بریکنگ نیوز
Home / کالم / ذہنی انحطاط

ذہنی انحطاط


کسی جگہ ہم نے پڑھا تھا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جس میں وہی بارگاہوں میں مقرب ہو گاجو لوگوں کے عیوب بیان کرنے والا ہے او ر وہی خوش اخلاق سمجھا جائے گا اور انصاف پسند کو کمزور اور ناتون سمجھا جائے گا صدقہ کو لوگ خسارہ اور صلہ رحمی کو احسان سمجھیں گے‘ ذرا سوچئے کیا ایسا زمانہ آ تو نہیں کیا ؟ اب آتے ہیں چند چبھتے سوالات کی طرف جو ہر ذی شعور محب وطن پاکستانی کو پریشان کر رہے ہیں اور جو یقیناًبانی پاکستانی کی روح کو بھی تڑپاتے ہوں گے آج کل کئی ایسے واقعات تواتر سے ہور ہے ہیں کہ جن کا آج سے نصف صدی پہلے تصور کرنا بھی مشکل تھا پروفیشنل کالجوں میں جو داخلے میرٹ اور صرف میرٹ پر ملا کرتے آج وہ پیسوں کے بل بوتے پر مل رہے ہیں ! یہ آپ کو بھی اندازہ ہو گا اور ہمیں بھی ہے کہ پیسے کے زور پر ڈاکٹر یا انجینئر بننے والے کے ہاتھوں مریضوں اور تعمیرات کا کیا حشر نشر ہو رہا ہے ؟ کسی بھی مضمون میں ڈاکٹریٹ کرنا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے اس میں پی ایچ ڈی کرنے کیلئے سکالرز کو اپنا خون جلانا پڑتا ہے کیا عرصہ دراز سے کئی ریسرچ سکالرز نے پرانے ریسرچ پیپرز چرا کر ان میں رد و بدل کرکے انہیں اپنے نام سے چھپوا کر پی ایچ ڈ۱ی نہیں کر رہے ؟ ان میں کتنے پکڑے بھی گئی لیکن انہیں قرار واقعی سزا دینے کے بجائے معمولی سزا دے کر چھوڑ دیا گیا جعلی تعلیمی ڈگریاں دھڑا دھڑ جار ی نہیں کی جا رہی ؟ ایک دور تھا کہ جج بولتے کم تھے اور جب بھی بولتے تو صرف اپنے تحریری فیصلوں کے ذریعے بولتے آج کل الٹی گنگا بہہ رہی ہے وہ بولتے زیادہ ہیں ۔

کسی زمانے میں کالے کوٹ پہننے والوں کو اپنے کوٹ کے تقدس اورتوقیر کا از حد احساس ہوا کرتا وہ مکے کا استعمال کبھی بھی نہ کرتے ان کا ہتھیار دلیل تھا گنڈا سا پنجابی فلموں میں سلطان راہی یا مصطفی قریشی کے ہاتھوں میں تو شاید بعض لوگوں کو اچھا لگتا ہو لیکن پڑھے لکھے لوگوں کے ہاتھوں میں اسے نہیں ہونا چاہئے ۔ ریاستی اداروں کی بیخ کنی کا کام ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے شروع ہوا یہ انہی کی تجویز تھی کہ ہر ضلع کے ڈپٹی کشنر کو کنونشن مسلم لیگ کا ضلعی جنرل سیکرٹری بھی ہونا چاہئے ان دنوں یعنی ایوب خان کے دور میں وہ ایوب خان والی مسلم لیگ کے سرکردہ رکن تھے اور ابھی پی پی پی کی بنیاد نہیں رکھی گئی تھی ریاستی اداروں کی تباہی کے عمل میں 1971ء سے لیکر آج تک تقریباً تقریباً ہر حکمران نے اپنا حصہ ڈالا ہے یہ تو خدا کا شکر ہے کہ فوج اور عدلیہ ان کے اس قہر سے بچی رہی ورنہ یار لوگوں کا بس چلتا تو وہ ان کو بھی اس طرح اپنا تابع کر دیتے کہ جس طرح دیگر ریاستی اداروں کو انہوں نے اپنا غلام بنایا ہے کسی دور میں صرف پٹواری ‘ ایکسائز یا کسٹم انسپکٹر یا پی ڈبلیو ڈی کے اوور سیر کے بارے میں عرف عام میں کہا جاتا کہ اس کے پاس پیسوں کی ریل پیل ہے اب تو یہ جملہ تقریباً تقریباً ہر سرکاری محکمے کے ان اہلکاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جن کے ہاتھوں میں کچھ اختیار ہے آج تو عالم یہ ہے کہ اگر کسی سرکاری محکمے میں آپ کا کوئی جائز کام بھی پھنسا ہوا تو متعلقہ اہلکار کی مٹھی گرم کئے بغیر آپ اسے نکلا نہیں سکتے ۔

اس قوم کی ذہنی صحت کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ جس کے افراد کی ذہنی انحطاط کا یہ عالم ہو کہ وہ ٹیلی ویژن سکرین یا سوشل میڈیا پر قربانی کیلئے خریدتے ہوئے مویشی کے ساتھ اپنافوٹو کھنچوا کر یہ کہیں کہ یہ مویشی انہوں نے 3 لاکھ میں خریدا ہے یعنی نمائش کا عنصر اسلامی فریضہ کی ادائیگی میں بھی موجود ہے آپ نے یہ چیز بھی یقیناًنوٹ کی ہو گی کہ اس ملک میں ہر نیا حکمران اپنے فرائض منصبی سنبھالنے کے بعد دو کام باقاعدگی سے کرتا چلا آرہا ہے سرکاری پیسوں پر عمرے کی ادائیگی اور پھر فوراً وائٹ ہاؤس کادورہ شاید خاقان عباسی نے عمرہ تو کر لیا لیکن وائٹ ہاؤس وہ اس لئے نہ جا سکے کہ ٹرمپ نے پاکستان کیخلاف سخت بیان دے کر ان کا امریکہ کے سیر سپاٹے کے دورے پر پانی پھیر دیا ستم ظریفی یہ ہے کہ اب بھی (ن)لیگ اور پی پی پی میں ایسے رہنما موجود ہیں جو امریکہ کا ساتھ چھوڑنے کو بالکل تیار نہیں او ر ایسے بہانے تراش رہے ہیں ایسے جواز پیش کر رہے ہیں کہ اگر ہم نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر لئے تو حاکم بدہن ہم برباد ہو جائیں گے ۔