بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / روہنگین مسلمان پھرزیرعتاب

روہنگین مسلمان پھرزیرعتاب


میانمار (برما) میں روہنگین مسلم آبادی پر سرکاری سکیورٹی فورسز اور مقامی برمی افراد کے مشترکہ کریک ڈاؤن میں 2600 سے زائدگھروں کو آگ لگا دی گئی 1000سے زائد کا قتل عام اور ہزاروں کو زخمی کر دیا گیا جبکہ ان پرتشدد واقعات کے بعد 73ہزار روہنگین مسلمان اپنی جانیں عزت و آبرو بچانے کیلئے اپنے گھر بار چھوڑکر بنگلہ دیش کی جانب ہجرت پر مجبور ہو گئے اور ہجرتوں کا یہ سلسلہ جاری ہے، یہ کاروائیاں میانمار پیرا ملٹری فورسز کی ایک چوکی پر25اگست کو ہونیوالے مبینہ دہشت گرد حملے کے بعد کی گئیں جس میں 11اہلکار جاں بحق ہوئے تھے ‘میانمار حکام کا الزام ہے کہ’’ حملہ روہنگین شدت پسند گروہ کی جانب سے کیا گیاتھاجس کے بعد سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کیا‘‘سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے نام پر ہونے والی مسلم کش کاروائیوں کے نتیجے میں جنم لینے وا لی صورتحال پراگرچہ پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک ‘یورپی ممالک بشمول برطانیہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے صدائے احتجاج بلند ہوئی ہے اور میانمار کی قیادت بالخصوص آنگ سین سوکی کو(جو امن کیلئے اپنی خدمات پر نوبل انعام بھی حاصل کر چکی ہیں) تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے لیکن دنیا بھر میں مسلمانوں کے اس سب سے مظلوم اور پسے ہوئے گروہ کے مصائب و آلام کم ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ،تاریخی حوالوں پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ روہنگین مسلمان جنکی موجودہ آبادی 11لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے کئی صدیوں سے بتدریج برمامیں آباد ہوتے آئے ہیں پھر بھی میانمار حکومت انھیں مملکت کے ایک اقلیتی گروہ تک کی حیثیت دینے سے انکاری رہی اور انھیں بنگلہ دیشی مہاجرین قرار دے کر بنیادی انسانی حقوق تک سے محروم رکھا جاتارہا ۔

یوں روہنگین مسلمانوں کوکبھی بھی وہ قانونی تحفظ حاصل نہ ہوسکا جو کسی مملکت کے باشندوں کو حاصل ہوتا ہے ۔ حکومتی سطح پر روا رکھا جانیوالا غیر انسانی سلوک روہنگین مسلمانوں کی نسل کشی کیلئے میانمار کی اسلام دشمن اکثریت کے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا رہا اور یہ اکثریت وقفوں وقفوں سے میانمار کے ان مسلمانوں پر حملہ آور ہوتی رہی۔ پچھلے پانچ چھ سال کے دوران بالخصوص 2012ء سے 2015ء کے دوران روہنگین مسلمانوں کو جس بے دردی سے قتل عام کا نشانہ بنایا گیا اور انکی آبادیوں کو نذر آتش کیا گیا اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں خال خال ہی ملتی ہے بعض تجزیہ کار اس قتل عام کی مثال کے طور پر ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی کے واقعات کو پیش کرتے ہیں جس سے میانمار کے مسلمانوں کیساتھ ہونیوالے سلوک کی سنگینی و سفاکی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ مختصر اََیہ کہ مذکورہ عرصے کے دوران میانمار کی حدود میں مسلمان دشمنوں نے روہنگین مسلمانوں کوصفحہ ہستی سے مٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اسوقت بھی اگر عالمی طاقتیں اور مسلمان ممالک یک زبان و ہم آواز ہو کر میانمار پر دباؤ ڈالتے تو میانمارکی حدود میں مو جود روہنگینز کی داد رسی کچھ زیادہ مشکل نہیں تھی لیکن مسئلے کے حل کیلئے عالمی برادری کا حقیقی کردار نظر نہیں آیا ہاں یہ ضرور ہے کہ میڈیا کی وساطت سے ظلم و استبدادکے لرزہ خیز اور انسانیت سوز واقعات سامنے آنے پر عالمی برادری کے احتجاج کے نتیجے میں میانمار حکومت نے بچے کچھے روہنگینز کوبعض مخصوص علاقوں میں قائم کیمپوں تک محدود کر دیا تاہم ان کیمپوں میں بھی انھیں خوراک ‘ پانی اور ادویات جیسی بنیادی ضروریات کیلئے ترسایا جا تا رہا،اس دوران میانمار سے جانیں بچا کر سمندرکے راستے بچ نکلنے والے مسلمانوں کو کھلے سمندر میں ڈولتی لانچوں اور کشتیوں پر جس بدترین انداز میں زندگی کے دن گزارنے پڑے اور ایک بنگلہ دیش کو چھوڑ کرانڈونیشیا و ملیشیاء سمیت میانمار کے قریب واقع کئی دیگرممالک نے ان مہاجرین سے جو بے اعتناعی برتی اس کا احوال بھی تصاویر ‘ ویڈیوز ‘دستاویزی فلموں اور میڈیا رپورٹس کی شکل میں آج بھی ریکارڈ پر ہے ‘لانچوں اور کشتیوں میں بھرے لاغر جسموں اور حسرت و یاس سے لبریز آنکھوں کے مناظر جو ان ایام میں اخبارات‘ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک پہنچتے رہے ذہنوں میں پھر سے تازہ ہو گئے ہیں‘ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روہنگین مسلمانوں کیخلاف میانمارکی سکیورٹی فورسزکی حالیہ کاروائیاں حسب سابق ایک انسانی المیے کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہیں،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ او آئی سی ‘اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیمیں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں میانمار حکومت پر وہ دباؤ ڈالیں جو اسے گھٹنے ٹیکنے ، روہنگین مسلمانوں پر ڈھائے گئے تازہ مظالم کی تحقیقات کرنے اور ان مظالم کے ذمہ داروں کوسزائیں دینے پر مجبور کر سکے‘اسلامی ممالک کو اس حوالے سے ہراول دستے کا کر دار ادا کرنا ہو گا اور یہ کردار صرف بیانات جاری کرنے تک محدود رہنے سے ادا ہونے والا نہیں۔