بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ڈومور کا نیا مطالبہ

ڈومور کا نیا مطالبہ

امریکہ نے پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک بار پھر ڈومور کامطالبہ کیا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے اور امریکہ اب دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا امریکی صدر کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں پر اقتصادی پابندیاں لگائینگے پاکستان کے رویے کو تبدیل بلکہ بہت جلد تبدیل ہونا چاہیے اس سب کیساتھ وہ افغانستان میں بھارتی رول کو سراہتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ بھارت افغانستان کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے فوٹ میئر آرلنگٹن میں نصف گھنٹے دورانیہ کی تقریر میں امریکی صدر نے پاکستان افغانستان اور بھارت سے متعلق اپنی انتظامیہ کی پالیسی کے خدوخال واضح کئے امریکہ کی غیر متوازن پالیسی میں زمینی حقائق کا کوئی ادراک واحساس نہیں کیاگیا امریکی صدر افغانستان میں جاری جنگ کو وقت اور پیسے کا ضیاع قرار دینے کے سابقہ بیان کو بدلتے ہوئے کہتے ہیں کہ اوول آفس کے ڈیسک کے پیچھے سے صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے اس سب کیساتھ امریکہ افغانستان سے عراق کی طرح کے انخلا کی غلطی نہ دہرانے کاعندیہ بھی دے رہا ہے گوکہ ڈونلڈ ٹرمپ پالیسی بیان میں افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد سے متعلق خاموش رہے تاہم وائٹ ہاؤس کے ذمہ دار حکام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر اپنے سیکرٹری دفاع کو افغانستان میں مزید فوجیوں کی تعیناتی کا اختیار دے چکے ہیں ۔

دریں اثناء خبررساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن کاٹیلی فونک رابطے ہواہے ہیں جس میں جنوبی ایشیاء سے متعلق نئی حکمت عملی پر غور ہوا ہے تحریک انصاف کے عارف علوی ڈومور پالیسی مسترد کرتے ہیں جبکہ سی پیک پر پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر مشاہدحسین سید پاکستان بارے امریکی پالیسی پر کہتے ہیں کہ امریکہ16سال میں ایک کھرب ڈالر ضائع کرنے کے باوجود افغانستان میں آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں سے آغاز کیا تھا امریکہ سمیت دنیا امن کے قیام کیلئے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتی ہے اس اعتراف کا تقاضہ ہے کہ پالیسی سازی میں بھی احتیاط کی جائے۔

عسکری ترجمان کی پریس بریفنگ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی گذشتہ روز ہونے والی پریس بریفنگ میں بہت سارے معاملات پر حقیقت پسندانہ موقف سامنے آیا ہے اس کیساتھ یہ بھی واضح کردیاگیا ہے کہ وطن عزیز میں سول ملٹری تعلقات میں اختلاف ہے نہ ہی فوج سیاسی معاملات میں ملوث ہے میجر جنرل آصف غفور یہ بھی کہتے ہیں کہ گرینڈ ڈائیلاگ ہوا تو فوج اس کاحصہ بنے گی اس سب کیساتھ وہ فاٹامیں اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہیں عسکری ترجمان کا کہنا ہے کہ سیاسی نظام میں اس کا طریقہ کار ہوتا ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے سکیورٹی تناظر میں اپنی سفارشات فاٹا ریفارمز پر دیدی تھیں آرمی کا کوئی پوائنٹ نہیں تھا کہ ریفارمز ہونی چاہئیں یا نہیں ہونی چاہئیں‘ دریں اثناء ہمارے رپورٹر کی فائل کردہ سٹوری کے مطابق فاٹا کے اراکین قومی اسمبلی نے ایک بار پھر رواج ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے سامنے اپنے تحفظات رکھ دیئے ہیں فاٹا اصلاحات سے متعلق سٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی کا کام اپنی اہمیت کے تناظر میں اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کو روایتی سست روی کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