بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / ترقی معکوس

ترقی معکوس


یہ کس قدر مقام افسوس ہے کہ ہم ترقی کے سفر میں مسلسل اورتیزی سے بڑھتے جارہے ہیں مگر پیچھے کی طرف ،اسی کو ترقی معکوس کہتے ہیں اور اس ترقی میں ہم دیگر تمام اقوام سے کہیں آگے ہیں تمام شعبہ جات میں ہم مسلسل پسماندگی کاشکارہوتے جا رہے ہیں اگر آپ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں پرنظر دوڑائیں اور اپنے اردگرد موجودبزرگوں سے بات کریں تو حیر ت ہوتی ہے کہ صرف شہر ی امور میں ہم کس قدر آگے تھے میرے تایا محترم اس حوالہ سے راوی ہیں کہ پچاس کی دہائی میں جب ہم لوگ اندرون شہر میں آبادتھے تو ہمارا ایک پرنالہ جو گلی کی طرف تھا ا س میں کہیں چھوٹاسا سوراخ تھا جس سے تھوڑاتھوڑاپانی گلی میں پھیل جاتاتھا اس پر مجھے میونسپل مجسٹریٹ کی طرف سے سمن موصول ہوئے اورپھرمجھے اس کی عدالت میں کئی پیشیاں بھگتنی پڑیں گویا آج سے ساٹھ برس پہلے تک ہم اس معاملہ میں کس حد تک مہذب تھے مگر آج ہمارے اردگردکس طریقے سے شہری قوانین کاگلہ گھونٹا جا رہاہے وہ ہم سب کے سامنے ہے گلی اور سڑک پر پانی بہاکرلوگوں کو اذیت میں مبتلاء کرنے کو اب کوئی عار نہیں سمجھاجاتا سرکاری سڑک کو باپ دادا کی جاگیر سمجھاجاتاہے گندگی پھیلانے کے لئے اس سے بہتر جگہ کوئی اور نہیں ہوسکتی روز جب دفترکی طرف آتے ہوئے سرکلر روڈ پر سرد چاہ گیٹ کے پاس پہنچتاہوں تو آس پاس کے لوگوں نے ساری گندگی سڑک کے بیچ سنٹر میڈیاپرجمع کی ہوتی ہے اورصفائی والوں کے آنے تک سڑک اس غلاظت سے بھرچکی ہوتی ہے اس کے بجائے اگر یہی گندگی کسی سائیڈ پررکھی جائے تو کبھی یہ حالت نہ ہو مگر کیاکریں کہ شہری قوانین کے معاملہ میں ہم جہالت کی شاہراہ پر تیزی سے گامزن ہیں ۔

ان دنوں رواجنامہ سوات زیرمطالعہ ہے اس کو آپ والی سوات کے دورکاریاستی آئین کہہ سکتے ہیں جس میں تمام اہم امورکے حوالہ سے رواج ،روایت اور فیصلو ں کااندراج ہے جن کوپھرریاستی قوانین کی حیثیت حاصل ہوچکی تھی اس میں ایک جگہ سڑک کی صفائی کے بارے میں کہاگیاہے یہ ذہن میں رہے کہ یہ آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے کی بات ہورہی ہے سٹرک کی صفائی کے بارے میں کہاگیاہے کہ کوڑے کرکٹ کاڈھیر ایسی جگہ ہوناچاہئے کہ سڑک سے نظر نہ آسکے ‘سڑک کی طرف کوئی بھی مال مویشیوں کا گوبر نہیں ڈالے گا چونکہ پہلی بار پکی سڑکیں بن رہی تھیں اسلئے کہاگیاتھاکہ جوبھی پکی سڑک بنے گی اس کے کنارے کوئی شخص کوڑے کرکٹ کاڈھیر ہرگز جمع نہ کرے اورپہلے سے موجودڈھیر کو ہٹانے کے لئے تین مہینے کی مہلت دی جاتی ہے یہ ریاست سوات کازمانہ تھا ملک ابھی نیانیاآزاد ہوا تھا پکی سڑکیں بننے لگی تھیں مگر اس زمانے میں کس قدرمہذبانہ قوانین کے نفاذکو ممکن بناکردکھایاگیاتھا درحقیقت بہت سے غیرملکی سیاح سوات کاسفرکرتے تھے اب والی سوات نے سڑک کنارے گندگی کے ڈھیر لگانے کو جرم قراردیکر سڑکوں کی صفائی ممکن بنانے کے لئے جوکوشش کی تھی اس کامقصد یہی تھاکہ غیر ملکی سیاح آئیں تو ان کو یہ تاثر نہ ملے کہ و ہ تہذیب وتمدن سے کوسوں دور کسی اورہی معامشرے میں آگئے ہیں اوروہ سوات اورپاکستان کے حوالہ سے کوئی بھی منفی تاثر اپنے ساتھ نہ لے کرجائیں پھروالی سوات کے دورمیں ان تمام قوانین پر عملدرآمد بھی سختی کے ساتھ ہوتارہا ہم لو گ آج بھی سوات جاتے ہیں۔

افسوس ہوتاہے کہ شہری قوانین کے معاملہ میں بھی ہم کس قدر تنزلی کاشکارہوچکے ہیں اب تو گھردکان اورکارخانہ کی گندگی سڑک کے کنارے ڈھیرکرنے کو ہی حق سمجھاجاتاہے اور حیرت کی بات ہے کہ اس پر کو ئی بازپرس ہی نہیں ہوتی گلی محلہ اورسڑک کو کسی بھی شہر میں کوئی بھی جب بھی چاہے بدترین انداز میں گندگی سے بھرسکتاہے اس حرکت کو آج ہماری سرکاربھی جرم تصورنہیں کرتی رہ گئے ہم لو گ تو یہ اپناحق سمجھتے ہیں اپنے گھرکی گندگی کو گلی محلہ اورسڑک کی زینت بنائیں اور اگر کو غلطی سے روکنے ٹوکنے کی کوشش کرے تو مرنے مارنے پر اترآئیں اسکے باوجود اگرآج ہمارا میڈیا ‘سیاسی جماعتیں ‘سول سوسائٹی اور حکمران طبقہ یہ اصرار کرے کہ ہم نے پچاس ساٹھ سال میں مثالی ترقی کی ہے تو پھردل میںآتاہے کہ یاتو انسان اپنا سر دیوار کیساتھ مارے یا سڑکوں اورگلیوں کی گندگی ترقی کے دعویداروں کے گھروں کے سامنے ڈھیر کرے کہ جناب والا ہم تو پچاس اورساٹھ کی دہائی سے بھی کئی عشرے پیچھے جاچکے ہیں اور اگر ترقی معکوس کی یہی رفتاررہی تو کچھ ہی عرصہ میں سرزمین بے آئین کہلوانے والے دور میں دوبارہ داخل ہوسکتے ہیں ۔