بریکنگ نیوز

شناخت


ماسکو میں ٹورسٹ بس میں اپنی سیٹ سنبھالی اور ائر فون کانوں میں ٹھونسے۔ بس روانہ ہوئی تو انگریزی میں کمنٹری شروع ہوئی۔ ہم ہر قابلِ ذکر مقام پر تھوڑی دیر کیلئے رک کر اسکی تاریخ سننے لگے‘ ایک بہت بڑی رہائشی عمارت کے سامنے بس رُکی تو معلوم ہوا کہ یہ سویت یونین کے دور میں سرکاری افسروں کیلئے بنی ہوئی سب سے بڑی رہائشی عمارت تھی۔ مجھے حیرت ہورہی تھی کہ کمنٹر ی میں ہر فقرے میں سویت یونین کے کمیونسٹ دور کو سیاہ دور کے طور پر پیش کیا جارہا تھا۔ ریڈ سکوائر میں زار کے دور کے چرچوں ، انکے راہبوں اور زاروں کے عیاشانہ لائف سٹائل دیکھے تو ہندوپاک کا مغل دور یاد آگیا۔ میں حیران تھا کہ کیسے دو دہائیوں میں ایک ملک کی نہ صرف سوچ بدلی بلکہ پورا لائف سٹائل بدلا۔ وہی ماسکو ہے جہاں کسی مذہب کا گزر نہیں ہوتا تھا اب چرچوں، مساجد اور دوسری عبادت گاہوں سے بھرا ہوا ہے‘ اس عید پر میں تو نماز کیلئے نہ جاسکا لیکن تمام مساجد میں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ کئی مقامات پر بڑے بڑے کلیساؤں نے اپنے دروازے مسلمانوں پر کھول دئے اور عید کے بڑے بڑے اجتماعات ہوئے۔ ظاہر ہے دو کروڑ کی آبادی میں پچیس فیصد مسلمان ہیں جو تاجکستان اور چچنیا وغیرہ سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔ روس کا نام سنتے ہی پیوٹن کا سخت جان ، مسکراہٹ سے محروم چہرہ نظر سامنے آجاتا ہے لیکن جب میں ایک ٹورسٹ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر کے طور پر ان سے گھل مل گیا تو ان میں وہی گرم جوشی اور مہمان نوازی پائی جو کہ مشرق کا خا صہ ہے۔

جس ہسپتال میں ہماری کانگریس تھی وہاں پر مریض ہوں کہ دوسرا عملہ، نہایت خوش اخلاق ملا۔ صوفیا ہسپتال روس کا سب سے جدید اور مہنگا پرائیویٹ ہسپتال ہے جو اسکے مالک نے اپنی بیوی کی یاد میں بنایا ہے۔ چونکہ ان کی بیگم صوفیا کینسر سے فوت ہوئی تھیں اس لئے یہ ہسپتال سرکاری ہسپتالوں سے بھی کینسر کے مریضوں کا مفت علاج کرتا ہے۔ کانفرنس کے دوران ہمارے ایک سینئر ساتھی کو فالج کا عارضی اٹیک ہوا تو اسی ہسپتال میں سارا علاج ہوا اور اگلے ہی دن وہ ہمارے درمیان موجود تھا۔ مجھے شناخت پر کسی کا ایک لیکچر یاد آگیا اور میرا دماغ گھومنے لگا۔ میں جب سے ماسکو آیا ہوں میرے سرخے دوست مجھے روزانہ سرخ سلام بھیج رہے ہیں جبکہ یہاں اسے گالی سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری طور پر بھی سٹالن اور اسکے بعد کے دور کی برائیاں کھلے عام کی جاتی ہیں اور کسی کے چہرے پر خوف کے آثار نظر نہیں آتے۔کسی قوم کو ایک سانچے میں فٹ کرنے کا یہی نقصان ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے سامنے کسی کی انفرادی حیثیت اور شناخت بھول جاتی ہے۔ مثال کے طور پر دنیا میں بدھ مت کا مذہب سب سے امن پسند سمجھا جاتا ہے۔ لیکن برما میں انہی بدھ راہبوں کا مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک پوری دنیا میں خوف پھیلا رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جس طرح دلائی لامہ نے اسکی مذمت کی ہے اسی طرح سارے بدھ اتنے ظالم نہیں ہوسکتے ۔ اسی طرح کسی بھی قوم ، ملک ، مذہب اور نسل کو مجموعی حیثیت میں ایک ہی رنگ کی عینک سے دیکھنا درست نہیں۔

ہم نے دیکھا کہ ایک غیر نسل کی ایک خاتون جرمنی سے آکر اپنی پوری زندگی کراچی میں گزارتی ہے اور اپنا سارا وقت جذام کے مریضوں کیلئے وقف کرتی ہے جن کو اپنے قریبی رشتہ دار بھی بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ بہادر خاتون وہیں پر وفات پاتی ہے ۔جس طرح سے دو بھائی ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں اور جس طرح دو بہنیں ایک دوسرے کی ضد ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح سے ہر کسی کو اپنی یک رنگی عینک سے دیکھنا نہایت تعصب کی بات ہے۔ ہر انسان کی اپنی شناخت ہے اور جب تک اسکے ساتھ وقت نہ گزارا جائے ، اسکے بارے میں بدگمانی بڑا گناہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوغت کے بعد بچے کی ذمہ داری بھی والدین پرسے ختم ہوجاتی ہے۔ حتیٰ کہ بیوی کے بارے شوہر ذمہ دار نہیں اور بیوی کو شوہر کے عمال کی جزا و سزا نہیں ملتی۔ یعنی ہر انسان کیلئے اُسکا اپنا کیا کرایا ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے ذرہ برابر اچھا کیا اُسی کیلئے بہتر ہے اور جس نے ذرا برابر بُرا کیا اسکا وبال اُسی کے اوپر ہے۔ پس ہمیں ہر انسان کو اسکی اپنی شناخت سے دیکھنا چاہئے۔ ناموں، جلد کی رنگت،قومیت یا زبان سے کسی کا لینا دینا نہیں۔بدگمانی ایک بہت بڑا فتنہ ہے جس نے ہمارے معاشرے میں بہت خرابی پیدا کی ہے۔ بے وجہ دوسروں کے بارے میں بری رائے بنانا نہ صرف آپس میں نفرت کی دیوار بناتا ہے بلکہ اپنی زندگی بھی عذاب ہوجاتی ہے۔