بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / حرمین شریفین کی خوشبو

حرمین شریفین کی خوشبو

باب سلام سے مسجد نبوی میں داخل ہونے کا مرحلہ انتہائی روح پرور ہوتا ہے۔ رحمت اللعالمینؐ کو سلام عقیدت پیش کرنے کا موقع خوش نصیبوں کو ہی میسر آتاہے اوراس خوش نصیبی پر انسان اللہ تعالیٰ کا شکر بجالاتا ہے کہ اس نے اپنے بنی کے دربار میں حاضری دینے اور عقیدتوں کے پھول نچھاور کرنے کا اسے موقع عطا کیا۔ جذبات اورعقیدتوں سے معمور نمازی مسجد نبوی میں نماز کی ادائیگی کے لئے جب صف بندی کرتے ہیں تو اس عرصے میں آپ محسو س کرتے ہیں کہ کسی نے آپ کے دائیں ہاتھ کو چھو لیا ہے اور آپ کا پورا وجودخوشبو سے مہک اٹھتا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ نمازیوں کو عطر لگانے کی خدمت پر مامور ہیں کیونکہ خوشبو لگانا سنت رسولؐ ہے اور اس سنت کی ادائیگی میں اپنی خدمات پیش کرنے والے اسے اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں۔ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی فضاء ہر وقت خوشبو سے معطر رہتی ہے اور اس پرعطر ماحول میں عجیب قلبی سکون اور طمانیت کا احساس ہوتا ہے ۔ مسجد نبوی میں امام کی طرف سے اقامت کے اعلان سے قبل معمول کے مطابق خوشبو کی برسات ہوتی ہے۔ عطر کا ہدیہ پیش کرنے والے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں کوئی ہاتھوں میں لگاتاہے کوئی داڑھی اور کوئی سر کے بالوں میں لگاتا ہے۔ نماز شروع ہونے تک خوشبو کی تقسیم کی یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور جب اقامت شروع ہوتی ہے تو ہر طرف بھینی بھینی خوشبو پھیل جاتی ہے اور انسان کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ کسی مقدس مقام پر پہنچا ہے۔ عام طور پر نمازیوں کو خوشبو کا عطیہ پیش کرنے میں مدینہ منورہ کے لوگ پیش پیش ہوتے ہیں تاہم غیر مقامی افراد بھی سنت رسول کی ادائیگی میں شریک ہوتے ہیں۔ ان عطریات میں اودھ سب سے مقبول ہے۔

جس کی خوشبو لاجواب ہوتی ہے تاہم دیگر اقسام کی عطریات بھی تقسیم کی جاتی ہیں جن میں عنبر، گلاب اور دیگر مختلف اقسام کی خوشبوئیں شامل ہیں۔ بعض اوقات لڑکوں کی ٹولیاں چاروں طرف پھیل کر نمازیوں پر خوشبو کا سپرے کرتی نظر آتی ہیں جس سے سارا ماحول معطر ہوتا ہے۔ جب امام نماز شروع کرتا ہے تو آگے والی صف سے لے کر درمیان اور پچھلی صفوں تک خوشبو کی مہک پھیل جاتی ہے ہوا کے جھونکے کے ساتھ مختلف عطریات کی خوشبو ہر سو پھیل جاتی ہے اور عجب قسم کا روح پرور احساس ہوتا ہے۔حرمین شریفین میں ہر نماز کیلئے خصوصی اہتمام ہوتا ہے۔ نمازی گھنٹو ں پہلے اسکی تیاری شروع کرتے ہیں۔ غسل کرتے ‘صاف کپڑے پہنتے اور اہتمام کے ساتھ خوشبو لگاتے ہیں اور جب وہ نماز کے اجتماع میں شریک ہوتے ہیں تو یہ منظر روح کو بالیدگی پہنچانے کا باعث ہوتا ہے ۔ حرمین شریفین میں تقسیم ہونے والی عطریات مخصوص برتنوں میں سجائی ہوتی ہیں۔ دل لبھانے والی ان کی خوشبوجب سانسوں سے ٹکراتی ہے تو پورا وجود معطر ہوجاتا ہے۔ خانہ کعبہ کا ماحول ہر وقت ان عطریات سے معطر رہتا ہے۔ مسجد نبوی میں رمضان المبارک میں افطار کا وقت انتہائی خوشگوار ہوتا ہے۔ افطار کرنے والوں کو کھجوروں کے ساتھ مدینے کی خاص سوغات ’’ دکا‘‘ پیش کی جاتی ہے۔ نرم اور گرم دکا بہت مقوی ہونے کے ساتھ انتہائی ذائقہ دار ہوتا ہے۔ جو خصوصی طور پر رمضان میں روزہ داروں کی ضرورت کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔خانہ کعبہ کے اندر کی خوشبو کا احساس ہی کچھ اور ہے۔ کعبہ کے احاطے میں داخل ہونے کے بعد ایک الگ دنیا میں آنے کا احساس ہوتا ہے۔

انسان کو اس کا اپنا وجود بھی معطر لگتا ہے۔ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی میں تقسیم کی جانے والی عطریات عام دکانوں پر بھی نہایت خوبصورت پیکنگ کے ساتھ دستیاب ہیں تاہم وہ کافی مہنگی ہیں اور خوشبو کے شوقین لوگ انہیں اپنے لئے اور دوست احباب کو بطور تحفہ پیش کرنے کے لئے خریدتے ہیں۔ انواع و اقسام کی ان عطریات سے کہیں زیادہ خوشبودار ایک اور عطر بھی ہے۔ زائرین جب احرام باندھ کر حضرت ہاجرہ کی سنت کی پیروی میں سعی کرتے ہیں تو پورا بدن پسینے میں شرابور ہوتا ہے۔سارے کپڑے بھی پسینے میں بھیگ جاتے ہیں لیکن اس پسینے میں بدبو نہیں بلکہ عجیب قسم کی خوشبو ہوتی ہے جو دنیا کی کسی بھی خوشبو سے زیادہ فرحت بخش ہوتی ہے۔حرمین شریفین میں عبادت و بندگی، دعا اور گریہ و زاری کا اپنا ہی مزہ ہے۔ دعامانگنے والے کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے جوبھی مانگے گااسے مل جائے گا ۔ اس کی ہر دعا قبول ہوگی۔ حرمین شریفین میں پھیلی خوشبو بھی اس مقام کے تقدس کا پتہ دیتی ہے اور اس معطر ماحول کو محسوس کرنے کے لئے ایک خاص جذبہ درکار ہے۔