بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / امریکی ناکامیوں کا ذمے دار پاکستان نہیں ٗ چوہدری نثار

امریکی ناکامیوں کا ذمے دار پاکستان نہیں ٗ چوہدری نثار


اسلام آباد۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور چئیرمین سینیٹ رضاربانی سے امریکا میں اپنے ہم منصبوں کو خطوط لکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں،پاکستان کوئی خستہ حال مکان نہیں ،بھارت میں کیا ہورہا ہے ،امریکا اس کو نہیں دیکھتا ، ایک پٹاخہ بھی چلے تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان ملوث ہے،امریکا کی افغانستان میں مذاکرات ،سفارتی ہر پالیسی ناکام ہوئی، امریکا سے 10 سال میں جتنی امداد آئی ہے اس کا آڈٹ ہونا چاہیے، کولیشن سپورٹ فنڈ میں 500 ملین ڈالر کی بات کی جاتی ہے جبکہ صرف 200 ملین ادا کیے جاتے ہیں، پچھلے 20 سال میں پاکستان کو لاکھوں ڈالر نہیں مونگ پھلیاں ملی ہیں۔بدھ کو چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امریکی ناکامیوں کا ذمے دار پاکستان نہیں، امریکا پاکستان سے پوچھ کر افغانستان میں نہیں آیا خود آیا ہے ۔

قائم مقام نائب وزیر خارجہ اور پاکستان افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی ایلس ویلز کے دورہ پاکستان ملتوی کرنے کو اچھا اقدام قرار دیتے انہوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو عید کے بعد وہ پھر دورہ کریں اور وزیر خارجہ، وزیراعظم اور آرمی چیف کو کال آن کریں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں رابطہ سرکاری ہونا چاہیے، الزامات پر ثبوت دیے جائیں ہم انہیں کلیئر کریں گے۔افغانستان میں عدم استحکام پر بات کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حالات پاکستان کی وجہ سے خراب نہیں بلکہ لاغر حکومت کی وجہ سے ہیں جس کا ملک کے ستر اسی فیصد حصے پر کنٹرول ہی نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو اس معاملے میں شامل کرنا افغانستان کو غیرمستحکم کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے، بھارت کی نہ افغانستان سے کوئی سرحد ملتی ہے نہ کوئی تعلق ہے لیکن ہم نے راستہ دیا اور اب ڈونلڈ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ بھارت افغانستان کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ہماری تباہی میں ہمارا اپنا ہاتھ بھی ہے ،پاکستان کو یہاں پہنچانے میں ہمارا اپنا کردار بھی بہت واضح ہے،اب جب پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں نہیں تو امریکا الزامات لگا رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ جب پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں تھیں ۔

تو امریکا فوجی آمروں کو ڈالرز دیتا تھا، ہمیں محاذآرائی نہیں کرنی چاہیے ،انہوں نے کہا کہ دلائل اور حقائق سے لڑنا چاہیے۔چوہدری نثار نے کہا کہ جب یہاں ڈکٹیٹر کی حکومت تھی تو امریکااربوں ڈالر دیتاتھا ۔سابق وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ کم از کم دس محفوظ پناہ گاہیں افغانستان کی سرحد میں ہیں،کمیٹی بنائی جائے جوافغانستان میں ان ٹھکانوں کی نشاندہی کرے جہاں کارروائیاں ہوتی ہیں۔انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیرمین سینیٹ سے امریکا میں اپنے ہم منصبوں کو خطوط لکھنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ امریکی صدر کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ معاملات پاکستان کی عزت وقار ملحوظ خاطر رکھ کرمعاملات وزارت خارجہ میں طے ہونے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن خود مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کرے تو مخالف کرتاہے، امریکی صدر کا بیان ہمارے لیے تضحیک آمیز تھا، اس الزام کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے ۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ امریکا سے 10 سال میں جتنی امداد آئی ہے اس کا آڈٹ ہونا چاہیے۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کولیشن سپورٹ فنڈ میں 500 ملین ڈالر کی بات کی جاتی ہے جبکہ صرف 200 ملین ادا کیے جاتے ہیں، پچھلے 20 سال میں پاکستان کو لاکھوں ڈالر نہیں مونگ پھلیاں ملی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تعاون چاہتا ہے لیکن یہ تعاون یک طرفہ، اور دشمنوں کے ایجنڈے پر نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہاکہ مفاد کی خاطر چپ رہنے کی وجہ سے بار بار قیمت ادا کرنا پڑی ہے لیکن اس بار سب یک زبان ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ قرارداد سے کچھ نہیں ہوگا بیانیہ بنائیں، وزارت خارجہ کو بلائیں، حکومت اپوزیشن ادارے بیٹھیں اور یک زبان ہو کر جواب دیں۔