بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / فاٹا کیلئے لانگ مارچ

فاٹا کیلئے لانگ مارچ

جماعت اسلامی بلاشبہ ملک کی منظم ترین جماعت ہونے کااعزازرکھتی ہے ویسے بھی ا س کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ موروثیت کادوردور تک نام و نشان بھی نہیں ملتا نہ ہی عہدیداروں کو من مانی کی جرات ہوتی ہے چنانچہ یہ جماعت جس کسی معاملہ میں میدان میں نکل آتی ہے تو کوئی نہ کوئی فیصلہ کراکے چھوڑتی ہے پاکستان کی سیاست میں دھرنااورملین مارچ کاکلچرمتعارف کرانے کا اعزاز اسی جماعت کے سابق امیر مرحوم قاضی حسین احمدکوحاصل ہے جو اپنی سیماب صفت طبیعت کی وجہ سے نہ تو خودآرام سے بیٹھتے تھے نہ ہی کارکنوں کو سستی کاشکار ہونے دیتے تھے جماعت اسلامی کی فعالیت کاایک واضح ثبوت ان دنوں فاٹا صلاحات و انضمام کے معاملہ پر مسلسل میدان گرم رکھناہے اگر دیکھا جائے تو بدقسمتی سے فاٹا اصلاحات و انضمام کی منزل اب مزید دورہوتی جارہی ہے کیونکہ تاحال رواج ایکٹ پر اتفاق رائے پیداہوا ہے نہ ہی صوبائی اسمبلی میں فاٹاکے لئے نشستیں مختص کئے جانے کے حوالہ سے کوئی پیشرفت ہوئی ہے سابق وزیراعظم نے محض دو جماعتوں کی خوشنودی کی خاطراس سلسلے میں پہلی بار پیداہونے والے عظیم تراتفاق رائے کو پس پشت ڈالتے ہوئے معاملے کو التواء میں ڈالنے کی راہ اختیارکی حالانکہ ن لیگ کو اس معاملہ میں بدترین مخالف جماعتوں پی ٹی آئی اورپی پی پی کیساتھ ساتھ اے این پی‘کیوڈبلیوپی اور جماعت اسلامی کی مکمل تائیدو حمایت حاصل تھی مگر ان سب کو ناراض کرکے نجانے نوازشریف کیا حاصل کرنا چاہتے تھے ۔

دوسری طرف جب سے انضمام کا معاملہ التواء میں ڈالا گیاہے قوم پرست جماعتیں تمام تردعوؤں کے باوجود نہ تو کوئی عملی احتجاج ریکارڈ کراسکی ہیں نہ انہوں نے کل جماعتی کانفرنسوں کے اعلانات کو عملی شکل دینے میں کامیابی حاصل کی ہے مگر اس کے برعکس اس دوران دو جماعتو ں کاکردارخاصا فعال نظر آ رہا ہے پی ٹی آئی اورجماعت اسلامی نے اس حوالہ سے منظم اندازمیں احتجاج جاری رکھا ہوا ہے پی ٹی آئی نے رواں ماہ کے دوران گورنرہاؤس کے سامنے دوبڑے مظاہرے کئے ہیں جبکہ جماعت اسلامی نے بھی نہ صرف گذشتہ دنوں بھرپور احتجاج کیابلکہ اس انضمام کے لئے وفاقی حکومت کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے واضح کیاہے کہ پچیس ستمبر کو پشاور سے اسلام آبادتک لانگ مارچ کیا جائیگا پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی دونوں اس وقت صوبائی حکومت میں شریک اقتدار بھی ہیں جبکہ ملکی سطح پر بھی دونوں کے سیاسی رجحانات یکساں دکھائی دیتے ہیں اب اگر فاٹا انضمام کے معاملہ پر دونوں جماعتیں دیگر جماعتوں کے مقابلہ میں زیادہ سرگرم ہیں تو بہتر یہی ہوگا کہ اس معاملہ میں دونوں اشتراک عمل کی کوئی صور ت نکالیں بلکہ آگے بڑھ کرانضمام کی حامی دیگر جماعتوں کو بھی اپنے ساتھ شریک سفر ہونے پر مجبور و آمادہ کریں کیونکہ اس وقت لوہاپوری طرح گرم ہے صرف مضبوط چوٹ لگانے کی دیر ہے چند دن پہلے ہی آئی ایس پی آر کی طرف سے پھر واضح کیاگیاہے کہ پاک فوج اصلاحاتی عمل کی حامی ہے اورچاہتی ہے کہ قبائلی باشندوں کو بھی پورے ملک کی طرح حقوق حاصل ہوں اسی طرح فاٹا سے منتخب ہونیوالے گیارہ میں سے سات اراکین قومی اسمبلی بھی اس وقت کھل کرفاٹاانضمام کی حمایت کررہے ہیں۔

جن میں ایک کوتو گذشتہ دنوں وفاقی کابینہ میں بھی شامل کرلیا گیاہے ساتھ ہی فاٹا سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے قبائلی نوجوانوں کی اکثریت بھی یہی چاہتی ہے تو پھر اگر کوئی اور جماعت پہل نہیں کرتی تو جماعت اسلامی ہی میدان میں آکر فاٹا انضمام کی حامی تمام قوتوں کو ایک پلیٹ فار م پراکٹھاکرکے حکومت پر دباؤ بڑھائے اس عمل میں خودن لیگ کی تائیدو حمایت بھی حاصل کی جاسکتی ہے پہلے مرحلہ میں پارلیمنٹ میں اس پر احتجاج کیا جا سکتا ہے بعدازاں پارلیمنٹ سے باہر بھی سیاسی قوتوں کو جمع کیاجاسکتاہے ویسے بھی اب الیکشن میں بہت کم وقت رہ گیاہے اگر صوبائی اسمبلی میں نشستیں دینے میں کو ئی قانونی رکاوٹ پیش آتی ہے تب بھی انضمام کو عملی شکل دی جاسکتی ہے اور اگلے پانچ سال کے دوران معاملات چلانے کیلئے بلدیاتی ادارے قائم کرنے کیساتھ ساتھ باہمی مشاورت سے فاٹا کونسل بناکر معاملات چلائے جاسکتے ہیں نامزدگیوں سے بھی کام چلایا جاسکتاہے تاکہ فاٹا میں ہونیوالے ترقیاتی کاموں پر صرف بیوروکریسی کاکنٹرول ہی نہ رہے فوری طورپریہ بھی ممکن ہے کہ ہر ایجنسی کیلئے صوبائی اسمبلی کے دو حلقے بناکر اگلے الیکشن میں نمائندے منتخب کرانے کاموقع دیا جائے جو بھی کرناہے اب جلدسے جلد کرنا ہے اور اگر پی ٹی آئی وجماعت اسلامی ہی پیش قدمی کریں تو کوئی مضائقہ نہیں۔