بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / امریکہ سے تصادم

امریکہ سے تصادم


تندو تیز بیانات کے تبادلے کے بعد اب پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے کیخلاف عملی اقدامات کرنے کے منطقے میں داخل ہو چکے ہیں اکیس اگست کو صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں کی گئی تقریر میں پاکستان کے لئے جو دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیاتھا اس پر اسلام آباد میں شدید رد عمل ظاہر کیا گیا ہے قومی اسمبلی‘ سینٹ‘ قومی سلامتی کمیٹی‘ وزارت خارجہ‘ وزیر اعظم‘ عسکری قیادت اور میڈیا نے جس غم و غصے کا اظہار کیا ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ جلد یا بدیر یہ محاذ آرائی ایک تصادم کی صورت اختیار کر لے گی ان حالات میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ستر برس تک شیرو شکر رہنے والے دو پرانے اتحادیوں کے پاس ایک دوسرے کیخلاف کیا آپشنز موجود ہیں ایک سپر پاور کل کلاں کی فرنٹ لائن سٹیٹ کا بازو مروڑنے میں کس حد تک جا سکتی ہے اور افغانستان کے میدان جنگ کی دہلیز پر کھڑا ہوا مسلمان جوہری ملک اپنے ہمدم دیرینہ کو زچ کرنے کیلئے کون سے حربے استعمال کر سکتا ہے نظرتو یہی آتا ہے کہ بڑا اتحادی فوجی اور مالی امداد بند کر دیگا اور اسکے جواب میں دوسرا فریق اپنی سرحدوں سے سامان حرب و ضرب کی ترسیل روک دیگا افغانستان کی سرزمین پر اڑتیس برس تک ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر خونریزی کرنے والے دو نان نیٹو اتحادی جب تلواریں سونت کر ایک دوسرے کے سامنے آئیں گے تو سلطنتوں کے اس پرانے قبرستان کا نیا نقشہ کیسا ہو گا ‘ گھمسان کا رن پڑیگا یا کمزور حریف باہر سے آئے ہوئے طاقتور دشمن کے تھک ہار کر نڈھال ہو جانے کا انتظار کریگا ویتنامیوں نے اک شبھ گڑھی کی آس بھی لگائی تھی اور خم ٹھونک کر مقابلہ بھی کیا تھا وہ جانتے تھے کہ جنگ انکے گلی کوچوں میں ہو رہی ہے ہمارے نئے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ اس جنگ کو کسی بھی صورت اپنی سرحدوں کے اندر آنے نہ دیں گے انکے صرف اس ایک بیان سے پتہ چلتا ہے کہ معاملات کس قدر گھمبیر ہیں جس جنگ میں ستر ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہوں ور ایک سو تئیس ارب ڈالرکے نقصان کا حساب کتاب پیش کیا گیاہو اب اسکے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے اپنی سرحدوں کے اندر آنے نہ دیا جائیگا ۔

پہلے یہ بحث ہوتی رہی کہ یہ جنگ اپنی بھی ہے یا نہیں اب یہ ہوشربا انکشاف کیا گیا ہے یہ سرحد پار ہو رہی تھی اور اسے وہیں رکھا جائیگا نئے وزیر اعظم نے نئی بات ہی کرنا تھی انہیں یہ بات سمجھانے میں دل کا زیاں ہو جائیگا کہ حضور یہ جنگ تو ملک کے طول و عرض میں سولہ برس سے لڑی جا رہی ہے آپ ہمیں اب یہ خوشخبری سنا رہے ہیں کہ یہ پرائی جنگ کسی دوسرے ملک میں ہو رہی ہے نظر یہ آرہا ہے کہ امریکہ میں نت نئے صدر اور پاکستان میں سیدھے سادے وزیر اعظم آتے جاتے رہیں گے اور جنگ جاری رہے گی اس آگ میں جھلسنے والے افغانوں کی چوتھی نسل گولہ بارود اور توپ و تفنگ کی گھن گرج میں اپنی شکستہ سانسیں پوری کر کے کرائے کی بندوق اگلی نسل کے حوالے کر دیگی اور دنیا اس قتل و غارت کا تماشاکرتی رہے گی امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے پر دشنام طرازی کرتے رہیں گے افغانستان میں نت نئی پٹھو حکومتیں بنتی رہیں گی اور بھارت پورے خطے کو تتربتر کرنے میں ایک نئی فرنٹ لائن سٹیٹ کا کرداراداکرتا رہیگا اس دوران پرانا کولیشن پارٹنر گرتے پڑتے اپنا دفاع کرنیکی کوشش کریگا اور کیل کانٹے سے لیس عفریت اپنے ترکش کے زہریلے تیر کمزور دشمنوں پر چلاتا رہیگا افغانستان کی شکار گاہ میں قدم سے قدم ملا کر چلنے والے دو پرانے شکاریوں کے باہمی تکرارو تصادم کے اس نئے منظر نامے میں افسوسناک بات یہ ہے کہ مصاحب کا کردار ادا کرنے والا فریق بالکل بے خبر ہے کہ اسکا پرانا دوست اور نیا دشمن اسے سبق سکھانے کیلئے کتنا بے چین ہے ‘ اس نے اس نئی جنگ کی کتنی تیاری کر رکھی ہے اور اسکے پاس جدید ترین جنگی سازوسامان کا کتنا ذخیرہ موجود ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت ابھی شروع ہوئی ہے یہ جب رفتہ رفتہ ایام شباب کی طرف بڑھے گی تو شام‘ شمالی کوریا ‘ ایران اور پاکستان کو پتہ چلے گا کہ اسکے دانت کتنے نوکیلے اور زہریلے ہیں ڈونلد ٹرمپ کے جرنیل جس میدان جنگ کے نقشے پر آٹھ ماہ تک سوچ بچار کرتے رہے اسے پرانے نان نیٹو اتحادی کے نامی گرامی ماہرین ایک لاابالی اور ناتجربہ کار صدر کی ٹویٹ سمجھ کر دل کا غبار نکال رہے ہیں۔

