بریکنگ نیوز
Home / کالم / مردم شماری رپورٹ

مردم شماری رپورٹ


کچھ عرصے سے سیاسی لوگوں کے بیانات سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کراچی او ر سندھ شاید پاکستان سے کچھ دور کے حصے ہیں۔یوں تو سارے صوبے پنجاب کو مطعون کرتے ہی رہتے ہیں مگر اس مردم شماری کے بعد کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرکز مسلسل سندھ کیساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہا ہے۔یہ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ ہم اپنی کو تاہیوں کو دوسرے کے سر ڈال دیں سندھ میں کیونکہ حکومت پی پی پی کی ہے اور جو حال اس حکومت نے کراچی کا کیا ہوا ہے اس میں ایک فیصد حصہ بھی مرکز کا نہیں ہے۔ کراچی میں جو سڑکوں کا حال ہے اور جو صفائی کی صورتحال ہے وہ ناگفتہ بہ ہی کہلائی جا سکتی ہے ۔ اس لئے کہ پورا کراچی کچرا کنڈی کا منظر پیش کر رہا ہے۔اس میں مرکزی حکومت کا شاید کوئی لینا دینا نہیں ہے اسلئے کہ کراچی سندھ کا حصہ ہی نہیں ہے۔کہنے کو تو یہ سندھ کا دارالخلافہ ہے مگر کیونکہ یہاں سے پی پی پی کو کم سیٹیں ملی ہیں اور کراچی میں بظاہر ایم کیو ایم کی حکومت ہے مگر شہری حکومت صوبائی حکومت کے بغیر صفر ہوتی ہے اس لئے کہ فنڈز کو مہیا کرنا بہر حال صوبائی حکومت کا مسئلہ ہے اور پی پی پی حکومت کسی بھی طرح اس علاقے کو فنڈز مہیا نہیں کرتی کہ جہاں سے اسکا فائدہ نہ ہو۔ یہی سبب ہے کہ کراچی کی شہری حکومت کیساتھ اُس کا سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے۔

اسمبلی میں ایم کیو ایم کے ممبران چیختے رہتے ہیں اور حکومتی اراکین ان کو مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں ادھر جب سے مردم شماری کے نتائج سامنے آئے ہیں سندھ کی سیاسی پارٹیاں مرکز کو نشانے پر لئے ہوئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے لیڈر اس بات پر ناخوش ہیں کہ کراچی کی آبادی کو کم کر کے دکھایا گیا ہے۔ کراچی کی آبادی تین کروڑ سے بھی متجاوز ہے مگر مردم شماری میں اسے ایک کروڑ اور کچھ لاکھ بتا یا گیا ہے۔اس کا جواب ایک تو ڈائریکٹر مردم شماری نے یہ دیا ہے کہ جو حدود کراچی کی انہیں سرکاری طور پر دی گئی ہیں انہوں نے اسے ہی کراچی شہر میں شامل کیا ہے ۔ دوسرے فاروق ستارصاحب کو شاید معلوم نہیں کہ ان کی جماعت نے پچھلے کئی سالوں سے جو سلوک کراچی کیساتھ کیا ہے اسکے نتائج کیا ہونے تھے۔کراچی کو بد قسمتی سے بغیر کسی پلاننگ کے انڈسٹریل حب بنا دیا گیا ہے۔ملک کی نوے فی صد انڈسٹری اس شہر میں لگا دی گئی ہے جس نے ملک بھر کے لوگوں کو اس شہر کی طرف مہاجرت پر مجبور کیا ہے اور جب ایم کیو ایم نے اس شہر کو خالص مہاجروں کا شہر بنانے کی کوشش کی تو بہت سے لوگوں کو جو ملک کے دوسرے حصوں سے اس شہر میں آ ئے تھے ۔

انہیں واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا‘ اس کے بعد بھتہ نہ دینے والے کار خانوں میں بجلی کے شارٹ سرکٹوں نے اپنا کام دکھایاجس میں کارخانوں کیساتھ مزدوروں کو بھی آتش زدہ ہونا پڑا اس عمل سے کارخانوں کے ساتھ ساتھ ان میں کام کرنے والوں کو بھی کراچی چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔جس کی وجہ سے کراچی کی ایک بڑی آبادی کولندن‘ جنوبی افریقہ اور دیگر ملکوں میں اپنے ڈیرے جمانے پڑے۔ اس کے بعد یہ کہنا کہ کراچی کو تین کروڑ سے زیا دہ ہونا چاہئے تھا کسی بھی طرح ممکن نہیں۔ اس کے علاوہ کراچی اور سندھ کے دوسرے علاقوں میں مردم شماری میں حصہ لینے والا عملہ پنجاب سے درآمد نہیں کیا گیا تھا ۔ ہر صوبے میں اسی کے ملازمین نے یہ مردم شماری کا کام کیا ہے اس لئے اس میں کمی بیشی کا ذمہ دار کسی بھی طرح سے مرکز کو نہیں گردانا جا سکتا ۔ سندھ سے جو سیاسی جماعتیں یہ آواز اُٹھا رہی ہیں وہ پاکستان کی کوئی خد مت نہیں کر رہیں۔ویسے بھی سندھ سے ہمیشہ پنجاب کے خلاف آوازیں اٹھتی ہیں جو کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں ہیں اگر مرکز میں ملازمین کا شمار کیا جائے تو سندھ کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔اسلئے سندھ کا کسی بھی طرح سے مرکز کو مطعون کرنانامناسب ہے اس لئے کہ فیصلہ سازی میں سب سے بڑا حصہ اسی صوبے کا ہے۔ پنجاب کو اگر کچھ مل رہا ہے تو وہ اس کی آبادی کی نسبت سے دیکھا جائے تو بہت کم ہے مگر پنجاب سے کبھی بھی مرکز گریز آوازنہیں اٹھی۔کسی کو ہڑتالی سیاست کی کسی بھی طرح اجازت نہیں ہونی چاہئے اس لئے کہ کراچی کی آبادی میں کمی کا سہرا انہی سیاسی جماعتوں کے سر ہے۔