بریکنگ نیوز
Home / کالم / پلیزمیری گائے واپس کردیجئے

پلیزمیری گائے واپس کردیجئے

ایک زمانے میں دیہات میں چوری چکاری کو زیادہ معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا…یاد رہے کہ اس چوری چکاری میں نقد رقم‘ زیور یا گھر کا سامان وغیرہ شامل نہیں ہوتا تھا کہ ایسا صرف پکے اور کمینے چور کرتے تھے… معزز حضرات صرف دوسروں کی گائیں‘ بھینسیں یا بیل وغیرہ ہی کھول کر لے آتے تھے…بچپن میں ہمارے ایک دور پار کے عزیز لاہور آیا کرتے تھے تو بڑے فخر سے اپنی جوانی کے زمانے میں کی جانیوالی چوریوں کا تذکرہ کرتے تھے…ایک بار کہنے لگے کہ مستنصر ان دنوں میں بڑاتگڑا جوان ہوا کرتا تھا‘ ایک روز کسی ذاتی کام کی غرض سے دوسرے گاؤں جا رہا تھا تو سکھوں کے ایک ڈیرے کے قریب سے گزر ہوا…کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں ایک سفید رنگ کی بڑی سوہنی گھوڑی بندھی ہوئی ہے…معلوم ہوا کہ سردار بسنت سنگھ کی ذاتی ملکیت ہے اور وہ اسے کبھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا…رات کے وقت ایک مزارع اس کی رکھوالی کرتا ہے‘ مستنصر میرا دل اس سفید گھوڑی پر آگیا اور میں نے فیصلہ کرلیا کہ چاہے جان چلی جائے یہ گھوڑی ضرور حاصل کرنی ہے…رات کے وقت تو پہرے کی وجہ سے میں اسے کھول نہیں سکتا تھا اس لئے میں کسی اور موقع کی تلاش میں سرداروں کے ڈیرے کے آس پاس تاک میں رہنے لگا…ایک روز کیا دیکھتا ہوں کہ سردار بسنت سنگھ نشے میں دھت گانے گاتا اپنی گھوڑی پر سوار چلا آتا ہے…میں نے کیکر کے ایک جھنڈ میں سے یکدم باہر آکر سردار کو ایک دھکا دے کر گھوڑی پر سے گرایا اور پھر اس پر سوار ہو کراسے اپنے ڈیرے پر لے آیا…سردار بسنت سنگھ نے بعد میں میری بہت منت سماجت کی قتل کی دھمکیاں دیں پر میں نے گھوڑی واپس نہ کی‘ وہ جاٹ ہی کیا جو چوری کا مال واپس کر دے…مجھے یہ کہانی سن کر بہت صدمہ ہوتا کہ ہائیں یہ چاچا صاحب چوری کرتے تھے اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں چنانچہ میں ان سے بحث کرتا کہ چاچا چوری کرنا تو بہت برا کام ہے… آپ نے ایسا کیوں کیا اس پر چاچے کو بہت صدمہ ہوا کہ یہ چھ سات برس کا بچہ مجھے اخلاقیات کا درس دے رہا ہے اور وہ کہتا پتر دیکھ مجھے وہ گھوڑی پسند آگئی تھی اور میں اسے چھین سکتا تھا اورچھین لی تو اس میں بتاؤ برائی کیا ہے یہ تو بہادری ہے…

میرے ڈیرے پر سے بھی ایک بار دو بھینسیں چوری ہوگئی تھیں تو میں نے تو چوروں کو داد دی تھی کہ بھینسیں میری چارپائی کے پایوں سے بندھی ہوئی تھیں اور وہ ایسے جیالے تھے کہ تب بھی کھول کر لے گئے…اس میں کیا برائی ہے… پھر آہستہ آہستہ وہ لوگ تہذیب یافتہ ہوگئے اور وہ ڈنگروں کی چوری سے تائب ہو کر سیاست میں چلے گئے اگرچہ طریقہ واردات وہی رہا…میرے اباجی کے دوست اور رشتے کے چاچا جی محمد رفیق تارڑ کی شرافت اور ایمانداری کا ایک زمانہ معترف ہے اور اس کے باوجود جاٹ ہونے کے ناتے انہیں بھی کچھ نہ کچھ برداشت کرناپڑا… کہاجاتا ہے کہ جب وہ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے تو پاکستانی عدلیہ کے درخشاں نام جسٹس اے آر کارنیلس نے جب ان کا نام ججوں کی فہرست میں دیکھا اور تارڑ کا لاحقہ دیکھا تو مسکرا کر کہنے لگے’’ زمانے کیسے بدلتے ہیں…ایک وقت ہوا کرتا تھا کہ جاٹوں کے نام ایف آئی آر میں درج ہوتے تھے اور آج عدلیہ کی فہرست میں شامل ہیں…‘‘میرے اباجی جوانی کے ایام میں یعنی آج سے یہی کوئی اسی برس پیشتر شاید کسی فوتگی کے سلسلے میں منڈی بہاؤالدین گئے جہاں کی ایک ہمشیرہ بیاہی ہوئی تھی‘ آس پاس کے دیہات کی برادری وہاں جمع تھی اور ان میں ایک بزرگ جونوے برس کے پیٹے میں تھے ان کے بارے میں ابا جی کو اطلاع کی گئی کہ موصوف اپنے زمانے کے نامی گرامی ڈاکو رہ چکے ہیں اور برادری میں انہیں نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا…

