بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر حفیظ / ٹھنڈے پانی کی بوتل

ٹھنڈے پانی کی بوتل


امریکی ریاست ہوسٹن کی ایک مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لئے گیا تو یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ مسجد کے داخلی مقام پر جوتے رکھنے کی ریک کے پاس ٹھنڈے پانی کی بوتلیں فریج میں بھری ہوئی تھیں ۔ نمازی اپنی ضرورت کے مطابق بوتلیں اٹھاکر پی رہے تھے۔ صاف پانی کی یہ ٹھنڈی بوتلیں مفت دستیاب تھیں۔ کوئی بھی نمازی اپنی ضرورت کے مطابق پانی کی بوتل اٹھا کر پی سکتا تھا کوئی روک ٹوک نہیں تھی یہ خوبصورت روایت حجاز مقدس کے نظام سے مستعار لی گئی ہے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں آپ مساجد میں جائیں تو وہاں بھی داخلی مقامات پر بڑے بڑے ریفریجریٹرز میں آب زم زم کی ٹھنڈی بوتلیں رکھی ہوتی ہیں۔ نمازی اپنے جوتے ریک میں رکھتے ہوئے ساتھ پڑے فریج سے آب زم زم کی بوتل بھی اٹھاکر مسجد کے اندر لے جاتے ہیں ۔حرمین شریفین میں طواف سعی‘ نوافل‘ تراویح اور ذکر کے دوران آب زم زم بھی پیتے رہتے ہیں۔ یہاں ایسا نظم و ضبط دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ پانی کا ایک قطرہ بھی کارپٹ پر گرنے نہیں دیتے۔ تاکہ کارپٹ خراب نہ ہو۔ اور نہ ہی خالی بوتل پھینک دیتے ہیں۔مجھے حجاز مقدس کی اکثر مساجد میں نماز کی ادائیگی کا شرف حاصل ہوا ہے جس مسجد میں بھی گئے ٹھنڈے پانی کا انتظام وہاں موجود تھا۔روزانہ ہزاروں افراد وہاں مفت صاف پانی سے مستفید ہوتے ہیںیہ ایک بہترین اور قابل تقلید روایت ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ دوسروں کی خیال داری کی انمول اسلامی روایت کی عکاس ہے جس نے بھی یہ مناظر دیکھے تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکا کسی کو نہیں معلوم ۔ کہ اتنی بڑی تعداد میں ٹھنڈے پانی کی بوتلیں مساجد میں جمع کون کراتا ہے۔

وہاں کسی ڈونر کے نام کی تختی ہوتی ہے نہ ہی کسی پیاسے سے ٹھنڈے پانی کی قیمت وصول کی جاتی ہے۔ ایثاراور قربانی کی یہ عظیم روایت اسلام کا ہی خاصا ہے۔ہوسٹن میں بہت ساری مساجد ہیں اکثر مساجد میں تراویح کی آٹھ رکعت نماز پڑھی جاتی ہے اور رکوع سے پہلے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ایک مسجد ایسی تھی جہاں تراویح کی بیس رکعت نماز پڑھائی جاتی تھی میری رہائش گاہ سے کافی فاصلے پر واقع ہونے کے باوجود میں اسی مسجد میں نماز تراویح پڑھنے جاتا تھا تاہم تمام مساجد میں مہمانداری کی روایت ایک جیسی تھی۔میری رہائش گاہ کے نزدیک والی مسجد میں آٹھ رکعت ہی پڑھائی جاتی تھی وہاں کلام مجیدکی تلاوت میں نے سنی جو روح پرور تھی۔یہ مسجد ایک کلو میٹر کے فاصلے پر تھی تاہم میں بارہ کلو میٹر کے فاصلے پر بیس رکعت والی نماز تراویح پڑھنے جایا کرتا تھا۔حال ہی میں وٹس ایپ پر ایک عالم دین کا خطاب دیکھنے کو موقع ملا۔ عالم دین کا کہنا تھا کہ عبادت خشوع و خصوع کیساتھ ہونی چاہئے امریکہ میں بھی ایک عالم دین مذہبی اجتماع سے خطاب میں یہی کہہ رہا تھا کہ اگر کوئی شخص گناہ گار ہے‘منافع خور ہے‘ کسی کا حق مارتا ہے‘ لوگوں کو دکھ پہنچاتا ہے اور اسلام کی تعلیمات سے دور ہے۔ تب بھی اسے عبادت میں باقاعدگی رکھنی چاہئے کیونکہ عبادت ہی وہ ذریعہ ہے جو اسے گناہ اور نافرمانی کی زندگی سے بچا کر صراط مستقیم پر لاسکتا ہے۔عمرہ کی ادائیگی کے دوران لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ خانہ کعبہ میں حجراسود اور کعبہ کی دیوار سے لپٹ کر اپنی عبادات کی قبولیت کیلئے گریہ و زاری کریں۔ معروف دانشور ممتاز مفتی عمرہ سے متعلق اپنی کتاب لبیک میں لکھتے ہیں کہ اہم کام خشوع و خضوع کے ساتھ عبادت کر کے خالق کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہے۔ جب یہ تعلق قائم ہوجائے تو انسان کی روح پاک ہوتی ہے اور قلب روشن ہوتا ہے۔

جس سے انسان کی زندگی بدل جاتی ہے۔بیرون ملک قیام سے انسان کی زندگی میں غیر معمولی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اصل کام اپنی بنیادوں کیساتھ پیوستہ رہنا ہے اور ملک سے باہر اس تعلق کو برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے۔اذان کی آواز گونجتے ہی لوگ نماز کی ادائیگی کیلئے مساجد کا رخ کرتے ہیں۔ گاڑی یا جہاز میں سفر شروع کرنے سے پہلے خصوصی دعا پڑھی جاتی ہے۔ گھر‘ دفتر اور کسی اجتماع کی جگہ داخل ہوتے ہوئے سلام کیا جاتا ہے۔ بچے اپنے بڑوں کی تکریم کرتے ہیں۔ یہ تمام اسلامی روایات بچے خود بخود نہیں سیکھتے بلکہ انہیں ایک منصوبہ بندی کے تحت روایات کی پابندی اور احترام سکھایا جاتا ہے۔ انہیں مدلل انداز میں دین سے وابستگی کے فوائد بتاکر اپنی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے پر قائل کیا جاتا ہے۔مساجد میں نمازیوں کیلئے ٹھنڈے پانی کی بوتل رکھنا بھی امریکہ میں مقیم مسلمانوں کو اپنی اساس کیساتھ تعلق استوار رکھنے کی بہترین کوشش ہے اور اس کا بنیادی مقصد خالق کیساتھ براہ راست تعلق قائم کرنا ہے۔ اس سے پوری دنیا میں ایک اچھا اور مثبت پیغام بھی جاتا ہے اور مسلمانوں کا ایک بہتر امیج سامنے آتا ہے۔