بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / امریکہ کی نئی افغان پالیسی

امریکہ کی نئی افغان پالیسی


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے شاید پہلے صدر ہیں جو اپنی انتخابی مہم سے لیکر صدر منتخب ہونے اور عہدہ صدارت سنبھال کر اپنی پہلی صدارتی تقریر سے لیکر حالیہ افغان پالیسی بیان کرنے تک مسلسل تنقید کی ضد میں ہیں انکے متعلق خود امریکی میڈیا اور عوام میں جو ردعمل اور احساس پایاجاتا ہے اس کو دیکھ کر یہ باور کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی ریاست کے منتخب صدر ہیں جو پوری دنیا کی قیادت کا نہ صرف علمبردار ہے بلکہ پوری دنیاپر غلبے کیلئے اس نے پچھلی نصف صدی سے جو اودھم مچا رکھی ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ امریکہ کی اسی ہوس نے اسے اگر ایک جانب عراق ‘ شام ‘لیبیااور یمن کے محاذوں پر سرگرم عمل رکھا ہوا ہے تو دوسری جانب مشرق بعید میں پکنے والے لاوے کے پیچھے بھی امریکہ کی داداگیری کی یہی سوچ کارفرما ہے جبکہ تیسری جانب وہ ایران‘ روس اور چین کے اس خطے میں بڑھتے ہوئے اثرات کو زائل کرنے کیلئے القاعدہ اور طالبان کے خاتمے کا بہانہ بناتے ہوئے پچھلے سولہ سال میں نیٹو کے 28 ممالک کی کیل کانٹے سے لیس ڈیڑھ لاکھ مسلح افواج کی تمام تر قہرسامانیوں کے باوجود اب تک آدھے افغانستان پر بھی اپنا قبضہ مستحکم نہیں کر سکا ہے۔ امریکہ کی افغانستان میں حالیہ مہم جوئی دراصل سوویت یونین کے خلاف آپریشن سائیکلون کے تحت چلائی جانیوالی بین الاقوامی مہم کا تسلسل ہے جس کے ذریعے امریکہ جنوب مغربی اور وسط ایشیاء کے اس انتہائی اہم جیو سٹریٹجک خطے اور یہاں کے بے پناہ قدرتی وسائل پر تصرف حاصل کرنا ہے ۔

اس ساری صورتحال میں چونکہ پاکستان پچھلے چالیس سال سے ایک انتہائی اہم ایکٹر اور امریکی اتحادی کا کردار ادا کرتا رہاہے اسلئے امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان کو یہ کردار موجود ہ وقت کیساتھ ساتھ آنیوالے دنوں میں بھی اسی طرح ادا کرتے رہنا چاہئے جس طرح وہ یہ کردار سرد جنگ کے زمانے میں ادا کرتا رہا ہے۔ امریکہ کی نئی افغان پالیسی جسے جنوبی ایشیائی پالیسی کے نئے لیبل کے ساتھ لانچ کیا گیا ہے دراصل ان ہی پالیسیوں کا نیا چربہ ہے جو پہلے سوویت یونین اور بعد ازاں طالبان حکومت کے خاتمے کیلئے پیش کی جاتی رہی ہیں۔امریکہ افغان سرزمین کو ستر اور اسی کی دہائیوں میں کمیونزم کے خاتمے اور اکیسویں صدی کا پہلااور دوسرا عشرہ انتہاپسندی اوردہشت گردی کے خاتمے کے عنوانا ت کے تحت اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتا رہا ہے جبکہ یہی امریکہ نوے کی دہائی میں مطلب نکل جانے کے بعد افغانستان اور اس خطے کو خانہ جنگی اور افراتفری کی آگ میں جھونک کر یوں بھاگ گیا تھا گویا یہاں سرے سے اس کا کبھی کوئی مفاد رہا ہی نہیں تھا۔ امریکہ کی اسی پالیسی کے باعث افغانستان پچھلی چار دہائیوں سے آگ اور خون کامرکز بنا ہوا ہے۔ افغانستان میں پچھلے سولہ سال کے دوران ڈیڑھ لاکھ اتحادی افواج کی موجودگی اور ڈھائی ہزار امریکی افواج کی ہلاکتوں اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود چونکہ امریکہ افغانستان میں نہ تو طالبان کو شکست دے سکا ہے اور نہ ہی خطے میں چین ‘روس اور ایران کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روک سکاہے لہٰذا امریکی اسٹیبلشمنٹ ڈونلڈٹرمپ کو بطورمہرہ استعمال کرتے ہوئے یہ کام نئی افغان پالیسی کی صورت میں پاکستان کو دباؤ میں لاکر اور اسے دھمکیاں دیکر حا صل کرنا چاہتا ہے ۔

طاقت کے نشے میں بد مست ہر قوم اور ملک کی طرح امریکہ کا بھی یہ خیال تھا کہ پاکستان جیسا چھوٹا اور بظاہر کمزور ملک ماضی کے تجربے کی روشنی میں امریکی باند ی بننے میں دیر نہیں لگائے گااور امریکہ کی جانب سے اسے جو احکامات دیئے جائیں گے وہ اس پر بلا چوں وچراعمل پیرا ہو گا امریکہ کی حالیہ افغان اور جنوب ایشیائی ممالک کیلئے وضع کردہ پالیسی دراصل اسی سوچ کی عکاس ہے حالانکہ امریکہ کے اس حالیہ دھمکی آمیز رویئے کی دنیا کی کسی بھی مہذب معاشرے اور پالیسی و ڈپلومیسی کی کسی بھی کتاب اور ڈکشنری میں گنجائش نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ جن سے کسی سنجیدگی اور خیر کی توقع رکھنا یقیناعبث ہے لیکن پھر بھی بطورا تمام حجت اگر وہ افغانستان کا قضیہ حل کرنے میں واقعتا سنجیدہ اور مخلص ہیں اور وہ اگرسمجھتے ہیں کہ پاکستان اس ضمن میں امریکہ کی حقیقی طور پر کوئی مدد کرسکتا ہے تو انہیں پھر نہ صرف پاکستان کے متعلق اپنا حالیہ دھمکی آمیز بیان واپس لینا ہو گااور افغان بحران کا کوئی ایسا قابل عمل حل بھی تسلیم کرنا ہو گاجس پر افغان قضیئے کے تمام اندرونی سٹیک ہولڈرز کیساتھ ساتھ افغانستان کے پڑوسی ممالک کے علاوہ دیگر علاقائی اوربین الاقوامی قوتیں بھی متفق ہوں۔