اب میرے والدصاحب میں بھی برادری والی کوئی’’ خصلت‘‘ نہ تھی…تعلیم یافتہ ہونے کے سبب وہ اخلاقی اقدار کو ہی انسانیت کی معراج سمجھتے تھے چنانچہ انہیں بھی اپنے اس بزرگ کے کارناموں سے دکھ ہوا…چونکہ بزرگ بہت بڑے تھے اور والد صاحب بہت چھوٹے تھے تو انہوں نے نہایت لطیف پیرائے میں مسکرا کر ان سے پوچھا کہ چاچا…آپ زندگی بھر ایسے کارناموں میں مصروف رہے تو کبھی کچھ آخرت کی بھی فکر کی ہے…زندگی کا اخیر ہے تو بخشش کا بھی کچھ سامان کیا ہے یا نہیں؟اس پر بزرگ نے نہایت گہرے یقین سے کہا’’ ہاں پتر رحمت مجھے معلوم ہے کہ روز آخرت میں نے بخشا جانا ہے اس میں تو مجھے کچھ شک شبہ نہیں‘‘والد صاحب اس بیان پر بہت حیران ہوئے کہ بابا جی تو اپنے تئیں بخشے بخشائے بیٹھے ہیں تو انہوں نے کہا’’ پر آپ کو کیسے یقین ہے کہ آپ بخشے جائینگے‘‘ تو بزرگ نے سرہلایا اورمسکرائے’’ دیکھو پتر ایک بار مجھے ایک گائے پسند آگئی اور میں نے جب موقع ملا اسے کھول لیا اور جب میں اسے ہانکتا ہوا گاؤں سے باہر لے آیا تو پیچھے سے ایک عورت روتی پیٹتی دہائی دیتی بھاگتی ہوئی آئی اورمیرا بازو پکڑ کر میری منتیں کرنے لگی کہ وے بھراوا…میرے چھوٹے چھوٹے یتیم بچے ہیں‘ میرا کوئی آسرا نہیں…خاوند نے کچھ پیچھے نہیں چھوڑا‘ صرف یہ ایک گائے ہے میں اس کا دودھ فروخت کرکے بچوں کا پیٹ پالتی ہوں‘ تم اسے لے جاؤ گے تو وہ بھوکے مر جائینگے…مہربانی کرو اور ہماری گائے واپس کردو…میں نے اسے دھتکار دیا کہ جاجا یہ گائے تیری کیسے ہے اب تو یہ میری ہے میں اسے گاؤں کی حد سے باہر لے آیا ہوں تو یہ میری ملکیت ہے‘ جا دفع ہو…

پر وہ ایسی پیچھے پڑی کہ نہیں نہیں بھائی مجھ پر یہ ظلم نہ کرو‘ بے شک اب یہ گائے تمہاری ہے پر میرے بچوں پر رحم کرو اور اسے واپس کردو…چنانچہ پتر رحمت خان اس کی آہ وزاری سے میرا دل پگھل گیا اور میں نے اپنی گائے اسے واپس کر دی…اب تم ہی بتاؤ کہ روز آخرت مجھے اس نیکی کا اجر نہیں ملے گا؟…ملے گاناں…تو میں نے اپنی بخشش کا بندوبست کرلیا ہے…قارئین میں نے ان کارناموں کے جو قصے بیان کئے ہیں تو بے وجہ بیان نہیں کئے…دراصل میری گائے بھی چوری ہوگئی ہے اور میری تمام تر عزت نفس اور کسی حد تک رزق کا انحصار بھی اس گائے پر تھا جو چوری ہوگئی ہے…یہ میرے آئینی حقوق‘ عدلیہ اور میڈیا کی گائے ہے…اور میں منت سماجت کرتا ہوں‘ آہ و زاری کرتا ہوں کہ پلیز میری گائے واپس کر دیں‘ میں مانتا ہوں کہ یہ گائے اب آپ کی ہوگئی ہے لیکن مجھ پر ترس کھایئے اسے لوٹا دیجئے…دیکھیں اگر آپ میری یہ گائے مجھے واپس کر دیں گے تو یقیناًاللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر دے گا اور آپ بخشے جائینگے…میرے لئے نہ سہی روز حشر اپنی بخشش کیلئے ہی یہ گائے مجھے واپس کر دیجئے۔