بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / پاک امریکہ تعلقات؟

پاک امریکہ تعلقات؟


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا حل فوجی نہیں سیاسی ہے وزیراعظم امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ امریکی صدر کی افغان پالیسی ناکام ہوگی اور افغانستان میں فوجی کاروائی کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوگی ادھر پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کی قائمقام معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کا دورہ پاکستان ملتوی ہوگیا ہے امریکی سفارت خانے کا کہناہے کہ باہمی رضا مندی کیساتھ دورے کا شیڈول پھر طے کیا جائیگا میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کیخلاف سنگین الزام تراشی کے باعث دورہ امریکہ ملتوی کرتے ہوئے امریکی عہدیدار ایلس ویلز کیساتھ ملنے سے انکارکیا ہے تادم تحریر اس حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے کوئی مزیدتفصیل سامنے نہیں آئی دوسری جانب افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈرجنرل جان نکلسن نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان قیادت کوئٹہ اور پشاور میں موجود ہے جس سے باخبر ہیں افغان ٹی وی کو انٹرویو میں جنرل نکلسن کا کہنا ہے کہ افغانستان کے باہر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا مسئلہ سنگین ہے اور اسے حل کرنا ہوگا۔

نکلسن کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نازک ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں ٗ دریں اثنا وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ امریکی امداد بند ہونے سے پاکستانی معیشت پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہیں ہوں گے ہم حالات کو ہینڈل کرنا بخوبی جانتے ہیں ہمیں خوددار قوم کی حیثیت سے آگے بڑھنا اور حالات کا مقابلہ بہادری کے ساتھ کرنا ہے ن کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کو پاکستان پر یقین نہیں تو افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجنے کا بندوبست کرے ٗ دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ افغان جنگ اپنی سرزمین پر نہیں لا سکتے جنرل باجوہ کا ہے کہ دہشت گردی کو انٹیلی جنس شیئرنگ اور مربوط بارڈر مینجمنٹ کے ذریعے ہی شکست دی جاسکتی ہے خطے کے موجودہ منظر نامے میں اس پر کوئی دوسری رائے نہیں کہ امریکی صدر اور ان کے دیگر عہدیدار افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ملبہ بے بنیاد الزام تراشی کے ذریعے پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی کے لئے جواز تلاش کر رہا ہے ٗ وہ نہ صرف پاکستان پر الزام تراشی کرتا جا رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ افغانستان میں بھارتی کردار کو بڑھانے کی سعی میں بھی مصروف ہے اس ساری صورتحال میں پاکستان کی سول و عسکری قیادت کا جواب ہر لحاظ سے مسکت ہے۔ قومی اسمبلی کا اہم اجلاس آج ہو رہا ہے جس میں امریکی دھمکی کے تناظر میں بات ہوگی۔ سپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دھمکی اور بھارت کو تھپکی نہیں چلے گی برسرزمین حقائق اور خطے میں امن کے قیام کے لئے پاکستان کی قربانیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ عالمی برادری اصل منظر نامے کا ادراک کرتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کرے تاکہ خود اس کی غیر جانبداری پر سوال نہ اٹھ سکے دنیا کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی یہ بات بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں اور یہ کہ امریکی صدر ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا حال بھی ان کے پیشروں کے ناکام منصوبوں جیسا ہوگا۔