بریکنگ نیوز
Home / کالم / اپنے وسائل اور خیرات

اپنے وسائل اور خیرات

یہ ایک حقیقت ہے کہ اپنے گھر کی روکھی سوکھی کھا کر رہنے والے ہمیشہ غیرت مند ہوتے ہیں اور ان کو اگر کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچے تو وہ اسے صبر و شکر سے برداشت کرتے ہیں اس کیساتھ ہی وہ اپنے اصولوں پر جیتے ہیں انکو کوئی بھی شخص ان کے اصولوں سے نہیں ہٹا سکتا ۔ ان کا سر کسی کے آگے بھی جھک نہیں سکتا اس لئے کہ ان پر کسی کا احسان نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں جو اپنے پاؤں اپنی چادر سے زیادہ پھیلاتے ہیں تو ان کو اس کے لئے کسی نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں اور جو ان کی مدد کرتے ہیں ان کے سامنے آنکھ اُٹھا نہیں کرتی ۔اس لئے قرض لینے والے کو قرض دینے والے کی بہت سی باتوں کو ماننا پڑتا ہے۔جہاں تک ہمارے صوبے کا تعلق ہے ہمیں اس پر ہمیشہ فخر رہا ہے کہ ہم اسلامی شعائر پر بغیر کسی کے دباؤ کے پوری طرح عمل کرتے ہیں۔ہم میں لاکھ برائیاں ہوں گی مگر جہاں تک نماز روزے کا تعلق ہے ان پر پوری طرح عمل ہوتا ہے۔ہماری مسجدیں ہمیشہ نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں اور رمضان میں بغیر کسی دباؤ کے ہماری ننانوے فی صد آبادی اس کا پوری طرح اہتمام کرتی ہے۔ یہاں تک بھی دیکھا گیا ہے کہ بیماری کے باوجود کے پی کے رہائشی روزہ توڑنے کی سوچ بھی نہیں سکتے۔اب اس عمل کو ختم کرنے کے لئے دنیا کی بہت سی قوتیں ہمارے کلچر کو تباہ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔اس کے لئے وہ ہمارے ہاں مختلف طریقوں سے این جی اوز کے ذریعے امداد دیتی ہیں اور اس امداد پر کچھ شرائط رکھتی ہیں۔

ظاہر ہے کہ جب ہم امداد لینے کی حامی بھریں گے تو ہمیں اُن شرائط کو بھی ماننا پڑتا ہے جس کے لئے ہمیں کوئی ملک مدد فراہم کرتا ہے۔امداد کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے اس کے بھی مناظر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔سلیبس میں تبدیلی کے نام پر جو بھی امداد ملی ہے اس کے لئے ہمارے ہاں جو عمل ہوتا ہے اس کی حالت کچھ یوں ہے کہ پہلی دفعہ جو سائنس اور ریاضی کے لئے تبدیلی کی گئی اُس کی ورکشاپ میں ہم خود بھی شامل تھے۔ اس میں ہمارے ساتھ جو مختلف سکولوں سے اساتذہ بھیجے گئے ان میں اکثر کا یہ حال تھا کہ ان کا سائنس کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہ تھا۔ اس کے لئے اکثر سکولوں سے جو اساتذہ تشریف لائے وہ کوئی اسلامیات کے استاد تھے اور کوئی اردو اور فارسی کے استاد تھے۔ بات صرف یہ تھی کہ اس ورکشاپ میں شرکاء کو پیسے بھی ملنے تھے اس لئے جو جو بھی سکول ہیڈ ماسٹر کے قریبی اساتذہ تھے ان کے نام اس ورکشاپ کے لئے دے دیئے گئے۔ اسی طرح سے ان امدادوں کو استعمال کیا جاتا ہے اور عموماً یہ امداد قرض ہوتی ہے جن کی واپسی سود سمیت کی جانی ہوتی ہے۔ ہمارے صوبے میں ایک سروے کے مطابق ہمارے نصاب تعلیم میں جو جو تبدیلیاں کی جا رہی ہیں وہ ایک مسلمان بچے کو بد راہ کرنے کے مترادف ہے۔

نصاب تعلیم کا ساراکام این جی اوز کے سپرد کر دیا گیا ہے جس نے ہمارے تعلیمی نصاب کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ہماری ( PEN) نے جو جائزہ لیا ہے وہ تو ایسا ہے کہ ایک کالم کے ذریعے بیان ممکن نہیں ہے صرف چند چیدہ چیدہ باتیں اپنے قارئین کے سامنے رکھنے کی جسارت کر رہے ہیں جسے دیکھ کر آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارے طلباء کے ساتھ کیا کھلواڑ ہو رہا ہے اس کے باوجود کہ اسلامی نظام کی داعی جماعت اسلامی اس حکومت کا حصہ ہے۔چوتھی جماعت کے معاشرتی علوم کی کتاب کے ٹائٹل پر پاکستان کے نقشے سے کشمیر کو حذف کر کے ہندوستان کا حصہ دکھایا گیا ہے پانچویں کے نصاب سے بہت سے اسلامی اسباق نکال کر دوسرے اسباق شامل کر دیئے گئے ہیں۔ نویں دسویں کی سائنس کی کتابوں سے تمام مسلمان سائنسدانوں کے نام خارج کر دیئے گئے ہیں۔ (PEN)نے اس کا مکمل جائزہ لیا ہے حکومت سے گذارش کی ہے کہ ہمارے اسلامی تشخص پر چند ٹکوں کے لئے کلہاڑی نہ ماری جائے اور ہمارے بچوں کو اپنے مسلمان زعماء کی طرف نا بلد نہ کیا جائے۔

ان این جی اوز کی جانب سے ایک امدا د کو ہضم کرنے کے لئے پانچویں جماعت میں بورڈ کا امتحان لئے جانے کی کوشش ہے جو ہمارے نزدیک ایک لاحاصل اور تعلیمی بورڈوں پر ایک ناجائز بوجھ ڈالنے والا عمل ہے جسے فوری طور پر ختم ہونا چاہئے ۔ خدا کے لئے ہمارے بچوں کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں اور اپنے نصاب تعلیم کو اپنے ہاتھوں میں لیں اور این جی اوز کے مقاصد کو ناکام بنائیں۔جماعت اسلامی سے خصوصاً ہماری استدعا ہے کہ اپنے بچوں کو مغرب کا ایندھن نہ بنائیں۔ اس کی پوری تفصیل پرائیویٹ ایجو کیشن نیٹ ورک(PEN) کے پی کے پمفلٹ ’ایک خفیہ ایجنڈے کی تکمیل ‘ میں مل جائے گی ۔ ہمارے سلیبس کے ساتھ کھلواڑ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ایک عرصے سے ہم دیکھتے آرہے ہیں کہ ہر کوئی اپنی مرضی کے مضامین ٹھونس کر پسند نہ آنے والے مضامین اڑا دیتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سلسلہ اب بند ہو جانا چاہئے سلیبس میں پسند اور نا پسند کا کیا کام اس کا مقصد تو تعلیم و تربیت ہوتا ہے نہ کہ سیاسی پسند اور نا پسند۔