پانی سر سے گزر جانے کے بعد اب وزیراعظم سفیروں سے مشاورت کرینگے اور خارجی معاملات سے مکمل طور پربے خبر نئے وزیر خارجہ اب دوست ممالک کو جنگ دہشت گردی میں اپنی قربانیوں کا حساب کتاب اور نئی حکمت عملی کی گھن گرج سنانے جائیں گے سامنے کی بات یہی ہے کہ جس طرح تن من دھن وار کر امریکہ سے دوستی کی گئی اب اسی عالم بے خبری میں اس سے دشمنی بھی کی جائیگی اس اندرونی خلفشار کی فضاء میں یہ جاننے کی کسی کو فرصت نہیں کہ واشنگٹن نے اپنے پرانے جنگجو شراکت دار کے خلاف جس قہرو غضب کو چھپا رکھا ہے اب وہ اسے اگلنے کیلئے بیتاب ہے اور اسکی عسکری قیادت نے اسکے لئے ایک روڈ میپ بھی تیار کیا ہوا ہے امریکہ میں بھارت‘ اسرائیل اور افغانستان نے پاکستان کیخلاف عسکری ماہرین اور میڈیائی دانشوروں کی جو فوج ظفر موج تیار کی ہوئی ہے اسکا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر اسکی صرف ایک جھلک تھی پردے کے پیچھے جو کچھ ہو رہا ہے اسکی منظر کشی زلمے خلیل زاد نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کر دی ہے یہ افغانی امریکن جارج بش کی صدارت میں 2003 سے 2005 تک افغانستان میں اور 2005سے 2007تک عراق میں امریکی سفیر رہے تھے ری پبلکن پارٹی سے طویل تعلق اور وفاداری رکھنے والے یہ سابق سفارتکار امریکہ میں حسین حقانی کے بعد پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے دشمن ہونے کی شہرت رکھتے ہیں انکے نئے مضمون کا عنوان ہے Why Trump Got Tough with Pakistan اس تحریر کی ابتدا میں صدر ٹرمپ کی مدح سرائی کے بعد پاکستان کے خلاف اپنے بغض و عناد کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں The president must be ready for Pakistan to resist and test his resolve یعنی صدر کو اس بات کیلئے تیار رہنا چاہئے کہ پاکستان انکے عزم و ارادے کی مزاحمت اور مقابلہ کریگا اسکی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ یہ کام افغانستان میں امریکی افواج اور اثاثوں پر طالبان کے حملوں کی صورت میں ہو سکتا ہے‘ پاکستان کے دفاعی حکمت کار یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ امریکہ ان پر انحصار کئے بغیر یہ جنگ نہیں جیت سکتا ‘‘زلمے خلیل زاد نے پاکستان کیخلاف ممکنہ اقدامات کی فہرست بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ واشنگٹن کو فوری طور پر پاکستان کی تمام مالی اور فوجی امداد بند کر دینی چاہئے‘ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کو اسلام آباد سے اقتصادی تعاون ختم کر دینا چاہئے ‘ اس دشمن ملک کو فوراٗ دہشت گردوں کے کفیل (sponsor) ملک کی فہرست میں شامل کر دیا جائے اور پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دینے چاہئیں‘‘خلیل زاد کی جس تجویز کو پاکستان میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جائیگا وہ یہ ہے کہ ایسے تمام پاکستا نی سول اور ملٹری افسروں اور سیاستدانوں کے امریکی بینک اکاؤنٹس اور اثاثوں کو منجمد کر دینا چاہئے جو ایک طرف امریکہ سے مراعات حاصل کرتے رہے اور دوسری طرف عسکریت پسندوں کی پشت پناہی کرتے رہے یہ دو چار حربے اس روڈ میپ کی ایک جھلک ہیں جو خلیل زاد نے اپنے مضمون میں پیش کی ہے امریکہ اسکے علاوہ جو کچھ کر سکتا ہے اور پاکستان ان حملوں کے دفاع کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے اسلام آباد کے دفاعی حکمت کاروں کو ان دستیاب آپشنز پر گہری سوچ بچار کے بعد ایک خطرناک اور بپھرے ہوئے گھر کے بھیدی کیخلاف جنگ کا آغاز کرنا چاہئے۔