بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / فاٹا انضمام کی منزل

فاٹا انضمام کی منزل

جماعت اسلامی امیر سراج الحق نے گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے فاٹا انضمام میں تا خیر کے خلاف ایک احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید الاضحی تک اگر فاٹا کو خیبرپختونخو ا میں ضم نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی لاکھوں قبائل کے ہمراہ 25ستمبر کو پشاور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرے گی۔ جماعت اسلامی نے قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بار بار کے حکومتی اعلانات کے باوجود اس تاخیر پر گورنر ہاؤس کے سامنے ایک بڑا احتجاجی دھرنا ایسے وقت میں دیا ہے جب حکومت خود ہی اپنے انضمام اور فاٹا اصلاحات سے متعلق فیصلوں سے نہ صرف پیچھے ہٹ رہی ہے بلکہ اسکی جانب سے قبائل کو قومی دہارے میں لانے اور وہاں اصلاحات کے ذریعے دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے بلند بانگ دعوے بھی تسلسل کے ساتھ کئے جاتے رہے ہیں۔ قبائل کے ساتھ برتی جانے والی اس بے اعتنائی اورانکے زخموں پربار بار کے اعلانات کی صورت میں چھڑ کی جانے والی نمک کو دیکھ کر مزیدحیرت اور تعجب تب ہوتا ہے جب صدر مملکت اور وزیراعظم سے لیکر گورنر اور آرمی چیف تک سب بیک زبان ہوکر فاٹا اصلاحات اور قبائل کو قومی دہارے میں لانے کی دلالت اور وکالت کر تے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن جب بات عمل کی آتی ہے تو پھر سب کو خاموش تماشا ئی بننے میں دیر نہیں لگتی ہے ۔اس حقیقت کو بھی شاید جھٹلانا ممکن نہیں ہوگا کہ فاٹا اصلاحات کی راہ میں ہمیشہ سے ایک بڑی رکاوٹ سول بیوروکریسی رہی ہے جو اب بھی فاٹا اصلاحات کے فیصلے کو ہضم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے اور اسکی جانب سے تاحال فاٹا اصلاحات کی مخالف ان خفیہ او ر اعلانیہ قوتوں کو وہ تمام سپورٹ فراہم کی جاری ہے جو مجوزہ اصلاحات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہیں ۔

اسی طرح یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ جمعیت (ف) اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور بالخصوص انکے قائدین مولانا فضل الرحمن اور محمودخان اچکرئی آخر کن دلائل اور مصالح کے تحت فاٹا اصلاحات کی راہ میں روڑے اٹکانے میں پیش پیش ہیں۔ اس ضمن میں محمود خان اچکزئی کاسیاسی پس منظر اور انکے عجیب وغریب بیانات اور خیالات تو کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں لیکن مولانا فضل الرحمن جن کا قبائلی علاقوں میں نہ صرف موثر کردار اور مضبوط ووٹ بینک ہے بلکہ ان کا روایتی موقف بھی ہمیشہ قبائل کے حق میں رہا ہے نہ جانے وہ کیوں اس تبدیلی کی راہ میں پہاڑ بن کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ یہاں حکومت کی کمزوری اور اپنے دو مضبوط اتحادیوں کے ہاتھوں مجبوری کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ وہ کم از کم حکومت کے اس ناز ک مرحلے پر جب وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے کر گھر بھیجا جاچکا ہے او راس ساری بحرانی کیفیت میں جب یہ دونوں اتحادی میاں نواز شریف کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے ہیں انکی ناراضگی حکومت کے لئے افورڈ کرنا یقینامشکل ہوگا۔

لہٰذا اس ساری بحث اور صورتحال کے تناظر میں یا توحکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو کسی بھی طور راضی کر کے فاٹا اصلاحات کا قلعہ فتح کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے اور یا پھراس مرحلے پرکوئی معجزہ ہی قبائل کو ایف سی آر کی 117سالہ غلامی سے نجات دلاسکتا ہے ۔ لہٰذا اس صورتحال میں جماعت اسلامی کو اپنے اعلان کردہ 23ستمبر کے لانگ مارچ کو عملی شکل دینے اور اس شو کے ذریعے حکومت اور فاٹا اصلاحات مخالف قوتوں پر دباؤ ڈالنے کیلئے عام قبائل سمیت ان تما م سیاسی اور سماجی قوتوں کو اپنا ہمنوا بناناہو گا جو فاٹا اصلاحات اور فاٹاکے خیبر پختونخوا میں انضمام کے ایجنڈے پر متفق ہیں ایسی کس تدبیراور کوشش کے ذریعے ہی فاٹا اصلاحات کی دن بہ دن دور ہوتی ہوئی منزل کو قریب کرنے کی کوئی امید باندھی جا سکتی ہے۔ جوں جوں2018ء کے انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں فاٹا کے انضمام کی تحریک بھی زور پکڑتی جا رہی ہے اس حوالے سے فاٹا کی 50لاکھ سے زیادہ آبادی بھی اضطراب کا شکار ہے جماعت اسلامی کی کوششیں اس ضمن میں قابل تحسین ہیں تاہم اگر اس تحریک میں پی ٹی آئی ‘ قومی وطن پارٹی اور دیگر چھوٹی بڑی جماعتیں بھی شامل ہو جائیں تو نتائج جلد نکل آنے کے امکانات روشن ہو جائینگے۔