بریکنگ نیوز
Home / کالم / قانون سب کیلئے برابر

قانون سب کیلئے برابر

سیاسی پارٹیوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ الیکشن کے لئے جو حلقہ بندیاں ہوتی ہیں ان میں وہ غیر معمولی دلچسپی لیتی ہیں اب جو تازہ ترین مردم شماری ہوئی ہے اس سے یقیناًپرانی حلقہ بندیوں پر کچھ نہ کچھ اثر تو پڑے گا سندھ میں کئی سیاسی جماعتوں نے حالیہ قومی مردم شماری پر اپنے تحفظات کا اظہارکیا ہے اگر وہ عدالتوں میں جاتی ہیں اور اس ضمن میں کوئی حکم امتناعی جاری کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے لا محالہ آئندہ الیکشن کا شیڈول متاثر ہو سکتا ہے اور الیکشن کھٹائی میں پڑ سکتا ہے عدالتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس ضمن میں سیاسی پارٹیوں کے اعتراضات کو بڑی باریک بینی سے دیکھیں اور جو فیصلہ بھی انہوں نے دینا ہے اسے لٹکائیں نہیں بلکہ جلد دے دیں یہ ہم اس لئے کہہ رہے ہیں کہ سیاسی پارٹیوں نے تو غیر اعلانیہ الیکشن مہم شروع کر رکھی ہے سیاسی میدان میں تقریباً تمام سیاسی کھلاڑی سرگرم عمل ہیں انہوں نے الیکٹرانک میڈیا کے اندر اپنے اپنے بندے رکھے ہیں جو ان کے جلسوں کی بھرپور کوریج کر رہے ہیں فی الحال تو یہ سیاسی کھلاڑی ایک دوسرے پر تبرے ہی کر رہے ہیں کردار کشی اور دشنام طرازی سے ان کی تقاریر بھری پڑی ہوتی ہیں کوئی کام کی بات ان کے منہ سے ہم نے نہیں سنی ملک کو درپیش مسائل کا ان کے پاس کیا حل ہے اس بارے میں عام آدمی اب تک اندھیرے میں ہی ہے ویسے اس بات کا کیا علاج ہے کہ یہ قوم شخصیت پرست ہے یہ ماضی میں بھی شخصیات کے پیچھے گئی تھی اور اب بھی نظر آتاہے کہ آئندہ الیکشن میں اسی روش کا مظاہرہ کرے گی پی پی پی بلاول کو عمران خان کے توڑ کی حیثیت سے آگے آگے کر رہی ہے کیونکہ ان کے تھنک ٹینکس کو پتہ ہے کہ زرداری عوام کو شاید قابل قبول نہ ہوں اس دن پی پی پی کے لیڈر سید خورشید شاہ جو کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں۔

نے بڑی عجیب بات کہہ دی موصوف نے فرمایا کہ قوم کے مسائل70 سالہ بوڑھا نہیں بلکہ بلاول کی طرح جواں سا ل لیڈر حل کر سکتا ہے اشارہ غالباً ان کا عمران خان کی طرف ہی تھا کہ جو 70 سال کی عمر کے اب قریب قریب ہوتا جا رہا ہے لیکن خورشید شاہ نہ جانے اسلام کے چوتھے خلیفہ کا وہ فرمان کیوں بھول گئے کہ مجھے بوڑھے کا تجربہ اور حکمت کسی جواں سال کے جذبے سے زیادہ عزیز ہے‘ بلاول کا کارڈ استعمال کرکے پی پی پی خواہ مخواہ(ن)لیگ کے کافی ووٹ کاٹے گی لیکن یہ تب ہی ممکن ہو گا اگر زرداری صاحب اسے آزادی سے کام کرنے دیں اور خود کو الیکشن مہم سے دور رکھیں ویسے بھی ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں این اے120 کا ضمنی الیکشن کانٹے دار ہو سکتا ہے اگر دیگر سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کو دوڑ سے باہر نکال لیں اور صرف پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کے امیدواروں کو سیاسی اکھاڑے میں چھوڑ دیں لیکن پی ٹی آئی کی حریف سیاسی جماعتیں کبھی بھی نہ چاہیں گی کہ وہ یہ سیٹ جیت لے ویسے آج تک کبھی ایسا ہوا تو نہیں کہ اس ملک میں برسر اقتدار حکومت کے دور میں کسی ضمنی الیکشن میں اس کے امیدوار کو شکست کامنہ دیکھنا نصیب ہوا ہو ہاں معجزہ اور بات ہے ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر ہیں اور جب کوئی رکن اسمبلی قومی اسمبلی کا سپیکر بن جائے تو پارلیمانی روایات کے مطابق اس کا اپنی سیاسی پارٹی سے کوئی لینا دینا نہیں رہتا ۔

وہ پھر تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین کو ایک آنکھ سے دیکھتا ہے اسلئے اکثر لوگوں کو آج کل ان کا میاں نواز شریف کیساتھ اٹھنا بیٹھنا یا جاتی عمرے کے طواف کرنا برالگا ہے اپنے ہاں ایک نہایت ہی بری عادت ہم میں اکثر لوگوں اور طبقوں میں پائی جاتی ہے بلکہ حکومتوں میں بھی اور وہ یہ کہ اگرکسی ایسے شخص پر الزام لگ جائے کہ اس نے کوئی بڑا اخلاقی جرم کیا ہے او ر اس شخص کے پیروکار یا ووٹ بینک مضبوط ہو یا اس کا کسی مضبوط سیاسی گروپ سے تعلق ہو تو اس پر ہاتھ ڈالنے یا اسے گرفتار کرنے سے حکام گھبراتے ہیں کہ کہیں اس کی گرفتاری سے اس کے پیرو کار سڑکوں پر نہ نکل آئیں باالفاظ دیگر ہم انصاف کے نفاذ میں بھی تمیز کرتے ہیں امیر یا سیاسی طور پر طاقتور شخص کیلئے کوئی اور قانون ہے اور غریب کیلئے دوسرا‘اس حقیقت کے تناظر میں جب ہم بھارت میں گرو گرمیت کی گرفتاری کا معاملہ دیکھتے ہیں تو اس اقدام کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے بھارتی عدالت اور پولیس نے قطعاً یہ پروا نہیں کی کہ اس گرو کی گرفتاری کے بعد امن عامہ کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہو گا یا اس کے پیرو کار سرکاری املاک کونقصان پہنچائیں گے ۔

بسوں کو نذر آتش کریں گے جس طرح ان کی گرفتاری کے بعد ہوا ۔ہمار ے حکام کی طرح بھارتی حکام نے کسی سیاسی مصلحت کا مظاہرہ نہیں کیا۔قانون قانون ہوتا ہے یہ سوچ کر کہ کسی فرد کو اس لئے نہ پکڑا جائے کہ امن عامہ خراب ہو جائے گا ایک غلط سوچ ہے کہ جس کا تدارک ضروری ہے ۔ قانون سب کے لئے ایک اور تمام آبادی کے لئے برابر ہونا چاہئے نا کہ غریب تو107 میں بھی جیل میں جائے اور مالدار 302 میں بھی دوسرے دن باہر پھرتا رہے اب وقت آگیا ہے کہ انصاف کو عام کیا جائے قوانین کو لاگو کیا جائے اور ججز‘ وکلاء اور اس پیشے کے وابستہ دیگر لوگوں کو پابند کیا جائے کہ وہ غریب سائلوں کو لٹکانے کی بجائے ان کو انصاف دے کر عزت سے رخصت کریں۔