بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / انصاف کا حصول

انصاف کا حصول


 

2009ء میں جب سپریم کورٹ نے این آر او کے تحت بند ہونے والے مقدمات پھر سے کھولنے کا حکم دیا تو اسوقت آصف علی زرداری ملک کے صدر تھے اور آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت انہیں بحیثیت صدر استثنیٰ حاصل تھا جسکا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ مجموعی طور پر آصف علی زرداری نے 6 بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کیا اور ان میں سے آخری مقدمے میں انہیں 26 اگست کے روز راولپنڈی کی احتساب عدالت نے یہ کہتے ہوئے بری کردیا کیونکہ عدالت کے روبرو شہادتیں اور کاغذات کی نقول (فوٹوسٹیٹ کاپیوں) پر مبنی مقدمہ پیش کیا گیا‘ وہ اِس قابل ہی نہیں کہ احتساب عدالت کسی نتیجے پر پہنچ سکتی۔ اصولی طور پر سزا کا مستحق اگر آصف علی زرداری نہیں تو پھر نیب کو ہونا چاہئے جس نے کمزور کیس تیار کیا جو دانستہ غلطی بھی ہو سکتی ہے اگرچہ اٹھائیس اگست کے روز نیب کی جانب سے احتساب عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے لیکن سب جانتے ہے کہ جو ادارہ کمزور کیس بنا کر اپنی ہی ایک عدالت کو مطمئن نہ کرسکا وہ دیگر کسی عدالت یا سپریم کورٹ کو کسی نتیجے پر پہنچنے میں کس طرح مدد دے سکتا ہے۔ احتساب کے نام پر جاری ’ٹوپی ڈرامے‘ کے مراحل اور کئی اقساط ہیں جبکہ بنیادی سوالات بھی اپنی جگہ موجودہ ہیں جن میں پہلا نکتہ یہ ہے کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے تیار کیا جانے والا کیس کمزور شواہد اور ثبوتوں پر مبنی ہونے کی وجہ سے خارج ہوا‘ جس کا مطلب ہے کہ نیب کے ادارے نے اپنے حصے کا کام نہیں کیا۔ دوسری ذمہ داری احتساب عدالت کی تھی کہ اگرچہ اس کے سامنے کمزور دستاویزی شواہد اور ثبوت پیش کر دیئے گئے تھے تو وہ ایسی مہارت کا مظاہرہ کرتی کہ زرداری کے وکلاء کیلئے اپنے مؤکل کا دفاع کرنا ممکن نہ رہتا اس قسم کی دانش کا مظاہرہ پانامہ کیس میں عدالت عظمیٰ کی طرف سے دیکھنے میں آ چکا ہے کہ کس طرح فوٹوسٹیٹ کاغذات ہی کی بنیاد پر حقائق تک رسائی کیلئے جائنٹ انوسٹی گیشن کمیٹی بنائی گئی جسکی تحقیقات کی بنیاد پر اَٹھائیس مئی کو فیصلہ اور نیب کو حکم دیا گیا کہ وہ ایک ’مانیٹرنگ جج‘ کی نگرانی میں مزید مقدمات تیار کرے سالہا سال مقدمہ چلتا رہا۔

کاغذوں کے انبار لگ گئے۔ قومی خزانے سے تنخواہیں اُور مراعات لی گئیں۔ تفتیش پر اُٹھنے والے اَخراجات عوام کے ٹیکسوں سے برابر اَدا کئے جاتے رہے لیکن بعدازاں معلوم ہوا کہ یہ کیس تو ردّی کی ٹوکری میں ڈالنے سے زیادہ اہمیت ہی نہیں رکھتا۔ اگر شواہد اور ثبوت اِس قدر بے توقیر تھے تو یہ بات سولہ سال مشاہدہ کرنے کے بعد کیوں عیاں ہوئی؟ کیا سولہ سال تک عدالت نے فائلیں کھول کر دیکھی ہی نہیں کہ ان میں کونسے غیرضروری کاغذات لگائے گئے ہیں؟زرداری پرعائد بدعنوانی کے ایک ایک کرکے مقدمات ختم ہو چکے ہیں اور اب وہ پاکستان کے سب سے زیادہ صادق و امین انسان بن چکے ہیں کیونکہ انکی صداقت و امانت کی گواہی عدالت نے دے دی ہے! کیا پاکستانی عوام کی اکثریت اس عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتی ہے‘ اور دل پر ہاتھ رکھ کر کوئی معزز جج قسم اُٹھا سکتا ہے کہ زرداری کے ذرائع آمدنی اور بیرون ملک اثاثہ جات مشکوک نہیں!؟ یقینااحتساب عدالت سے سرخروئی نے پیپلزپارٹی میں نئی روح پھونک دی ہے اور پارٹی کے ان تمام رہنماؤں نے سکھ کا گہرا سانس لیا ہے جن پر بدعنوانی کے الزامات عائد ہیں کیونکہ اگر پاکستان کی احتساب عدالت سے آصف علی زرداری بری ہو سکتے ہیں تو کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے بدعنوانوں کیلئے مستقبل قریب میں ’احتساب عدالت‘ سے نمٹنا مشکل و ناممکن نہیں رہا!پاکستان میں تفتیشی و تحقیقاتی اِدارے فعال نہیں۔ شفافیت کا فقدان ہے اور جو کوئی بھی حکومت ہوتی ہے سرکاری اداروں کا قبلہ حکمران ہی رہتے ہیں۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ادارے جس مقصد کیلئے تخلیق کئے گئے وہ اسے پورا نہیں کرتے تو بجائے اِداروں کو درست کرنے کے مزید ادارے قائم کر دیئے جاتے ہیں اور پاکستان ایک ایسے نظام کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے جس میں اداروں پر ادارے تشکیل پا رہے ہیں لیکن اس متبادل طریقۂ کار کے باوجود بھی خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہورہے جبکہ گورننس ہر گزرتے دن کیساتھ مہنگی ہوتی جا رہی ہے انصاف ملنے میں تاخیر کے سبب تیزرفتار عدالتیں بنائی گئیں۔ فوجی عدالتیں بنائی گئیں اور احتساب عدالتوں کے ذریعے خصوصی مقدمات کا خصوصی فیصلہ کرنیکی تدبیر اختیار کرنے کے باوجود بھی کوئی ایک ہدف حاصل نہیں ہوسکا۔ عدالتوں میں زیرالتوا اور زیرسماعت مقدمات نمٹانے کا عمل تیز رفتاری کی جانب مائل نہ ہوسکا۔ عام آدمی کو انصاف ملنا تو دور کی بات‘ ہم عوام کی اکثریت عدالتوں کے بارے میں رائے رکھتی ہے کہ اِن سے انصاف کا حصول صبرآزما‘ طویل اور ایک ایسامہنگا عمل ہے‘ جس سے حتی الوسع دور رہنے ہی میں عافیت ہے۔