بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سوات موٹر وے کی تعمیراتی سرگرمیوں میں پیشرفت

سوات موٹر وے کی تعمیراتی سرگرمیوں میں پیشرفت


پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے 81کلو میٹر طویل زیر تعمیر سوات موٹر وے کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پیش رفت متفقہ ٹائم لائن کے اندر یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے چترال میں تین اور ناران میں ایک ہائڈل پاور پراجیکٹ کے لئے لیٹر آف انٹینٹ 20ستمبر تک جاری کرنے ، ٹرانسمیشن لائن چترال پر ایم اویو کرنے اور سیمنٹ پلانٹ ہریپور کے لئے مجوزہ اراضی کا سروے کرنے کے لئے کمپنی کو سیکیورٹی اور دیگر معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے آئل ریفائنری کرک کا جلد افتتاح کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ زمین کے حصول سمیت تمام تفاضے جلد پورے کئے جائیں۔ وہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی حکومت اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ذریعے تعمیر کئے جانے والے منصوبوں پر پیش رفت کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب، ڈائریکٹر جنرل ایف ڈبلیو او، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں، نوشہرہ ، پشاور اور کرک کے ڈپٹی کمشنرز، ازمک، پیڈو اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں باہمی دلچسپی کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف ڈبلیو او کے ذریعے چترال اور ناران میں مجموعی طور پر چار ہائڈل پاور پراجیکٹس تعمیر کئے جا رہے ہیں جن پر عمل دراآمد کے لئے محکمہ توانائی کی طرف سے لیٹر آف انٹینٹ درکار ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر سیکرٹری توانائی نے مذکورہ لیٹر 20ستمبر تک فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔وزیر اعلیٰ نے صوبائی حکومت کے پن بجلی کے منصوبوں اور ایف ڈبلیو او کے تین پراجیکٹس کے تناظر میں چترال میں ٹرانسمیشن لائن کو نا گزیر قرار دیا اور عندیہ دیا کہ اس منصوبے کو سی پیک میں ڈالنے کے لئے جے سی سی کے آئندہ اجلاس میں لے کر جائیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اسے سی پیک کا حصہ بنانے کے لئے بھرپور کوشش کرے گی بصورت دیگر ایف ڈبلیو او کو اپنے ذرائع سے ٹرانسمیشن لائن بچھا نے کی تجویز دی جس سے ایف ڈبلیو او کے حکام نے رضامندی ظاہر کی اور محکمہ توانائی کے ساتھ ایم او یو کرنے پر اتفاق کیا۔

سوات موٹر وے کی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے کام میں تھوڑی رکاوٹ آئی ہے ۔ ٹارگٹ سے 21دن پیچھے ہیں تاہم اس خلاء کو کور کر لیا جائے گا۔ستمبر میں دس کلو میٹر روڈ کی کارپٹنگ کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے ۔ ٹنل کے ایک طرف کام شروع ہے جبکہ دوسری طرف ٹنل کی کٹائی اکتوبر سے شروع ہو جائے گی۔ٹنل کے 350میٹر شمالی حصے کی باکس کٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔ ٹنل کے شمالی پورٹل میں 170میٹر جبکہ جنوبی پورٹل میں 140میٹر پر کام مکمل ہو چکا ہے وزیر اعلیٰ نے ٹنل پر کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے اور اس مقصد کے لئے سب کنٹریکٹرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے موٹر وے کی تعمیر میں حائل یوٹیلیٹیز کی منتقلی کے لئے متعلقہ حکام کا اجلاس طلب کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے موٹر وے پر تعمیری کام کی وجہ سے گاؤں شاہ کوٹ کے رہائشیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ عوام کو تحفظ دینا ہماری ذمہ داری ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ ایف ڈبلیو او ، پختونخوا ہائی وے اتھارٹی اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز مقامی لوگوں سے رابطہ کریں اور مسئلے کا قابل عمل حل نکالیں۔بس ریپڈ ٹرانزٹ کے تناظر میں سروس روڈ اور یونیورسٹی روڈ پر کام کی پیش رفت کے حوالے سے بتایا گیا کہ سروس روڈکی تعمیر و توسیع کا کام مکمل ہو چکا ہے وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سروس روڈ کا دورہ کرکے کام کا جائزہ لیں۔

تمام کام مطلوبہ معیار کے مطابق ہونا چاہئے۔ یونیورسٹی روڈ پر کام 30ستمبر تک مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے نوشہرہ میڈیکل کالج کی تکمیل میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ ٹائم لائن کے اندر کام مکمل نہ کرنے کی وجہ سے ذمہ دار جواب دہ ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا کہ وہ کام کی سست روی کی توجیہہ پیش کریں اگر تاخیر کی وجہ صوبائی حکومت ہے تو کلیم کریں ہم متعلقہ سسٹم اور قانون کے تحت فیصلہ کریں گے۔ متعلقہ فارمولا کے مطابق منصوبے کی مدت تکمیل میں جتنی توسیع بنتی ہو گی ضرور دیں گے اور اگر ذمہ دار ٹھیکیدار ہے تو اسکو جرمانہ دینا پڑے گا۔سیمنٹ پلانٹ ہریپور کے لئے زمین کی نشاندہی میں تعاون کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے متعلقہ صوبائی حکام اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو کمپنی کے حکام کے ساتھ پانچ ستمبر کو سائٹ کا دورہ کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے آئل ریفائنری کرک کے لئے زمین کا حصول سات ستمبر تک یقینی بنانے کی ہدایت کی اور عندیہ دیا کہ وہ بہت جلد اس منصوبے کا افتتاح کرنا چاہتے ہیں اس لئے تمام تقاضے تیز رفتاری سے پورے کئے جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے رئیل ا سٹیٹ اور سی پیک سٹی نوشہرہ کے لئے زمین کا حصول بر وقت یقینی بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے متعلقہ صوبائی حکام سے کہاکہ اس مقصد کے لئے یک سالہ کی بنیاد پر ریٹ کا تعین کرکے ایف ڈبلیو او کے حوالے کرے تاکہ وہ مجوزہ لاگت کی ادائیگی کریں اور منصوبوں پر بلا تاخیر کام شروع ہو سکے۔