بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مردم شماری اور نئی حکمت عملی

مردم شماری اور نئی حکمت عملی


سندھ حکومت اور ایم کیو ایم نے مردم شماری کے نتائج مسترد کر دئیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ سندھ کی آبادی کم ظاہر کرنا وفاق کی سازش ہے۔ مردم شماری کی اہمیت پوری دنیا میں مسلمہ ہے اسی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی حکمت عملی طے کی جاتی ہے اس اہم معاملے پر اگر کسی بھی صوبے کے کوئی تحفظات یا خدشات سامنے آتے ہیں تو ذمہ دار اداروں کو اس کی تشفی کرنا ہوگی۔ وقت آگیا ہے کہ ہمارے پالیسی ساز مردم شماری کی اہمیت اور مستقبل کی ترقیاتی حکمت عملی سے متعلق حقائق کا ادراک کریں ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری برسرزمین حالات کے تجزیے، مستقبل کی ضروریات کے ادراک اور تکنیکی مہارت سے عاری منصوبہ بندی آج جگہ جگہ مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ہماری بجلی کی پیداوار اور کھپت کے درمیان فاصلہ ہے جبکہ آبی ذخائر کی ضرورت کا احساس کم دیکھنے میں آتا ہے آج قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں باران ڈیم کی توسیع کی منظوری دی جاتی ہے تو دوسری جانب وزیر خارجہ خواجہ آصف کہتے ہیں کہ پانی کے چھوٹے بڑے ذخائر کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ پانی کے بے دریغ استعمال پر قابو پانے کو اشد ضروری بھی قرار دیتے ہیں۔ یہ موثر اور وقت کی ضروریات سے ہم آہنگ ترقیاتی حکمت عملی سے گریز ہی کا نتیجہ ہے کہ وطن عزیز میں خدمات کے حوالے سے بھی انفراسٹرکچر ناکافی ہوچکاہے ہماری سڑکیں ٹریفک کے لوڈ کو پوری طرح برداشت نہیں کر پارہیں۔ پینے کا صاف پانی آبادی کے ایک بڑے حصے کو میسر نہیں۔ تعلیم اور علاج کیلئے سہولیات ناکافی ہیں۔ بعد از خرابی بسیار سہی۔ نئی خانہ و مردم شماری کے حاصل اعدادوشمار کی روشنی میں اب ہمیں آگے بڑھنا ہوگا اس کیلئے سندھ سمیت اگر کسی اور کے بھی کوئی اعتراضات و خدشات ہیں تو ان پر بھی بات چیت ہونی چاہیے۔ اس سب کے ساتھ عوام کو درپیش مشکلات کا احساس کرتے ہوئے مرکز اور صوبوں کو مل جل کر ٹھوس حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی تاکہ حال کی مشکلات کو دور کرنے کے ساتھ مستقبل کیلئے پلاننگ کی جاسکے۔

اصلاحات کی ضرورت

سپریم کورٹ نے پشاور کی عدالت عالیہ کے فیصلوں کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے خواتین کیلئے کرائسز سنٹر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے جسٹس دوست محمد خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ خواتین کے سنٹر کو بند کرنا گورننس کی بدترین مثال ہے۔ ادارے کوئی بھی ہوں ان میں ہر قسم کی بدانتظامی پر نوٹس لینا اور اصلاح احوال یقینی بنانا ٹاپ مینجمنٹ کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے وطن عزیز میں اداروں کی حالت کا اندازہ ایک جانب منافع بخش یونٹس کے خسارے میں چلے جانے سے ہوتا ہے تو دوسری طرف آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے ٗ کرائسزسنٹر ہویا کوئی اور ادارہ اس میں بدانتظامی پر اصلاح ہونی چاہئے۔ اداروں سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے اور ان کی مزید ضرورت نہ ہونے پر انہیں دوسرے دفاتر کیساتھ ملا دینا اور روبہ زوال آرگنائزیشنز کی کارکردگی کو نکھار دینا بہتر انتظامی طریقہ قرار دیاجاسکتاہے ۔