے درمیان دوریاں مٹانے کی کوشش میں مصروف ہیں جس قسم کی سیاست اس ملک کا مقدر بن چکی ہے اس کے لئے انگریزی زبان میں ایک لفظ Realpolik استعمال ہوتا ہے سیاست کے اس صنف میں اس ملک کے بعض سیاسی رہنما یدطولےٰ رکھتے ہیں جن میں وہ مذہبی رہنما بھی شامل ہے کہ جو پی پی پی اور (ن) لیگ کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر دیکھنا چاہتا ہے غالب امکان یہی ہے کہ شاید یہ کوشش بار آور ثابت ہو کیونکہ بقول کسے سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا گو کہ بادی النظر میں پی پی پی اور (ن) لیگ دونوں کو سخت بخار چڑھا ہوا ہے لیکن عجب کل کلاں جب یہ بخار اترے تو وہ بہتر فیصلے کرنے کی پوزیشن میں آ جائیں ویسے جے یو آئی (ف) کی یہ بھی کوشش ہے کہ کم از کم کے پی کے کی سطح پر تمام مذہبی جماعتیں ایک ہی مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم سے ہی آئندہ الیکشن لڑنے پر راضی ہو جائیں کہ اس میں سب کا فائدہ ہے ماضی میں ایسا کرکے وہ ایک مرتبہ کے پی کے میں اقتدار کا مزہ لوٹ چکے ہیں لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ سراج الحق صاحب کی اس بارے میں کیاسوچ ہے کیا وہ جے یو آئی (ف) کی ویگن پر چڑھیں گے یا پی ٹی آئی سے اپنی رسم وفا نبھائیں گے ؟ ادھر پنجاب میں چوہدری شجاعت حسین اپنی گرتی ہوئی صحت کے باوجود مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کو یکجا کرنے کی سعی کر رہے ہیں (ن) لیگ سے ن کے اختلافات اب اتنے شدید ہو چکے ہیں کہ اس نے تو ان سے ملنا نہیں باقی ماندہ مسلم لیگی رہنما اگر ان سے مل بھی گئے تو وہ بجز اس کے کہ مسلم لگ کے ووٹ بینک کو مزید تقسیم کر دیں کوئی قابل ذکر فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔

ہاں ان میں سے بعض لیگی رہنما اپنی برادری کی بنیاد پرالیکشن میں چند نشستیں ضرور حاصل کر لیں گے کہ جس طرح ماضی میں وہ حاصل کرتے رہے ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی سیاسی استطاعت نہیں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا پی پی پی اور (ن) لیگ کے درمیان مفاہمت پر وہ سیاسی عناصر بھلے ان کاتعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے کیوں نہ ہو ضرور خوش ہوں گے کہ جن پر بھی اس قسم کے کرپشن کے الزامات ہیں جو پی پی پی اور (ن) لیگ کے رہنماؤں پر ہیں کیونکہ اگر وہ الیکشن میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کے قانونی گرفت میں سے نکلنے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں این آر او ہوتا تو ہے چند افراد کو بچانے کیلئے پر اس سے بہتوں کا بھلا ہوجاتا ہے اب دیکھئے نا پی پی پی اور جنرل مشرف کے درمیان این آر او کا فائدہ دیگر سینکڑوں نے بھی اٹھایا ‘ تاہم اس روش سے سیاست بدنام ہوئی اور سیاستدانوں کی نیک نامی پر بھی حرف آیا ہے یہی وجہ کہ اب سفید پوش لوگ سیاست کے میدان سے کوسوں میل دور بھاگتے ہیں آپ نے یقیناًمحسوس کیا ہو گا کہ تقریباً تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کا عوام کے روزمرہ مسائل سے بے اعتنائی کا یہ عالم ہے کہ الیکشن کو اب چند ہی ماہ باقی رہ گئے ہیں لیکن آج تک ان میں سے کسی نے بلیک اینڈ وائٹ میں تحریری طور پر عوام کو یہ بتانے کی تکلیف گوارا نہیں کی کہ ان کا انتخابی منشور کیا ہے ؟

اگر ان کو یہ احساس ہوتا تو اب تک گاؤں گاؤں قریہ قریہ شہر شہر وہ قوم کو خصوصی سیمیناروں اور ٹیلی ویژن پر ٹاک شوز کے ذریعے بتلا چکے ہوتے کہ کیسے اور کس طرح حصہ بقدر جثہ کی بنیاد پر ٹیکس نیٹ کے اندر لائیں گے کس طریقے سے وہ بڑے بڑے زمینداروں کی زمینیں قومیا کر صرف 25 ایکڑ فی کس زمین ان کے پاس چھوڑ کر باقی سب اراضیات بے زمین کسانوں اور ہاریوں میں تقسیم کر یں گے ؟ کس گیڈر سنگھی سے وہ غریب اور امیر میں بڑھتی ہوئی خلیج کو ختم کرینگے او ر ملک سے معاشی عدم مساوات کا خاتمہ کریں گے عوام کا اب یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی رہنماؤں سے پوچھیں کہ بھئی مستقبل کے صیغے میں کئے گئے اس قسم کے وعدوں پر اب ہمیں نہ ٹرخاؤ کہ ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے ہمیں ٹھوس طریقہ کاربتاؤ اور ٹائم بتاؤ کہ جس کے اندر تم ہمارے مسائل حل کر و گے خالی خولی وعدوں پر ٹرخانے کا وقت اب بیت چکا ہے۔