بریکنگ نیوز
Home / کالم / ….باکسنگ گلوز پہنی دلہن

….باکسنگ گلوز پہنی دلہن

چند روز پیشتر 4جولائی کی شب بہت دھوم دھام اور پٹاخوں شرلیوں وغیرہ سے منائی گئی‘ ہم بھی نزدیک جھیل پر تماشا دیکھنے گئے‘ یوں جانئے یہ یوم آزادی امریکی ہماری شب برات کی مانند مانتے ہیں اور بے حساب آتشبازی گھروں اور میدانوں میں کرتے ہیں‘ ویسے تو ان کے جی میں آجائے تو یہ4جولائی کے علاوہ بھی آتشبازی کا شوق پورا کرلیتے ہیں لیکن دوسرے ملکوں میں جاکر… کبھی آسمانوں سے شہر بغداد پر آتش برسا کر اور کبھی افغانستان میں موت کی پھلجھڑیاں روشن کر کے… اور کبھی’’ بموں کی ماں‘‘ کا دھماکہ کر کے… لیکن صرف دوسرے ملکوں میں جاکر… یوں کولیٹریل ڈیمج محض لاکھ جانوں کاہو تو جاتا ہے لیکن امریکیوں کا آتشباز شوق پورا ہو جاتا ہے… مجھے آرلینڈو آئے ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ ہونے کو ہے اور اگر آپ مجھ سے دریافت کریں کہ اس دوران میرے لئے سب سے پرلطف انسانی منظر کونسا رہا جس نے بقول کسے میرے دل کو باغ باغ وغیرہ کردیا تو میں عرض کرتا ہوں… اس شہر میں میرے ایک نہایت نفیس طبع والے دوست انصاری صاحب ہیں اور جب کبھی یہاں آنا ہوتا ہے وہ مجھے شہر کے کسی مہنگے ترین ریستوران میں لے جاتے ہیں… پچھلی بار انہوں نے مجھے بصد اصرار کیکڑا کھلادیا جسے توڑنے اور اس میں سے گودا نکالنے کیلئے ایک ہتھوڑی کے علاوہ دیگر آلات حرب بھی تھے… اس بار معلوم ہوا کہ وہ اپنے برخوردار کو بیاہنے کیلئے امریکہ کی جانے کونسی ریاست میں جاچکے ہیں… ایک روز انکا فون آگیا اور انہوں نے مجھے بیٹے کے ولیمے کی خصوصی دعوت دی….ہم سب باقاعدہ بن ٹھن کر ولیمہ کھانے گئے ظاہر ہے عینی خاندان بھی پہلے سے مدعو تھا…

انصاری صاحب ولیمے کے انتظامات میں قدرے بولائے پھرتے تھے اور بار بار اپنی ڈھلکتی مونچھوں کو تاؤ دیتے تھے… مہمانوں میں مصور اور فلم ساز ممتاز حسین بھی شامل تھا جو اپنے آبائی شہر جھنگ کے دوست انصاری کی خوشیوں میں شریک ہونے کی خاطر نیویارک سے آیا تھا… ممتاز نے کہاکہ مرشد آرلینڈو بہت ہوگیا اب نیو یارک چلے آیئے وہاں پبلک آپ کا انتظار کر رہی ہے ہال بھرا پڑا تھا لیکن ابھی تک دولہا اور دلہن نہیں آئے تھے… یہاں بھی کافی لوگوں سے ملاقات ہوئی جو میری تحریروں کو پسند کرنے والے تھے… اس دوران کچھ شوروغوغا سا ہوا… ایک ہلچل سی مچی اور کیا دیکھتے ہیں کہ ہال کے ایک دروازے میں سے دلہن شادی کے فل لباس میں اپنی درجنوں سہیلیوں کے ہمراہ داخل ہو رہی ہے اور اسکے ہاتھوں میں مہندی نہیں‘ اس نے نہایت پھولے ہوئے بڑے بڑے باکسنگ کے دستانے پہن رکھے ہیں‘ اور وہ بازو لہرا لہرا کر کچھ نعرے لگارہی ہے چیلنج کر رہی ہے کہ ہے کوئی جو میرے مقابلے پر آئے اور اس کی سہیلیاں نہ صرف خوب ہاؤ ہو کر رہی ہیں بلکہ اسکی ہمت بندھا رہی ہیں… آنکھوں پر یقین تو نہ آیا کہ ایک شرماتی سجاتی دلہن کی بجائے باکسر محمد علی کی کوئی شاگرد ہال میں داخل ہو کر مکے لہرا رہی ہے… اس دوران دوسرے دروازے میں سے دولہا میاں اپنے دوستوں کے ساتھ غل مچاتے آئے یوں کہ سر پر پگڑی کی بجائے باکسنگ ہیلمٹ پہنے ہوئے ہیں تاکہ مدمقابل کو گھونسوں سے زیادہ نقصان نہ ہو… دونوں فریق ایک دوسرے کی جانب جھپٹے… دونوں جانب سے نعرے بلند ہوئے اور پھر میں تو دیکھ نہ سکا لیکن غالباً دلہن نے مذاق مذاق میں شائد دولہا کو ناک آؤٹ کردیا‘ ازاں بعد صلح صفائی ہوگئی اور وہ ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے سٹیج پر جا بیٹھے…

میں سمجھتا ہوں کہ یہ باکسنگ والی شادی کی رسم نہایت عمدہ اور قابل تقلید ہے… بندے نے یوں بھی سال چھ مہینے میں بہرطور بیوی کے ہاتھوں ناک آؤٹ ہونا ہی ہوتاہے تو کیوں نہ پہلے دن ہی ناک آؤٹ ہو جائے اور فیصلہ ہو جائے کہ چیمپئن کون ہے اور کس کی قسمت میں بہرطور شکست ہے… بعدازاں ایک انکل اور آنٹی نے مہمانوں کے سامنے ایک عجیب سا ورزشی رقص پیش کیا جس پر انہیں خوب داد ملی… کچھ اور رسوم ہوئیں اور ان میں بھی جوتیاں دکھائی گئیں… نیو یارک سے آنے والے ایک مہمان جاوید صاحب نے سٹیج پر جاکر مسعود رانا کا گیت’’ ٹانگہ لاہور دا ہووے جاں جھنگ دا‘‘ نہایت عمدگی سے پیش کیا… یہ گیت اس لئے بھی مناسب تھا کہ یہاں اس محفل میں جھنگ کے لوگ کثرت سے تھے‘ لیکن محفل کا لطف تو بس اس لمحے میں آیا تھا جب دلہن باکسنگ گلو پہنے نعرے لگاتی اکھاڑے… یعنی ہال میں داخل ہوئی تھی۔